خواص لائف ٹائم بلیوپاسپورٹ دو،لائف ٹائم مراعات دو،لائف ٹائم استثنی دو
پاکستان کی پارلیمنٹ کچھ بھی دے سکتی ہےبس دوسری زندگی عنایت نہیں کرسکتی ورنہ وہ بھی تاقیامت دےدیتی جیسےعوام کاپیٹ کاٹ کرخواص کو مرعات دی جارہی ہیں ویسے ہی عام آدمی کی عمرخواص کولگانے کاکوئی انتظام ہوتا تواب تک 25کروڑلوگوں کی باقی عمرکاٹ کر کوئی پندرہ سودوہزارخواص کولگاچُکی ہوتی
شُکرہےمولاتیرا!زندگی موت کااختیاراپنےپاس رکھاہے۔
ایک طرف چابی کے کھلونے ہیں جو ایک ڈیوٹی سمجھ کر اسکرپٹ پڑھ رہے ان کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہے بس مصنوعی شان و شوکت بچانے کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ پروٹوکول نشے کی طرح ان کی رگ و پے میں سرایت کرچکا ہے یہ اب اس کے بغیر زندہ نہیں رہے سکتے اس لیے سچ و جھوٹ ان کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا خوشامد کے اس حد تک عادی ہوگئے ہیں کہ کاسہ لیسی اب بیف بریانی کی طرح ذائقہ دار لگتی ہے عوام ان کے بارے میں کیا سوچتی ہے ان کو پروا نہیں ہے بس طاقت کے سہارے کھڑے رہنا ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے جس دن طاقت نے ہلکی سے لرزش دکھائی دھڑام سے انھوں نے گرجانا ہے اسکرپٹ پڑھنے والوں کی ایک صلاحیت یہ ہوتی ہے کہ وہ متن دیکھ کر اسکرپٹ نہیں پڑھتے اس لیے جب بھی جو اسکرپٹ ملے بس ایک تابعدار کی طرح پڑھتے ہیں چاہے ان کا نیا اسکرپٹ پرانے اسکرپٹ کے برخلاف ہی کیوں نہ ہو
دوسری طرف ایک سیاسی اشرافیہ ہے جس کی زندگی اس کے زاتی و سیاسی مفاد سے شروع ہوکر اس پر ختم ہوجاتی ہے اس اشرافیہ نے اپنے مفادات کے لیے ملک کا بیڑہ غرق کردیا عوام کی زندگیوں کو جہنم بنادیا آنے والے نسلوں کو برباد کردیا مگر اس بے رحم ، سنگدل اور سیاسی اشرافیہ جو ایک عالمی مافیا کی طرح کام کرتی ہے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا اپنی کئی نسلوں کے لیے اثاثے بنانے والی یہ سیاسی مافیا عوام کو جذباتی نعروں میں الجھانے کا فن خوب جانتی ہے عوام کو شعوری طور پر کمزور رکھنا اس اشرافیہ کا طرہ امتیاز ہے اس کو اندازہ ہے اگر یہ نظام تبدیل ہوگیا تو اس کی سیاست برباد ہوجانی ہے ملک کا موجودہ تعفن زدہ نظام اس کے زہریلے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے وہ زہریلے مفادات جو عام انسان کو ڈنک مارکر اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کردیتے ہیں جس سے عام انسان کو غربت ، ناانصافی ، جہالت ، بدحالی ، بنیادی سہولیات سے محروم علاقے ، صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی ، بے روزگاری جیسے عذاب مسئلے بھی نہیں لگتے عام آدمی جس کو اپنے ملک میں اپنی صحت کی سہولت نہ ہو مگر وہ اپنے لیڈر کے بیرون ملک میں علاج کرانے کی وکالت کرنے لگتا ہے اس وقت یہ سیاسی مافیا کھل کر اور چھپ کر دونوں طریقے سے اس نظام کو اس طرح بچارہی ہے جیسے مرغی اپنے پروں میں اپنے بچے چھپاتی ہے
اس دگرگوں حالات اور پرآشوب دور میں صرف ایک انسان ہے جو عام انسان کی جنگ لڑرہا ہے اس انسان کا نام حافظ نعیم الرحمان ہے آپ طنز کرنے اور مزاق اڑانے میں جتنا ملکہ رکھتے ہیں اپنے اس ہنر و فن کے سارے کمالات اس انسان پر آزمائیں ماضی سے دلائل تلاش کرکے نت نئے جملے تخلیق کریں اور اس پر مخالفت کے تیر برسا دیں مگر اتنا ضرور سوچ لیں اس کے علاوہ کوئی ایسا سیاستدان ہے جو سڑک پر نکل کر مہنگائی کے خلاف جنگ لڑرہا ہو ، اشرافیہ کی عیاشیوں کے باعث مہنگائی کے سائے تلے ذلت بھری زندگی آپ کوگزارنا پڑرہی ہے جس مہنگائی کے باعث آپ اپنے بچوں کی معصوم خواہشات پر اپنے ہاتھ بھینچ کر رہے جاتے ہیں اپنی بنیادی ضروریات کو آپ لگژری سمجھ کر ٹال دیتے ہیں جس مہنگائی سے آپ غصے اور جھنجلاہٹ کا شکار ہورہے ہیں دفتر میں اسٹریس لیول بڑھ رہا ہے مہنگائی جس سے آپ کے گھر میں آپ کے اپنے پیاروں سے لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے ہیں آپ بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
پورے ملک میں مہنگائی کے خلاف حافظ نعیم کے علاوہ کسی اور کی آواز ہو تو آپ حافظ نعیم کے بجائے اس کا ساتھ دیں اور کھل کر دیں اگر کوئی آواز نہیں ہے تو موت کا سائرن بجانے والی مہنگائی کے باعث خودکشی سے مرنے سے بچنے کے لیے اس واحد آواز کا ساتھ ضرور دیں کئی ہفتوں سے جماعت اسلامی کے کارکن ملک بھر کے شہروں میں بیٹھے ہیں تھوڑی دیر کے لیے جماعت اسلامی کے لیے نہیں صرف اپنے لیے وہاں جاکر بیٹھ جانے سے آپ جماعت اسلامی کے کارکن نہیں ہوجائیں گے بس اتنا ہوگا کہ مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی اس آواز کا حوصلہ بڑھ جائے گا اس کو تھوڑی سی توانائی مل جائے گی ایک بات یاد رکھیے گا اگر یہ آواز تھک کر خاموش ہوگئی تو ملک میں پھر صرف چابی کے کھلونے رہے جائیں گے یا سیاسی اشرافیہ ہی بچے گی
تین ستمبر کو مہنگائی کے خلاف ملک گیر ہڑتال ہے آپ چاہیں تو اپنی استعداد کے مطابق ساتھ دے سکتے ہیں
باقی آپ کی مرضی
ایک نیک دل اور درد رل رکھنے والے انسان نے یہ کیس بھیجا ہے۔
"السلام علیکم!
بھائی جان، میں *** بات کر رہا ہوں ، تحصیل و ضلع لیہ سے۔ ہمارے ہاں لیہ، کوٹ ادو، مظفرگڑھ میں 2010ء میں سیلاب آیا تھا۔ اس سیلاب میں ایک بچہ ملا تھا، جس کی عمر اُس وقت تقریباً 8 سے 10 سال تھی۔ اب اُس کی عمر تقریباً 26 سے 27 سال ہو گی۔
وہ بچہ بول نہیں سکتا تھا، گونگا ٹائپ تھا۔ جو الفاظ بولتا تھا، اُن کی سمجھ نہیں آتی تھی، البتہ کچھ الفاظ سمجھ آ جاتے تھے، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اُس کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ وہ سُنتا اور ہر بات سمجھتا ہے۔
وہ اپنا اور والد صاحب کا نام لکھ سکتا ہے۔ اپنا نام ارشد لکھتا ہے اور والد کا نام عاشق لکھتا ہے۔
یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم پانچ بہن بھائی تھے۔ ایک بھائی، یعنی میں اکیلا، دو بہنیں مجھ سے بڑی تھیں اور دو مجھ سے چھوٹی تھیں۔ اشاروں سے بتاتا ہے کہ ابو ٹریکٹر چلاتے تھے۔
یہ کافی سمجھدار بچہ ہے۔ اگر کوئی بندہ اسے پیسے دے تو یہ اکٹھے کر کے کوئی بکری یا بکری کا بچہ خرید لیتا ہے۔
جب یہ ملا تھا تو اُس وقت بالکل ٹھیک تھا، لیکن جہاں رہتا تھا وہاں اُن کے کام جانوروں کو چارہ ڈالنا کرتا رہتا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ ٹوکا مشین میں آ گیا اور آدھا ہاتھ کٹ گیا۔
اگر ہو سکے تو اس بچے کے والدین کو ڈھونڈنے کے لیے یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ شاید کسی ماں باپ کو اُن کا بچھڑا ہوا بیٹا واپس مل جائے۔
اللہ رب العزت آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 🤲"
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ا
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
23 Aug 2026
#waliullahmaroof
پاکستان میں کرپٹ افسروں کو نہیں ایماندار افسروں کو سزا ملتی ھے
کوئٹہ میں تعینات کسٹمر افسر کرم الہی نے قلعہ سیف اللہ سے 700 کلوگرام چاندی پکڑی کچھ ماہ بعد لاہور خط لکھا کہ ہمارے پاس جگہ کم ھے یہ چاندی لیجائیں 2 گاڑیوں میں چاندی ائیرپورٹ روانہ کی گئی جب چاندی لاہور پہنچی تو لاہور والوں نے کہا آپ نے 700 کلوگرام کہا تھا یہ تو 400 کلوگرام ھے سی سی ٹی وی ویڈیوز دیکھی گئی تو چاندی لیجانے والی ایک پرائیویٹ گاڑی گلی میں گھس گئی وہاں سے سیم گاڑی قافلے میں شامل ھو گئی لیکن ایف آئی اے نے اُسی افسر کو گرفتار کر لیا جس نے چاندی لاہور لیجانے کا خط لکھا تھا
میرے بھائی وہ بالکل جاہل نہیں تھے اور انہوں نے پیسے کوئی ایک دن میں نہیں بھیجے۔ پہلے آرٹیکل ہی بھیجا۔ پہلی پیمنٹ 27 فروری یعنی 3مہینے کے بعد کی وہ بھی جب میں نے کہا ایڈوانس کے بغیر نہیں چھاپ رہے تب بھیجی۔
An Israeli air attack on an apartment in Gaza City’s Sabra neighbourhood set the building on fire, killing five people, including three children who couldn’t be saved from the flames. Israel’s near-daily bombing of Gaza is in violation of the October 2025 ceasefire.