مجھ پر الزام لگا کر مجھے ابتلاء میں مبتلا کیا گیا جب میں نے دفاع کیا تو بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں ___ جب بنگال میں آپ سرینڈر کر رہے تھے تو اُس وقت انڈیا کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ تمہیں شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرنے پر؟ مولانا فضل الرحمن
کہتے ہیں نا کہ: "کب تم پر یہ راز کھلا، انکار سے پہلے یا اقرار کے بعد؟"
آپ میری سالہا سال سے تقاریر سنتے آئے ہیں۔ میں اپنی قوم سے کیا کہنا چاہتا ہوں، میں اپنے کارکنوں سے کیا کہنا چاہتا ہوں، اور میں جہاں پر کھڑا ہوں، اس مناسبت سے بات کرتا ہوں۔ اگر میں اپوزیشن میں ہوں، تو اپوزیشن مستقل ایک پلیٹ فارم ہے؛ جمہوری، پارلیمانی، آئینی اور قانونی۔ اس پلیٹ فارم سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، میں قوم کو کیا کہوں، میں اپنے کارکنوں کو کیا کہوں، یہ تمام تقریریں میری اسی حوالے سے ہوتی رہی ہیں۔
اور اب جو 2024 کا الیکشن ہوا، اور اس میں جو کچھ ہوا، اس پر جو ہم نے ردِعمل دیا، بیش بہا آپ نے میری تقاریر سنی ہیں۔ میرے خیال میں ان کے مضامین میں، میرے موقف میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کچھ چیزیں آگے ہوں، کچھ پیچھے ہوں، کچھ جملوں، الفاظ اور تعبیرات میں انیس بیس کا فرق ہو، لیکن میسج ایک ہی ہوتا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ مجھے اس عمر میں آ کر کوئی یہ سمجھائے کہ فوج کیا ہے، وطن اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے قربانیاں کیا چیز ہیں، تو یہ طفلِ مکتب مجھے یہ چیزیں سمجھائیں گے؟
جو کچھ ہوا، اڑتالیس گھنٹے تک کچھ نہیں تھا۔ معمول کے مطابق ہمارا سیاسی عمل جاری تھا، اور اس کے بعد یکدم انہوں نے میری ایک گھنٹے کی تقریر میں سے ایک جملہ اٹھا کر پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا۔ یہ بددیانتی ہے۔ نہ اس میں شہداء کی توہین کا کوئی پہلو ہے، نہ خدا کرے کہ ہم اس قسم کی باتیں سوچنے لگ جائیں۔
اور اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تو پبلک میں آپ جائیے، شاید وہاں پر ان کی پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر سوال اٹھ رہے ہوں، لیکن 2001 سے لے کر آج تک پچیس ��ال پورے ہو رہے ہیں کہ جمعیۃ علماء اسلام کی پالیسیوں میں جو تسلسل ہے، ملک کے ساتھ کھڑے رہنا، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنا، آئین کے ساتھ کھڑے رہنا، ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے رہنا، اور جہاں میرے اکابر نے ہمیں چھوڑا ہیں، وہیں سے ہم نے ان کے نقشِ قدم کو لیا اور آگے بڑھتے رہے ہیں۔
تو اس دوران جمعیۃ علماء اسلام پبلک سے کیا بات کہہ دیتی؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنے کارکنوں کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنی قوم کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق کی سیاست کو غیر شرعی نہیں کہا؟
پاکستان کے اندر علماء کرام کا ایک اجماع ہے، اور اس کا تعلق تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے ��ے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام، جو علماء کرام کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز ہیں، وہاں سے جو اجماعی رائے اٹھتی ہے، جمعیۃ علماء اسلام پبلک میں اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس پر تو دو رائے ہی نہیں ہیں۔
اور پھر اس پر آپ خود اندازہ لگائیں کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں خود جمعیۃ علماء اسلام کے اپنے دو سے ڈھائی سو علماء و اکابر شہید ہوئے ہیں، اور آپ الزام لگا رہے ہیں کہ تمہیں شہداء کی قدر نہیں؟ جب بات چھڑ��ی ہے، تو پھر بات چھڑتی ہے۔
تو ہم نے نہ ان کے الزام کو تسلیم کیا ہے، نہ اس کے سامنے کوئی کمزوری دکھائی ہے۔ بڑے خود اعتمادی کے ساتھ میں سیاست کرتا ہوں، میری جماعت بڑے خود اعتمادی کے ساتھ سیاست کرتی ہے۔ اور یہ کون ہوتے ہیں جو ہمیں سیاست سکھلائیں گے، ہمیں وطن کی محبت سکھلائیں گے، اور ہمیں شہداء کی قدر سکھلائیں گے؟ یہ لوگ سکھلائیں گے؟
مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ اب ہم ان سے متاثر ہو کر سیاست کریں گے، ان سے مرغوب ہو کر سیاست کریں گے؟ جن کو ہم سیاست سکھانا چاہتے ہیں، جن کو ہم ملک کی قدر و قیمت سکھانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے جی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
#فخر_ملت_مولانا
#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#مہنگائی_کا_جواب_دو
کہتے ہیں نا کہ: "کب تم پر یہ راز کھلا، انکار سے پہلے یا اقرار کے بعد؟"
آپ میری سالہا سال سے تقار��ر سنتے آئے ہیں۔ میں اپنی قوم سے کیا کہنا چاہتا ہوں، میں اپنے کارکنوں سے کیا کہنا چاہتا ہوں، اور میں جہاں پر کھڑا ہوں، اس مناسبت سے بات کرتا ہوں۔ اگر میں اپوزیشن میں ہوں، تو اپوزیشن مستقل ایک پلیٹ فارم ہے؛ جمہوری، پارلیمانی، آئینی اور قانونی۔ اس پلیٹ فارم سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، میں قوم کو کیا کہوں، میں اپنے کارکنوں کو کیا کہوں، یہ تمام تقریریں میری اسی حوالے سے ہوتی رہی ہیں۔
اور اب جو 2024 کا الیکشن ہوا، اور اس میں جو کچھ ہوا، اس پر جو ہم نے ردِعمل دیا، بیش بہا آپ نے میری تقاریر سنی ہیں۔ میرے خیال میں ان کے مضامین میں، میرے موقف میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کچھ چیزیں آگے ہوں، کچھ پیچھے ہوں، کچھ جملوں، الفاظ اور تعبیرات میں انیس بیس کا فرق ہو، لیکن میسج ایک ہی ہوتا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ مجھے اس عمر میں آ کر کوئی یہ سمجھائے کہ فوج کیا ہے، وطن اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے قربانیاں کیا چیز ہیں، تو یہ طفلِ مکتب مجھے یہ چیزیں سمجھائیں گے؟
جو کچھ ہوا، اڑتالیس گھنٹے تک کچھ نہیں تھا۔ معمول کے مطابق ہمارا سیاسی عمل جاری تھا، اور اس کے بعد یکدم انہوں نے میری ایک گھنٹے کی تقریر میں سے ایک جملہ اٹھا کر پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا۔ یہ بددیانتی ہے۔ نہ اس میں شہداء کی توہین کا کوئی پہلو ہے، نہ خدا کرے کہ ہم اس قسم کی باتیں ��وچنے لگ جائیں۔
اور اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تو پبلک میں آپ جائیے، شاید وہاں پر ان کی پالیسیوں اور حکمتِ عملی پر سوال اٹھ رہے ہوں، لیکن 2001 سے لے کر آج تک پچیس سال پورے ہو رہے ہیں کہ جمعیۃ علماء اسلام کی پالیسیوں میں جو تسلسل ہے، ملک کے ساتھ کھڑے رہنا، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنا، آئین کے ساتھ کھڑے رہنا، ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے رہنا، اور جہاں میرے اکابر نے ہمیں چھوڑا ہیں، وہیں سے ہم نے ان کے نقشِ قدم کو لیا اور آگے بڑھتے رہے ہیں۔
تو اس دوران جمعیۃ علماء اسلام پبلک سے کیا بات کہہ دیتی؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنے کارکنوں کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنی قوم کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق کی سیاست کو غیر شرعی نہیں کہا؟
پاکستان کے اندر علماء کرام کا ایک اجماع ہے، اور اس کا تعلق تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام، جو علماء کرام کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز ہیں، وہاں سے جو اجماعی رائے اٹھتی ہے، جمعیۃ علماء اسلام پبلک میں اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس پر تو دو رائے ہی نہیں ہیں۔
اور پھر اس پر آپ خود اندازہ لگائیں کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں خود جمعیۃ علماء اسلام کے اپنے دو سے ڈھائی سو علماء و اکابر شہید ہوئے ہیں، اور آپ الزام لگا رہے ہیں کہ تمہیں شہداء کی قدر نہیں؟ جب بات چھڑتی ہے، تو پھر بات چھڑتی ہے۔
تو ہم نے نہ ان کے الزام کو تسلیم کیا ہے، نہ اس کے سامنے کوئی کمزوری دکھائی ہے۔ بڑے خود اعتمادی کے ساتھ میں سیاست کرتا ہوں، میری جماعت بڑے خود اعتمادی کے ساتھ سیاست کرتی ہے۔ اور یہ کون ہوتے ہیں جو ہمیں سیاست سکھلائیں گے، ہمیں وطن کی محبت سکھلائیں گے، اور ہمیں شہداء کی قدر سکھلائیں گے؟ یہ لوگ سکھلائیں گے؟
مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ اب ہم ان سے متاثر ہو کر سیاست کریں گے، ان سے مرغوب ہو کر سیاست کریں گے؟ جن کو ہم سیاست سکھانا چاہتے ہیں، جن کو ہم ملک کی قدر و قیمت سکھانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے جی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
@MoulanaOfficial
#فخر_ملت_مولانا
#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#مہنگائی_کا_جواب_دو
تو ہم نے نہ ان کے الزام کو تسلیم کیا ہے، نہ اس کے سامنے کوئی کمزوری دکھائی ہے۔
بڑے خود اعتمادی کے ساتھ میں سیاست کرتا ہوں، میری جماعت بڑے خود اعتمادی کے ساتھ سیاست کرتی ہے، اور یہ کون ہوتے ہیں جو ہمیں سیاست سکھائیں گے اور ہمیں وطن کی محبت سکھائیں گے اور ہمیں شہداء کی قدر و قیمت سکھائیں گے ؟ یہ لوگ سکھائیں گے ؟
مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ اب ہم ان سے متاثر ہو کر سیاست کریں گے، ان سے مرعوب ہو کر سیاست کریں گے جن کو ہم سیاست سکھانا چاہت�� ہیں، جن کو ہم ملکی قدر و قیمت سکھانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے۔
#فخر_ملت_مولانا #سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس #معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو
پچھلے سال 25 اگست کو ضلع کوہستان میں پانچ نوجوان سیلاب میں پھنس گے پانچ گھنٹے یہ امداد کے لیے پکارتے رہے پھر لہریں ان کو بہا کر لے گئیں سارے بے چارے مارے گئے
سوشل میڈیا پر یوں ہی شور مچا مگر صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر نہی پہنچا کیونکہ وہ بنی گالہ مہاتما نیازی کا رکشہ بنا ہوا تھا
اور یہ حبیث آج ریسکیو آپریشن کا مذاق اڑا رہے ہیں
ہمیں یاد ہے وہ زرا زرا