ایک سے بڑھ کر ایک AI videos آرہی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک concept videos گولی مت چلانا کے ٹاپک پر آرہی ہیں۔ ساری ٹرک کی بتیاں عسکری صحافیوں کی بجھا کر واپس کر رہے ہیں ۔ قاسم اور سلیمان تو تھے ہی میدان میں اب @KhanShershah اور @Shahrez_KhanPK بھی میدان میں ہیں۔ کل ورٹول جلسے میں شاہریز نے وہ سب کیا جو علیمہ خان، ڈاکٹرعظمیٰ اور نورین نیازی کیا کرتی تھی۔ انصافینز کے سگنیچر بیانیے بھی عروج پر ہیں، ہر کوئی اپنا بیسٹ دے رہا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ سوشل میڈیا از آن فائر 🔥 ماشاءاللہ
سلام ہے تمام ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو
منزل قریب ہے انشاءاللہ!
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
یا تو عاصم منیر رہے گا یا پاکستان رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ جتنا آپ پریشان ہو رہے ہو، مجھے تو کچھ دن کے مہمان لگ رہے ہیں۔
آج کے دن عمران خان ہی پاکستان ہے۔ آپ پاکستان کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتے۔
یہ جنگ حسینیت اور یزیدیت کی ہے۔ حق اور باطل کی ہے۔ باطل کا کوئی نام لیوا نہیں رہے گا۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں
آر پی او اور ڈی پی او کی تعیناتی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظوری سے کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی اپنے ہی کیے گئے رفارم کو واپس کررہی ہے اس کے پیچھے وجہ کیا؟
عاصم منیر کے پاس دو راستے ہیں یا سرنڈر کرے یا مارشل لا لگائے۔
اگر مارشل لا بھی لگا تو یہ ایک کمزور ترین مارشل لا ہوگا۔
عاصم منیر صاحب! میلہ لُٹنے والا ہے۔ یہی کنٹینر آپ کے گلے پڑیں گے۔
میری ساری عمر تحریکوں میں گزری ہے۔ یہ تحریک تو آپ نہیں روک سکتے۔ مشورہ ہے بندوقیں پھینکیں، اور مشورہ اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ عاصم منیر کے دیرینہ ماموں بابر شاہ میرے ورکر تھے۔ اب تو وہ اور وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف کے والد بشیر الدین محمود ہمیشہ اسلام آباد میں میرے گھر آ جایا کرتے تھے۔ اگر میں گھر پر موجود نہ ہوتا تو میرے نوکر گھر پر ہوتے اور وہ آ کر ان کے پاس بیٹھے رہتے۔
اس لیے میرا مشورہ خلوصِ دل سے ہے۔
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا ):
علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی، تینوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ آپ کی ہمت اور جرات کو سلام۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں، سہیل آفریدی، آپ بھی آپ کو یہ جنگ جیتنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اتنا ڈرا ہوا کسی ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔ یہ بیچارے کنٹینر جمع کرتے رہیں گے اور احتجاج میں یہی کنٹینر ان کی شکست کا باعث ہونگے۔
عمران خان کے خلاف پاکستانی ڈرامہ بنانے کے پیچھے کون لوگ ہیں ؟ سیاست دانوں کو چھوڑ دو ؟
لوگ سالوں نوسربازوں سے دھوکے کھا کر آخر لنکن ڈھونڈ ہی لیتے ہیں منڈیلا مل ہی جاتا ہے ! پاکستانی اپنی نسلیں جرنیلوں زرداریوں اور شریفوں کے کے پیچھے برباد کر کے عمران خان تک پہنچ ہی گئے ہیں !
اڈیالہ جیل سے ایک اور اہم خبر :
عمران خان کی پیچھلے ہفتے اپنی ہمشیرہ سے جیل میں گفتگو:
یہ ایک ٹریپ ہے ، مجھے ہسپتال لے کر جائے یا نا لے کر جائے ، مجھے رہا کروانے کا اعلان ہی کیوں نا کر دے ، سہیل آفریدی 27 کو لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے ۔ جب تک میرا ڈائریکٹ میسیج نہیں آجاتا کوئی واپس نہیں جائے گا نا ہی باہر کوئی بھی لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتا ہے نا ہی کوئی رد بدل کر سکتا ہے ، اس کا فیصلہ صرف میں کرونگا ۔
عمران خان نے لفظ “ٹریپ “ کا خصوصی ذکر کیا ۔
کوئی بھی 27 سے پہلے گرفتار نا ہو ، سب نے 27 کو احتجاج کے لیے نکلنا ہے اور 27 تک کسی بھی صورت گرفتاری نہیں دینی ، جو بھی گرفتار ہوا وہ جیل جاتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے
پنجاب سندھ اور بلوچستان بھی بھر پور مزاحمت دکھائے اور اپنے صوبے بند کرے اور جو 27 کو مزاحمت نا دکھا سکے وہ اپنے عہدے چھوڑ دے کیونکہ مجھے اس تحریک کے لیے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے ۔
”اوپر سے آرڈر ہے“ کہنے والوں کے لیے اوپر سے پیغام :
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں ناں ؟"
بچوں کے سامنے سر جھکانے سے بہتر ہے ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ۔۔ کیونکہ وقت ظالم کو اسی دنیا میں بے نقاب کر دیتا ہے۔
ضمیر زندہ ہو تو آواز آ ہی جاتی ہے !
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا .
ان شاء اللہ، 27 ستمبر کو ہم اسلام آباد پہنچ کر تمام بند راستے کھول کر ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے. “کہ اسلام آباد میں کوئی راستہ بند نہ ہو”
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
Once for all تمہارے باپ کا پاکستان ہیں؟ Once for all ہم کوئی انڈیا سے آئے ہیں ؟ Once for all ہم کیا اسرائیلی ہیں؟ Once for all کا مطلب کیا ہے؟کیا کرنا چاہتے ہو؟ مقصد کیا ہے؟ مطلب کیا ہے Once for all کا؟ Once for all ہمیں نہ کہو،جس کو دوبارہ تم لوگوں نے آباد کیا ہے پاکستان میں ان دہشتگردوں کا بندوبست کرو، سہیل آفریدی کا محسن نقوی کی پریس کانفرنس پر ردعمل
حامد میر صاحب، یہ محض کمزور تقابل نہیں بلکہ دانستہ حقائق کو مسخ کرنا ہے۔
بنیادی فرق واضح کیجیے:
بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو فعال سیاسی قیادت تھیں، ریاستی جبر کے مقابل کھڑی رہنما۔
جبکہ عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی شہری ہیں—نہ کوئی عہدہ، نہ کوئی تحریک کی قیادت۔
حقائق یہ ہیں:
عمران خان کے دور میں کسی خاتون کو 3MPO جیسے کالے قانون کے تحت نہیں اٹھایا گیا۔
آج غیر سیاسی خواتین کو 3MPO کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے—یہ کھلی شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔
9 مئی کے بعد کی زمینی حقیقتیں بھی دیکھ لیں:
پنجاب میں 84 خواتین ایک سال تک جیلوں میں بند رہیں۔
ارکانِ اسمبلی کی بیٹیوں تک کو اٹھایا گیا—کیا وہ بھی سیاسی قیادت تھیں؟
اور سزاؤں کا تناسب دیکھیے:
ڈاکٹر یاسمین راشد کو ساڑھے تین سو سال کی مجموعی سزائیں سنائی گئیں۔
عالیہ حمزہ کو 10 سال،
صنم جاوید کو 5 سال،
عائشہ بھٹہ کو 7 سال،
خدیجہ شاہ کو 7 سال سزا سنائی گئی،
جبکہ فلک جاوید دو سال سے زائد عرصہ سے جیل میں ہیں۔
اس کے ساتھ:
عمران خان کی اہلیہ کو 10 سال قید سنائی گئی۔
ان کی بہنوں پر دہشتگردی دفعات لگا کر سینکڑوں مقدمات قائم کیے گئے۔
کم عمر بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا۔
اب سوال سیدھا ہے:
آپ سیاسی رہنما خواتین اور غیر سیاسی گھریلو خواتین کو ایک ہی ترازو میں کیسے تول سکتے ہیں؟
یہ تقابل نہیں،
یہ ایک گمراہ کن اور منافقانہ بیانیہ ہے۔
حضور، آپ سے اس سطح کی منافقت کی امید نہیں تھی۔
@HamidMirPAK