The military regime of Asim Munir abducted Imran Khan’s whole family. His three sisters their children even little infants. This is cruel like Hitler. The world must speak. Shameful how western democracies close their eyes on all these violations of rule of law democracy human rights and freedom of speech. In Pakistan they are rather empowering this regime. The world must speak.
”علیمہ خان گرفتار
شایان گرفتار
ایم این اے جمال احسن خان گرفتار
ایم این اے میاں غوث گرفتار
حسان نیازی کی بہن اور بہنوئی گرفتار
شکیل خان پر فائرنگ اور اغواء کرنے کی کوشش
پچھلے 3 گھنٹوں میں یہ سب ہوا، پھر بھی لیبل لگتا ہے کہ تحریک انصاف والے انتشاری ہیں “
Via @Zafaro07_
Imran Khan’s sister Aleema Khan was snatched off the streets of Lahore. Family phones went dead. Her car appeared at a police station. Only then did the regime tell the media she had been arrested.
There was no fresh criminal case that justified grabbing her this morning. They used 3-MPO, preventive detention without charge,to disappear a woman whose only offense is speaking for her imprisoned brother.
This is how Field Marshal Asim Munir and his fellow generals are turning Pakistan into another North Korea, pick up family members first, invent the paperwork later, and dare the world to notice.
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government - abducting people, terrorising families and trampling human rights, due process and the rule of law while pretending to stand for democracy.
First they imprisoned my father. Now they are coming after his family.
We demand immediate access to her for her family and lawyers, full disclosure of where she is being held, and her immediate release.
The world cannot keep looking away from what is happening in Pakistan.
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
تین دن قبل سوات کے ایک رہائشی علاقے سے پی ٹی آئی سوات کے بانی کارکن، پیرا میڈیکس ایسوسیشن کے مسلسل تین دفعہ منتخب صدر اور ۲۰۱۳ سے میرے حلقے کے سیکٹری خورشید دادا کو سرشام تین ویگو ڈالے اٹھا کر لے گئے۔ تین دن سے منتخب اراکین پولیس سے جواب طلب کررہے ہیں۔ پولیس آئ ایس آئ کے مقامی دفاتر سے۔ دونوں کے مطابق ان کو اپنے علاقے میں ہونے والی کاروائ کے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔ مگر آف دا ریکارڈ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سرزمینِ بے آئین پر سیکٹر کمانڈر اسلام آباد بریگیڈئیر فہیم (جی ہاں وہی بریگیڈئیر فہیم جس کا نام ارشد شریف کو ہراساں کرنے اور اس کے بہیمانہ قتل کی ایف آئ آر کی درخواست میں بھی شامل ہے) کے کارندے دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کی جہاں مرضی ہو، جس کسی کو بھی اٹھا کر جہاں بھی لے جائیں اور لاپتہ کردیں۔ خورشید دادا کا کیس اکلوتا اور پہلا کیس نہیں ہے گذشتہ کچھ عرصہ میں مجھ سے وابستگی کے شُبے میں متعدد افراد کو اسی طرح سے غیر قانونی طور اٹھایا اور ہراساں کیا گیا ہے اور ان کے عیال کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ پولیس لاعلم۔ حکومتی اہلکار بے بس۔ عوامی نمائندے کسی خاطر میں نہیں۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے پیٹی بھائی بھی بے خبر۔
یہی طرزِ عمل بلوچستان میں روا رکھ کر آج بلوچستان کے حالات اس نہج پر پہنچا دیے گئے ہیں کہ جن کی قربانیاں ازبر کرا کرا کر ملک کے ہر ادارے اور تمام وسائل پر اپنے غیر قانونی غیر آئینی قبضے کا جواز فراہم کیا جاتا ہے انہی جیسے ڈیڑھ درجن جوانوں کی لاشیں راتوں رات خاموشی سے جنازے پڑھوا کر آبائ علاقوں کو بھجوائی جارہی ہیں مگر کچھ نا سیکھ کر باقی پاکستان کو بھی بلوچستان بنانا ہے۔ طاقت کی ہوس میں اندھا ادارہ صرف پاکستان کو مسلسل اس دلدل میں گرائے جارہا ہے جہاں عوام کو اپنے اداروں سے اپنے حقوق کے بعد اپنے مال اور جان کی حفاظت کا سامان خود کرنے پہ غور کرنا پڑرہا ہے۔
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
حکومتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔ پچھلے دنوں اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبروں کے باوجود بحث خبر دینے والوں پر فوکس رہی، جب کہ اُس خبر کی اب تصدیق ہورہی ہے۔ آنکھ ضائع ہوگئی، ناحق اسیری کو تین سال ہوگئے، ملاقاتیں بند کروائی گئیں، جان لیوا حملے ہوئے اور اب کبھی آپ کی صفوں کے اندر سے نئی بحث شروع کروا کر اصل ایشو کا رخ موڑ دیا جاتا ہے کبھی کوئی شوشہ چھوڑ کر تو کبھی کوئئ تماشہ لگا کر۔ آہستہ آہستہ سب نارملائز ہوچکا ہے۔ لندن پلان سے لے کر آج تک کے تمام واقعات، حادثات اور حالات سے اگر ابھی تک کے تمام حالات اور واقعات کو جانتے ہوئے بھی، ان کے مضموم مقاصد کے متعلق اگر کسی کی آنکھ نہیں کھلتی، نشانہ سیدھا نہیں رکھتا، فوکس نہیں رہتا تو پھر وہ بھی کسی نہ کسی انداز سے سہولت کاری کرکے پاکستان کے مستقبل اور عمران خان کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے خان صاحب نے کہا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز یعنی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم تک رسائی اور انصاف کے حصول کے لیے کیسسز کی سنوائی تک سپریم کورٹ کے باہر پر امن دھرنا دیا جائے۔خان صاحب کی ہدایت بروقت پہنچائی بھی گئیں اور یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
لاحاصل بحثوں میں پڑنے اور خبر دینے والوں کا زائچہ تیار کرنے کے بجائے خان صاحب کی ہدایت پر عمل کریں۔
کیا وہ نا حق مقید ہیں؟ جی۔
کیا خان صاحب کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ ان کی تحویل میں ہیں؟ جی۔
کیا ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوئ ہیں؟ جی۔
کیا اسیری سے قبل صحت مند ہونے کے باوجود ان کی آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا؟ جی۔
کیا ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کن معلومات موصول ہورہی ہیں؟ جی۔
کیا عمران خان کی کسی سے ملاقات کروائ گئی ہے؟ نہیں۔
کیا عمران خان کی آنکھ میں خرابی کی خبر سے لے کر آنکھ ضائع ہونے اور ابھی تک ذاتی ڈاکٹرز یا کسی سے ملاقات ہوئی؟ نہیں۔ تو جب ان کے صحتمند ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی تو بار بار ان کی جان کو لاحق خطرات کا علم ہونے کے باوجود تردید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کی فوری ہسپتال منتقلی ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں تمام ٹیسٹ اور علاج کا سوال اہم ہے، ناحق اسیری ختم ہونا اہم ہے یا دیگر بحث؟
ہر فورم استعمال کرکے فوری ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں علاج اور کیسسز کی سنوائی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد یہی عمران خان کی ہدایت تھی، یہی عمران خان کی ہدایت ہے۔ اس ہفتے خان صاحب کے کیسسز لگے ہیں،مستقل دھرنا تو نہیں دیا گیا امید ہے خان صاحب کے کیسسز کی سنوائی کے لیے متعلقہ تمام زمہ داران پہنچ جائینگے۔ ہاں احتجاج کے لیے کارکن سے لے کر سوشل میڈیا تک کی رائے اور آپشنز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خان صاحب کی یہی ہدایت تھی ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور تمام کیسسز کی سنوائی اور انصاف تک وکلاء اراکین اسمبلی اور مرکزی قیادت کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا۔
جنازے بڑے کرنے جوگی مسلم امہ کیا خالدہ ضیا کے جیل والے سترہ سال واپس لا سکتی ہے ؟ 🚨🚨🚨
خالدہ ضیا سترہ سال جیل رہی یہ عوام نہیں نکلی ۔
پارٹی توڑ دی ہر چیز چھین لی یہ عوام نہیں نکلی ۔
بیٹا سترہ سال باہر رہا یہ عوام نہیں نکلی ۔
جج مارے ،ناجائز لوگ مارے یہ عوام اس وقت بھی نہیں نکلی تھی ۔کیونکہ پاکستان کی طرح رجیم چینج ہر جگہ قابض تھی ۔
جب عوام نکلی بہت دیر ہو چکی تھی ۔
لیکن خالدہ ضیاکے جنازہ کا ریکارڈ قائم کرنے عوام نکل آئی ہے ۔😭😭🚨🚨
نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو پی ٹی آئی کی قیادت کی لال بتیوں کے پیچھے لگ کر تاریخ دن مہینہ کی کال کا انتظار کر رہے ہیں ۔؟
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)