وہ انا پرست تھا اسکی باتوں میں اقرار بھی تھا
اسکے چُھبتے ہوئے لہجے میں چُھپا پیار بھی تھا
وہ مجھے لکھتا تھا کہ منتظر نہ رہو لیکن
اسکی تحریر میں صدیوں کا انتظار بھی تھا
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
اس کا ایک ایک ستم ظاہر ہے
بے خیالی میں تمہاری ہی طرف
میرے اٹھیں گے قدم ظاہر ہے
کچھ چھپا لینے سے کیا ہے حاصل
ان کا جتنا ہے کرم ظاہر ہے
دل کے بھیگے ہوئے موسم کی فضا
از روئے دیدہء نم ظاہر ہے
تم بھلا دو گے تو پھر تم کو بھی
بھول ہی جائیں گے ہم ظاہر ہے...!