ڈاکٹر فیصل سلطان کو سیاہ شیشوں والی گاڑی میں پولیس کی گاڑیوں کے گھیرے میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچایا گیا۔ شفا انٹرنیشنل تک کی سڑکیں ہرگز کسی رش کی وجہ سے بند نہ تھیں، سلمان اکرم راجہ
جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا ، اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس
عمران خان کو جیل سے اسپتال لایا گیا چیک اپ کے بعد واپس جیل بھیج دیا گیا اسکا مطلب یہ کہ وہ صاحبان جن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کوئی ڈیل کر لی ہے وہ غلط ثابت ہو گئے ، حامدمیر
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔
پی آئی اے کو پہلے اونے پونے داموں بیچا، اب بتایا گیا کہ پی آئی اے لیے جو بھی پارٹس امپورٹ ہونگے انکو 15 سال کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ آئی ایم ایف جو غریب کے بجلی گیس کے بِلوں پر تو ٹیکس چھوٹ نہیں دینے دیتا اس نے پی آئی اے کو ٹیکس چھوٹ دینے کی اجازت کیسے دے دی؟ سائرہ بانو
قاسم خان کی یو این میں تقریر آپ نے سنی جس میں وہ جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرنے کی بات کر رہیں؟
جی سنی: اختیار ولی خان صاحب
سر مجھے وہ کلپ دے دیں تا کہ میں وہ چلا دوں
عوام کو 55 روپے فی لٹر کا ٹیکہ لگانا ہی تھا تو ساتھ وزیروں مشیروں اور افسران اعلی و نیم اعلی کو دیا جانے والے فری پٹرول ہی کاٹ لیتے، ان کے پاس پہلے ہی ڈھیر مراعات ہیں، یقین جانیں پانچ سات سو لٹر پٹرول کاٹ لینے سے یہ بھوکے نہیں مریں ��ے۔
علامتی ہی سہی، عوام کو کچھ تو احساس دلائیں۔
نہ شاہی محلوں میں رہا، نہ شاندار گاڑیوں میں گھوما، نہ بیرونِ ملک جائیدادیں بنائیں، نہ بچوں کو شاہانہ طرزِ زندگی دیا۔ صرف دو کام کیے: عبادت اور دین کی خدمت۔ امت کو ہمیشہ اتحاد کا سبق دیا. سید علی خامنہ ای نے لیڈرشپ کا معیار بہت بلند کر دیا ہے. شہادت مبارک ہو!
عمران خان کو 23 گھنٹے ایسے سیل میں رکھا جاتا ہے جہاں سورج کی روشنی نہیں آتی۔ ان کی زندگی کو حقیقی خطرہ ہے یہ لوگ عمران خان کی میڈیکل رپورٹس دینے سے بھی انکاری ہیں۔ ہماری 2 ہفتے پہلے فون پر بات ہوئی ہے، عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو
عمران خان کے دور حکومت میں دو دفعہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں بحث شروع کرائی گئی ہم نے اسوقت بھی اسرائیل سے دوستی کو قائداعظم کے نظریات سے انحراف قرار دیا تھا اور ہمارا آج بھی وہی مؤقف ہے لیکن کچھ صاحبان اسوقت اسرائیل سے دوستی کے حامی تھے آجکل جعلی ہیرو بن رہے ہیں
عمران خان ک صحت کے حوالے سے حکومت اب سارا ملبہ ڈاکٹرز پر ڈالنا چاہتی ہے لیکن اگر سرکاری پریس ریلیز کو مان لیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے عمران خان نے اتنے مشکل حالات میں بھی خود کو فٹ رکھا ہوا ہے ان حالات میں اگر نواز شریف یا آصف زراداری ہوتے وہ surviveہی نہ کر پاتے، مطیع اللہ جان
میں روسٹرم پر گیا اور روزے کی حالت میں چیف جسٹس کو السلام علیکم کہا لیکن انہوں نے سلام کا جواب بھی نہ دیا اور سُن کر ان سنا کر دیا اور چلے گئے۔ ہم پورے پاکستان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم احتجاجی سیاست نہیں کرتے، سہیل آفریدی
عمران خا�� کو بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں ، خان صاحب نے کہا ہے کہ ان کے ڈاکٹرز ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو ان تک فوری رسائی دی جائے
خبریں دی جا رہی ہیں کہ عمران خان کے چیک اپ سے پہلے حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کو آنے کی دعوت دی لیکن کوئی نہیں آیا، اس میں کونسے ایسے راز والی بات ہے حکومت نام بتائے جس کو دعوت دی گئی، ہر بات پر پریس کانفرنس کی جاتی ہے اس دعوت کا اعلان بھی کر دیا جاتا۔ یہ بیانیہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہ�� کہ عمران خان کی بہن نہیں مانیں وغیرہ۔ حکومت نے ڈاکٹروں کا بورڈ اپنی مرضی سے بنایا اور ساتھ یہ خواہش بھی ہے کہ عمران خان کی طرف سے کون آئے گا اس کا فیصلہ بھی حکومت ہی کرے۔ میڈیکل چیک اپ کے دوران ذاتی معالج یا خاندان میں سے کسی ڈاکٹر کےموجود ہونے کی اجازت دینے میں کیا مسئلہ ہے؟؟؟
عمران خان کی آنکھ کا علاج، ابتک کی صورتحال: خاندانی ذرائع کے مطابق: عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کی صورت میں بہنوں میں سے کسی کو بھی اس وقت تک ساتھ جانے کی اجازت دینے پر اتفاق نہیں ہوا۔ لیکن ایک قریبی عزیز کے نام پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ خاندان کی جانب سے ایک اور عزیز کا بھی نام دیا گیا ہے، جو ڈاکٹر ہیں، لیکن ان کے نام پر رضامندی ظاہر نہیں کی گئی، نہ ہی ذاتی ڈاکٹر کو بورڈ میں شامل کرنے یا ساتھ جانے دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ خاندان کے مطابق آنکھوں کے سپی��لسٹ ڈاکٹرز سے موجود معلومات کے تناظر میں جو گفتگو ہوئی ہے اس میں ڈاکٹرز نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دوسری آنکھ کی بینائی کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ: گرفتاری کے بعد سے ایک بار بھی عمران خان صاحب کو جیل سے باہر نہیں نکالا گیا، عدالت بھی جیل میں ہی لگتی ہے۔ اگر ان کو پہلی بار جیل سے آنکھ کے علاج کے لئے نکالا گیا تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ اب حکومتی وزرا کہہ رہے ہیں کہ چیک کے بعد رپورٹ معزز عدالت میں پیش کی جائے گی اور اس پر سیاست نہ کی جائے، لیکن خیال رہے جب آنکھ کی بیماری اور علاج کی خبر آئی تو حکومتی شخصیات نے سختی سے اس کی تردید کی ، بعد میں تصدیق کر دی۔ ابتک کے حکومتی رویے نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنایا۔یقینا" حکومت کچھ چھپانا نہیں چاہتی تو پھر ذاتی معالج کو میڈکل بورڈ میں شامل کرنے میں کیا قباحت ہے؟
پارلیمنٹ میں موجود PTI کے 14 اراکین 24 گھنٹے سے بغیر کھائے پئے دھرنا دئے بیٹھے ہے۔۔ گوہر خان علامہ راجہ ناصر کے لئے بول پڑے کہ وہ شوگر کے مریض ہے اور ان پر کھانا بند کرنا بہٹ غلط ہے۔۔