پنجاب پولیس کا نیا کارنامہ!!
ایک PhD پروفیسر ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑا ہؤا ہے, ڈاکٹر کہہ رہا ہے میں ایک PhD پروفیشنل ڈاکٹر ہوں مجھے چھوڑ دے, آگے سے پولیس والا ویڈیو بنانے والے کو تن دیتا ہے!!
یاد رہے پنجاب پولیس کرپٹ ترین پولیس ہے
غیر ملکی خواتین کے 164 کے بیان کے مطابق رضا ڈار کی پروفائل تصویر پر سابق وزیراعظم کی تصویر آویزاں تھی "ایک"
دوسرا
یہ کہ رضا ڈار نے اپنی ایک تصویر علی ڈار کے ساتھ بھی دکھائی جس میں وہ گلے میں ہاتھ ڈالے ہوئے کھڑے تھے یہ تصویر انسٹاگرام کے خاندانی حصے میں موجود تھی اور رضا ڈار نے علی ڈار کو اپنا والد بتایا تھا
علی ڈار کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اگر کسی شخصیت کے ساتھ سب سے زیادہ تصاویر موجود ہیں تو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ہیں جن میں وہ گلے میں ہاتھ ڈالے دکھائی دیتے ہیں
اس عینک والے شخص کے بارے میں میں نے متعدد افراد سے استفسار کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا یہ علی ڈار کے حقیقی بھائی ہیں یا نہیں تاہم تاحال کوئی بھی اس بات کی تصدیق نہ کر سکا
البتہ علی ڈار کے انسٹاگرام کے خاندانی حصے میں اس شخص کی تصاویر سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہیں
بہت سے صحافی اس وقت ریپ کا شکار ہوئی خواتین کی تصاویر شہیر کر رہے ہیں۔۔ مگر ان لوگوں کی تصویر کوئی نہیں دیکھا رہا جو اس کام میں ملوث تھے۔۔ تو یہ لیں رضا ڈار و دیگر!
اپنا والے بیشرم 🛑
اوورسیز ڈاکٹروں تم لوگ ہزار بار بھی پیدا ہو جاؤ تو عمران خان کے قد تک نہیں پہنچ سکتے, عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا ہے,عمران خان کی تصویر ڈی فیس کرکے تم لوگوں نے عاصم منیر کو خوش کرنے لیے 25 کروڑ عوام سے دشمنی کی ہے,
تم لوگو کی کیا اوقات, تنخواہدار بیغرتو
@APPNA
شرمناک اور افسوسناک۔ مجھے لگا تھا حمیرا قمر صاحبہ کے جانے کے بعد APPNA میں پٹواری مائینڈ سیٹ میں کمی آئے گی ۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈاکٹر بابر راؤ صاحب بہتر آدمی ہیں۔
ایک قومی فورم پر عمران خان کی 1992 ورلڈ کپ کی تصویر کی defacement ایک گھٹیا عمل ہے۔ سبھی کی تصاویر نارمل ہیں۔ صرف عمران خان کی تصویر کے ساتھ یہ کرنا پاکستانیت کی توہین ہے۔ کیا APPNA میں ڈاکٹرز اس حد تک کی کم ظرفی کو قبول کریں گے۔ یہ شرمناک ہے۔ APPNA کے ممبرز کو اس گھٹیا اقدام پر بولنا ہوگا۔ یہ آپ سب کے اجتماعی شعور کی توہین ہے۔ آپ کے علم عقل دانش شرافت اور قومی اقدار اور قومی وقار کی توہین ہے۔ 92 کا ورلڈ کپ سیاسی نہیں ہے۔ ایک قومی ہیرو سے یہ سلوک صرف کم ظرف لوگ کر سکتے ہیں۔
بڑے ماڈرن خیالات ہیں نہ آپکے
آپ کہتے ہیں دیـن کی تـوہین یا نبیﷺ کی تـوہین اگر دانستہ طور پر بھی کی جائے تو کوئی بات نہیں، یہ آزادی اظہارِ رائے ہے
آپ کی ماڈرن سوچ پر تـھو، آپ کے ماڈرن ہونے پر تـھو، آپ کی تعلیم آپ کے شعور پر تـھو
ضبط نامی جیو ٹی وی کے ڈرامے میں دانستہ طور پر اسلامک اسٹڈیز کی کتاب کو زمین پر پھینکا گیا، کتاب کے کوور پر مسجدِ نبوی ﷺ کی تصویر بنی ہوئی تھی، اب کیا یہ حرکت غیر دانستہ طور پر ہوئی
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ڈرامے کا ہر سین ڈائریکٹر دس بار ری ٹیک کرواتا ہے اور پھر ایڈیٹنگ میں بھی یہ غلطی پکڑی جاسکتی تھی
اس ڈرامے کا ڈائریکٹر تحسین خان ہے اور اسکی رائٹر صائمہ اکرم چوہدری ہے
اِن دونوں کو سب کے سامنے آکر معافی مانگنی چاہئے
اگر آپ اِن چیزوں کے خلاف سٹینڈ نہیں لے رہے تو پھر آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ باقی دنیا میں ہونے والی تـوہین کے خلاف چیخیں
یہی اسلامو فوبیا ہے جس کے خلاف ساری دنیا میں مـسلمان لڑ رہے ہیں، ہمارے نبی ﷺ کی تـوہین، ہمارے دین کی تـوہین، ہماری عبادت گاہوں کی تـوہین ہرگز ہرگز آزادی اظہارِ رائے نہیں ہے
اگر آپ کو توہین آزادی اظہارِ رائے لگتی ہے تو آپ ماڈرن نہیں، آپ بے شرم اور بےایمان ہیں
آپ بـائبل کی تـوہین کرکے دیکھیں، ساری دنیا میں آپکے خلاف ایسا احتجاج بھڑکے گا کہ آپ کو نانی یاد آجائے گی، اپنے دین، اپنے نبی ﷺ، اپنی عبادت گاہوں کی حرمت پر پہرہ دیں، یہ آپکا فرض ہے
جی ٹی وی نے اپنے ڈرامے ضبط کی قسط نمبر 20 یوٹیوب سے ہٹادی ہے ۔ کیوں کہ 20 جون کو نشر کئے گئے اس ڈرامے کی قسط میں ایکٹرس سارہ اعجاز خان اسلامک اسٹڈیز کی کتاب کو پھینکتے ہوئے دکھائی جاتی ہے جس پر مسجد نبویﷺ کی تصویر بنی ہوئی تھی اور ظاہر ہے کہ اسلامک اسڈیز کے اندر بھی اللہ اور رسولﷺ کا ہی زکر ہوگا ۔
اب یہ ڈرامے میں نادانستہ غلطی تو نہیں ہوسکتی ۔ پھینکنا ہی تھا تو شیکسپئر کا کوئی ناول وغیرہ پھینکا جاسکتا تھا ۔لیکن جیو نیوز عادی جرائم پیشہ ہے ۔ پوری ڈھٹائی کیساتھ یہ اسلامی شعائر کو نشانہ بناتا آیا ہے ۔ اکثر صحافی صرف پروفیشنل کیئریر کی وجہ سے خاموش ہیں یا پھر اس کی حمایت کررہے ہیں
اب تو کوئی شک نہیں رہا ہے کہ جیو اور جنگ گروپ نادانستہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر شعائر اسلام کو نشانہ بنارہے ہیں ۔
جیو ٹی وی حدیں پار کر رہا ہے
آخر یہ کرنے والے کون ہیں؟ کس کے اشارے پر ہو رہا ہے؟ اور اس کا مقصد کیا ہے؟
سین کرنے کےلیے یہ کتابیں رکھی گئی ہوں گی؟ اس ڈرامے کا ہدایتکار اور پروڈیوسر کون ہے، جنھوں نے جان بوجھ کر یہ حرکت کی؟
آزادی اور موت والا کینٹیر کدھر ہے؟
آپ لوگوں نے بولا تھا عمران خان کی رہائی کی تحریک ہوگی رمضان کے بعد۔۔۔
وہ بھی نہیں ہوئی۔۔۔
اپ لوگوں نے کہا تھا ہو سکتا ہے اٹھ فروری کو ہم کنٹینر نکالیں
وہ بھی اپ لوگوں نے نہیں نکالا۔۔۔
آپ لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں۔۔۔
آپ لوگوں نے بجٹ بھی منظور کرلیا۔۔۔
210 دن ہو چکے ہیں خان صاحب کی ملاقات نہیں ہوئی بہنوں سے
مزید اگر 400 دن. بھی ہو جائیں تو بھی اپ یہی کہیں گے کہ محمود اچکزئی صاحب جو کہیں گے ہم وہی کریں گے
عمران خان کی تحریک کون چلائے گا؟
میرے شفیع جان سے سوالات۔۔۔۔
شفیع جان نے مجھے کہا کہ اپ جو پوسٹیں کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں
کیا میری پوسٹیں قابل مذمت ہیں؟
اگر میری پوسٹیں قابل مذمت ہیں تو یہ سب بھی قابل مذمت ہے جو یہ وعدہ خلافی کرتے ہیں
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
For the last atleast 4 years Pakistan’s Military top brass has rigged multiple elections, killed multiple journalists, harassed 100’s if not thousands of women both sexually and morally by law enforcement agencies , threatened them with rape all across Pakistan just to shun voices of dissent. Put wives and female family members of political activists and politicians in jail to blackmail them, delivered a life sentence to Mahrang baloch in a sham trial by kangroo courts, put pregnant Iman Mazari a prominent human rights activist and her husband behind bars for literally a “tweet”. But Malala would never talk about that. I wonder why?
مریم نواز باہر جا کر وہاں کا شاندار نظام دیکھنے کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے۔
اگر ان نوجوانوں نےباہر سے واپس آ کر پوچھ لیا کہ باہر تو کسی ملک میں فارم 47 پر ہارےہوئے امیدوار اقتدار میں نہیں آتے
تو یہاں کیوں؟ پھر آپ ان پر بھی دہشتگردی کے مقدمےکروا دینگی؟
یہ پیرا فورس کا اہلکار اس نے سرکاری موٹر سائیکل سروس اسٹیشن سے دھلوائی اور پھر جب پیسے مانگے تو دھمکیاں دے رہا الٹا سروس اسٹیشن کی ویڈیو بنانے لگ گیا کہ سیل کروادونگا۔
یہ مریم نواز کا تحفہ ہے پنجاب کے غریبوں کے لئے
ہم نے فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کو بھی امریکی آقاؤں سے ایسے ہی جھپیاں پپیاں کرتے دیکھا ہے، اور پھر ان کا بھیانک انجام بھی دیکھا ہے!
عاصم منیر کا حال بھی وہی ہوگا۔ تاریخ بڑی بےرحم چیز ہے دوستوں!