گلگت بلتستان کے دورے پر آئے ایک یورپی سیاح نے یہ تشویشناک مشاہدہ کیا ہے کہ عطا آباد جھیل میں سیوریج کا پانی شامل ہو رہا ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو یہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس سنگین مسئلے کا فوری تدارک کیا جائے۔
اس قسم کی کوتاہیاں نہ صرف گلگت بلتستان کی سیاحت کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی تشخص کو بھی عالمی سطح پر متاثر کرتی ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں تاکہ ہمارے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور بین الاقوامی ساکھ کو نقصان سے بچایا جا سکے
A European tourist visiting Gilgit-Baltistan has raised a serious concern, observing that sewage water is reportedly entering the Attabad Lake. If this information is accurate, it is deeply alarming and utterly condemnable. The government must take immediate and proper action, launch a thorough investigation, hold those responsible accountable, and urgently resolve this issue.
Such negligence not only harms tourism in Gilgit-Baltistan but also tarnishes the overall image of Pakistan at an international level. It is imperative for the Government of Pakistan and relevant authorities to act swiftly and decisively to protect our natural resources, tourist destinations, and global reputation
اہم اہم اہم !!!
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سی ڈی اے کو ریڑھی بانوں کیلئے تمام سیکٹرز کے مراکز کے ساتھ ریڑھی بازار بنانے کی تجویز دی تو سی ڈی اے کے وکیل نے جواب دیا کہ کمرشل لینڈ ہے اِنکو اگر جگہ دے کر بٹھا دیا تو پھر یہ جگہ خالی نہیں کرینگے تو جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ غریب طبقہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہے، 20، 30 ہزار لوگوں کا روزگار جُڑا ہے آپ ان کیلئے باوقار روزگار کا بندوبست کریں لیکن آپکو کوئی پرواہ ہی نہیں، ابھی طاقتور حلقوں کی طرف سے خط آ جائے کہ ہمیں آدھا سیکٹر دے دو تو خاموشی سے دستخط کر دینگے کیونکہ تب آپکو اپنی نوکری کی فکر پڑ جائے گی، یہ غریب لوگ زندہ ہی کیوں ہیں تو پھر آپ انکو غزہ بھیج دیں
یہ تارڑ صاحب ہیں نا جو کھل کر نریندا مودی انڈیا کی حمایت کرتے ہیں یہ کیسے اس جگہ پر موجود ہیں,مودی نے تو ابھی 51 لوگ شہید کیے پاکستان کے اور جنگ مسلط کی، پاکستان کا پانی بند کیا۔ یہ آرمی چیف کے ساتھ کیسے کھڑے ہی؟
"بائیڈن انتظامیہ کے عمران خان کے ساتھ کبھی بھی اچھے تعلقات نہیں رہے، اس کی وجہ اسرائیل تھا کیونکہ عمران خان پاکستان میں اسرائیلی لابی کو پنپنے نہیں دے رہا تھا۔"احمد نورانی
#AhmadNoorani#ImranKhan
Video : https://t.co/FvCwIwvSOe
جسٹس محمد علی مظہر کو یہ ہی معلوم نہیں تھا کہ ان کے سامنے زیر التوا مقدمہ ہے کیا!
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر کو الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلانا پڑ گیا!
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاجو اکثریتی فیصلے میں پی ٹی آئی کو ہدایات کی گئیں وہ پوری ہوئیں؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہاتمام ممبران نے اپنے کوائف اور پارٹی وابستگی جمع کرائی تھی،سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نا کیا؟الیکشن کمیشن یہاں آ کر دھرلے سے کہتا ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد بھی نہیں کریں گے اور نظر ثانی بھی کریں! جسٹس محمد علی مظہر نے کہا الیکشن کمیشن نے 39 ممبران کو نوٹیفائی کیا تھا یہ نظر ثانی کیس تو بقیہ 40 نشستوں پر ہے! جسٹس حاجی امین الدین خان نے کہا نظر ثانی تمام 79 نشستوں کے خلاف ہے! جسٹس محمد علی مظہر نے کہا میں نے بار بار پوچھا ہے الیکشن کمیشن سے انہوں نے کہا 40 سیٹ پر نظر ثانی ہے، جس کے بعد جج صاحب نے الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا بتائیں آپ نے پی ٹی آئی کے 39 ممبران کو نوٹیفائی کیا؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا جی ہم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 39 ممبران کو پی ٹی آئی کا نوٹیفائی کر دیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھاآپ نے 39 ممبران کے تناسب سے مخصوص نشستیں دی ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن بولےہم 39 کی حد تک تو مخصوص نشستیں نہیں دے سکتے یہ تو مکمل کے تناسب سے باقاعدہ فارمولا ہوتا ہے۔ اکثریتی فیصلہ دینے والے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا اگر فارمولا ہوتا ہے تو باقی جماعتوں کو مخصوص نشستیں کیوں دیں؟ فیصلہ ہو لینے دیتے اور پھر سب کو ایک ساتھ مخصوص نشستیں دیتے! جسٹس محمد علی مظہر اس سے بھی لاعلم نکلے اور کہا نہیں باقی جماعتوں کو نہیں دی گئیں مخصوص نشستیں۔ جس پر الیکشن کمیشن نے کہا باقی تمام سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دے دی ہیں! اس کے بعد بنچ کے سربراہ جسٹس حاجی امین الدین خان نے الیکشن کمیشن حکام کو کہا بیٹھ جائیں اب تو کیس چل رہا ہے اور فیصل صدیقی کو کہا دلائل جاری رکھیں،فیصل صدیقی نے کہایہ تو پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کوئی تو تقدس ہونا چاہئے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا آپ مشتعل نا ہوں، فیصل صدیقی نے کہا کیس کیا ہے یہ مسئلہ نہیں ہار جائیں گے، بات سپریم کورٹ کے وقار اور مستقبل کی ہے!
کفایت شعاری؟؟؟ پنجاب کی بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے آفس اخراجات کے لیے 56 کروڑ روپے اضافی خرچ کئے گئے۔ گزشتہ بجٹ میں 1 ارب 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے لیکن 1 ارب 79 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے۔
اسرائیل نے حملہ کرکے ایران کی ٹاپ ملٹری لیڈر شپ شہید کر دی
ایران نے اسرائیل پر حملہ کرکے وہاں تباہی پھر دی
اتنی بڑی کامیابیوں پر ابھی تک دونوں ملکوں نے کوئ نیا جنگی ترانہ ریلیز نہیں کیا۔
آپ کے خیال میں کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟؟؟
شائید محترمہ @asmashirazi نے گاڑی میں پٹرول ہی ڈلوانا چھوڑ دیاہے ورنہ یہ تو 150 روپے لیٹر پٹرول پر اتنی پریشان ہو جاتی تھیں کہ وہ انہیں سونامی لگتا تھا لیکن اب تو تین سو روپے لیٹر کی بھی انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
تحریک انصاف کے دور میں زیادہ سے زیادہ قیمت 149 روپے فی لیٹر تک گئی تھی، حنا جی @hinaparvezbutt آپ پی ٹی آئی دور میں 400 روپے فی لیٹر پیٹرول کہاں سے خریدتی رہیں ؟؟؟ بنیادی معلومات تک کا علم نہیں