إن الاتفاق الدفاعي الذي أُبرم في مكة المكرمة بين باكستان والمملكة العربية السعودية والجمهورية التركية يحمِل بُشرى سارة تبعث السرور في نفوس أبناء الأمة الإسلامية جميعًا.
وإن حكومات الدول الثلاث تستحق التهنئة على هذا الاتفاق الصانع للتاريخ والذي تمّ في جواربيت الله الحرام
پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں ھونے والا دفاعی معاہدہ پوری مسلم دنیا کے لئے نہایت خوشی کی خبر ھے تینوں حکومتیں اس تاریخ ساز معاھدے پر جو بیت اللہ کے بالکل قریب ھوا مبارکباد کی مستحق ہیں اللہ تعالی اسکو امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بنائیں آمین
الحمدللہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کواللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فر��ائی اسکی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کا وقار غیر معمولی طورپر بلند ھوا اور کل جو مذاکرات ھونے والے ھیں انکی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے وزیر اعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی جو اپیل کی ہے وہ بروقت ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ھاتھ میں ہے اس لئے ھم سب کو دعا میں مصروف رھنا چاھئے خاص طورپر جو ��ضرات كرسکیں وہ اس دعائے مسنون کااھتمام فرمائیں:
اللهم انصرنا ولا تنصر علینا وامکر لنا ولا تمکر علینا واھدنا ویسر الھدی لنا واحسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرة آمین
ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی وقت کی سب سے بڑی اور اھم خبر ہے وزیراعظم شہباز شریف انکے نائب اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس انتہائی نازک موقع پر جو سفارتی کوششیں کیں وہ نہایت قابل مبارکباد اور ملک کے لئے فخرو اعزاز کی بات ھیں آخری دن ایران کا سعودی عرب پر حملہ بلاجواز تھا لیکن سعودی عرب نے اس پورے عرصے میں جس تحمل کا مظاھرہ کیا وہ اسکے ایثار کی دلیل ہے جسکے بغیر جنگ بندی ممکن نہ ھوتی
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا ��لفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے جو ملک کے لئے نہایت شرمناک ھوگا اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں آمین پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں
انتہائی افسوسناک
کراچی، اہلسنت والجماعت کے رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ دل دہلا دینے والی اور ناقابلِ قبول ہے۔ یہ سازش ملک میں ایک دفعہ پھر بے امنی پھیلانے کی کوشش ہے۔ ریاستی ادارے فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔ناموس رسالتﷺ صحابہؓ و اہلبیت پر پہرہ جاری رہے گا۔ ان شاءاللہ
شرم الشیخ میں غرہ کی جنگ بندی کے معاھدے پر دستخط ھوگئے اور بے اختیار بقول شاعر:
دل خوش تو ھوگیا مگر آنسو نکل پڑے
اول تو ان ستر ھزار شہداء کو یاد کرکے جنہوں نے اپنی موت کو گلے لگاکر فلسطین کو زندہ رکھا
دوسرے یہ یاد کرکے کہ اس امن کاسہرا لاكهوں جانوں کے نقصان کے بعداسکے سر بندھ رہاہے جس نے قدس میں سفارت خانہ قائم کرکے اسے اسرائیل کا مرکز قرار دیا تھا اور دوسال تک غزہ کے قتل عام میں برابر کا شریک رھکر جنگ بندی کی ھر قرارداد کوویٹو کرتارھا
تیسرے اس لئے کہ غزہ میں فی الحال الحمدللہ امن قائم ھوگیا مگر ھم اپنے گھر میں امن قائم نه کرسکے
فلسطین کا جو مسئلہ حل ھونے لگا تھا اسکے بارے میں ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا کیا موقع تھا اور اگر کچھ لوگوں کو اس پر اصرار بھی تھا تو آخر وہ پاکستانی مسلمان تھے کیا حکومت کے لئے یہ ایسا مسئلہ تھا کہ اس پر قابو پانے کے لئے گولیاں چلاکر کئی خاندانوں کو اجاڑنا ضروری ھو
چوتھے اس لئے کہ عین اس موقع پر جب بھارت پاکستان سے کھلی دشمنی پر آمادہ ہے اور پاکستان کے باغیوں کی حمایت کررہاہے اوراس سے مار بھی کھاچکا ہے ھمارے ایک پڑوسی بھائی نے قیام امن کے لئے پاکستان سے بات کرنے کے بجائے بھارت سے پینگیں پڑھانی شروع کردیں اور پھر دو مسلمان پڑوسیوں میں جنگ شروع ھوگئی جو امت اسلامیہ کے کسی بھی دردمند کے لئے تشویشناک خبر ہے
کسیے گواہ کریں کس سے منصفی چاھیں