سندھ میں سب سے گندا اور کرپٹ فیوڈل سسٹم نافذ ہے، پیپلزپارٹی کی کرپٹ اورنااہل حکومت نے گزشتہ18برسوں میں نہ صرف کراچی، حیدرآباداورسندھ کے شہری علاقوں کوتباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے بلکہ لاڑکانہ، نوڈیرو اور پورے دیہی سندھ کو جا کردیکھ لیں تو وہاں کا بھی بہت برا حال ہے۔ دیہی سندھ کے غریب ہاری اورسندھ کے غریب عوام بہت برے حال میں زندگی گزاررہے ہیں، وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، سندھ میں ترقیاتی کاموں کا بجٹ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے کے بجائے پیپلزپارٹی کی حکومت کےوڈیروں کی بےانتہا کرپشن کی نذرہورہا ہے۔ وڈیروں کی دولت اور جاگیروں، جائیدادوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ سندھ تباہی وبربادی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ایک طرف تو کراچی کو تباہ کر دیا گیا ہے، شہر کا
انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا گیا ہے، سندھ کے دیہی علاقوں کوترقی دیکر شہری علاقوں کے برابر لانے کے بجائے سندھ کے دارالحکومت کراچی، حیدرآباد اوردیگرشہروں کے پہلے سے موجود انفرااسٹرکچر کو تباہ کرکے ان کی حالت دیہی علاقوں سے بھی بدتر کردی گئی ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لئے ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں سے ملنے والی رقم بھی کرپشن کی نذرہورہی ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ کرپشن کا یہ بازار بند کیا جائے اورعوام کے ٹیکسوں کا پیسہ شہری اور دیہی علاقوں کے انفرااسٹرکچر کوبہتر بنانے اور عوام کو سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 401 ویں فکری نشست سے خطاب
امریکہ کے تھنک ٹینک ”امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ (American Enterprise Institute) کے سینئر فیلو اور تھنک ٹینک مڈل ایسٹ فورم (Middle East Forum) کے ڈائریکٹر آف پالیسی اینالیسز مائیکل روبن (Michael Rubin) نے 10مئی کو اپنے مضمون پر مشتمل اپنے ٹوئیٹ میں پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں جو بیہودہ الفاظ استعمال کئے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہیں جسے پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کاسرشرم سے جھک گیا۔
مائیکل روبن نے اپنے ٹوئیٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا کہ” پاکستان ایسی عورت نہیں ہے جس سے شادی کی جائے بلکہ ایسی طوائف ہے جس کواستعمال کرو اور پھینک دو“۔ اس ٹویٹ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کو بھی گالی دی گئی ہے۔ یہ ٹوئیٹ ایسا ہے کہ اسے دہراتے ہوئے بھی انتہائی شرم محسوس ہوتی ہے۔ اسے پڑھ کرایک پاکستانی کی حیثیت سے میرا خون کھولا ہوا ہے مگر اس پر حکمرانوں کی خاموشی دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے۔
مائیکل روبن نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں جو گندی زبان استعمال کی ہے، جوگالی دی ہے پر اس پر حکومت پاکستان کے وزراء کیوں خاموش ہیں؟ صدر آصف زرداری کہاں ہیں؟ وزیراعظم میاں شہبازشریف کہاں ہیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کہاں ہیں؟ بلاول زرداری کہاں ہیں؟ میاں نوازشریف کہاں ہیں؟ مریم نواز صاحبہ کہاں ہیں؟ دیگروفا قی وزراء کہاں ہیں؟
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے وہ رہنما جو چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ”ہم پاکستان کے خلاف ایک لفظ سننا نہیں چاہتے، ہماری غیرت کوکوئی للکارے گا توہم اس کی زبانیں کھینچ لیں گے“،وہ تمام رہنماآج کہاں ہیں؟ اگران میں غیرت ہے تووہ مائیکل روبن کی جانب سے پاکستان اورفیلڈمارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں گالیوں بھرے ٹوئیٹ پر کوئی آواز احتجاج بلند کیوں نہیں کرتے؟ یہ ہماری قومی غیرت وحمیت کا تقاضہ ہے کہ اس پر احتجاج کیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مائیکل روبن کے ٹوئیٹ پر صدرپاکستان آصف زرداری، وزیراعظم شہبازشریف، مریم نوازصاحبہ، بلاول زرداری اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو سخت بیان جاری کرناچاہیے اوراحتجاج کرنا چاہیے۔
ٹک ٹاک پر فکری نشست کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں اور اوورسیز میں مقیم پاکستانیوں نے بھی پاکستان کے بارے میں مائیکل روبن کے ٹوئیٹ پر اپنے شدیدغم وغصہ کا اظہارکیا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست 402 سے خطاب
11مئی 2026ء
ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کالندن میں ایم کیوایم کے 42 ویں یومِ تاسیس کے اجتماع سے خطاب
#MQM42YearsWithAltaf
پاکستان کےعوام کے سامنے الطاف حسین اور ایم کیوایم کاامیج خراب کرکے پیش کیاگیا، اسے ہمیشہ دہشت گرد، بھتہ خور اورملک دشمن کے طورپرپیش کیاگیا، اس کے خلاف زہریلاپروپیگنڈہ کیا گیا جو سراسر جھوٹ اورفریب پر مبنی تھا۔MQM کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈہ اسلئےکیاگیاکیونکہ ایم کیوایم نے پاکستان میں رائج فرسودہ نظام کوچیلنج کیاتھا۔1992ء میں فوج نے سندھ میں اغوابرائےتاوان کی وارداتیں کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والے جاگیرداروں ، وڈیروں اور پتھاریداروں کےخلاف آپریشن کااعلان کیااوراس کےلئے 72بڑی مچھلیوں کی فہرست پیش کی جس میں نہ الطاف حسین کانام تھااور نہ ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی کے کسی رکن کانام تھالیکن 72بڑی مچھلیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا اوراس کوجائز قراردینے کے لئے پی ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے ایم کیوایم کے خلاف طرح طرح کی من گھڑت کہانیاں پیش کی گئیں۔ پنجاب کے عوام نے ان پر یقین کیاکیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ فوج جو کہہ رہی ہے وہ سو فیصد سچ اور درست ہے، فوجی آپریشن کے دوران ہم پر ریاستی مظالم ڈھائے گئے، پنجاب کے عوام اس کی حمایت کرتے رہے لیکن جب 8مئی 2023ء کو پیراملٹری رینجرز نے تحریک انصاف کے سربراہ اورسابق وزیراعظم عمران خان کو کمرہ عدالت کے دروازے اورکھڑکیاں توڑکر گرفتار کیا اورانہیں گریبان سے پکڑکر گھسیٹتے ہوئے لیکرگئے توملک خصوصاًپنجاب کے عوام کی آنکھیں کھلیں، کیا یہ عمل عدالت کےتقدس کو مجروع کرنے کا عمل نہ تھا؟ آج تک ان گرفتار کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟
جب عمران خان کی اس گرفتاری کے خلاف 9مئی 2023ء کوپنجاب کے عوام احتجاج کے لئے باہر نکلے تو اس احتجاج کو دہشت گردی قراردینے کےلئے ایک سازش کے تحت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئےگئے، جی ایچ کیواور لاہور میں کور کمانڈر کے گھر پر حملہ کیاگیا، شہدا ء کی یادگاروں کو توڑا گیا، فوجی مراکزپر حملے کئے گئے اورفوج اوراس کی ایجنسی آئی ایس آئی نے ان سارے واقعات کے الزامات عمران خان، ان کی جماعت پی ٹی آئی کےلیڈروں اور کارکنوں پر لگا دئیےگئے۔عمران خان بار بار مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ ان واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائیں اور اس میں ملوث افراد کو سزا دیں، لیکن آج تک یہ فوٹیج نہیں دکھائی گئیں۔
پنجاب کےلوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے تو پیراملٹری فورسز اوراس کی ایجنسیوں نے پنجاب میں گھروں پر چھاپے مارکر،گھروں کے دروازے توڑ کر جو مظالم کئے، جس طرح پنجابی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے دوپٹے کھینچے، جس طرح پنجابی بزرگوں کی بے حرمتی کی، تشدد کیا توان مظالم کودیکھ کر پنجاب کے لوگوں خصوصاًنئی نسل کو معلوم ہوا کہ فوج اور آئی ایس آئی والے ایسے مظالم بھی کرتےہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد پی ٹی آئی کی ایک بزرگ خاتون ہیں جو کینسر سروائیور ہیں، ان کو بھی قید رکھا ہوا ہے، دیگر بزرگوں کو بھی قید رکھا ہوا ہے، عمران خان اور ان کی بیگم بشری بی بی پر بھی الزامات لگا ئے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کے خلاف آپریشن ہوا تو پنجاب کے عوام خصوصاً جین زی کو یہ معلوم ہوگیا کہ فوج کس طرح زیادتی کرتی ہے، اہل پنجاب میں بھی یہ شعور آگیا ہے کہ ہم نے فوج کی باتوں پریقین کرکے پاکستان کی تمام جماعتوں کو غدار اور ملک دشمن کہہ ڈالا اور آج پاکستان کی تمام قومیتیں پنجابیوں کو مجرم قرار دیتی ہیں کہ سارا قصور پنجابیوں کا ہے جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کی دوسری قومیتوں کے مسائل اوران کے مؤقف کو کبھی ٹیلی وژن پر آنے ہی نہیں دیا گیابلکہ فوج اورآئی ایس آئی اپنا بیانیہ دیتی رہی۔ خداکا شکر ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے پہچان لیا ہےخرابی کی اصل جڑ کون ہے۔وہ کون ہےجو بیرونی طاقتوں کی ایماء پرملک میں حکومتوں کو چلنے نہیں دیتا، ملک میں منشیات اور کلاشنکوف کلچر کون لایا، ملک میں اسمگلنگ کون کرتا ہے۔فوج کے کرپٹ ریٹائرڈجرنیل ٹی وی پر بیٹھ کراپنی فتح اور کامیابیوں کی کہانیاں پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے کوئی جنگ نہیں جیتی۔
ملک میں احتساب کے نام پر انتقام لیا جاتا ہے اور اس کے لئے عدالتوں کو استعمال کیاجاتاہے، عدالتیں بھی ڈکٹیٹشن لیتی ہیں جس کی تازہ مثال ہے کہ نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا اور آصف زرداری اوراس کے خاندان اورکرپٹ ٹولے کے تمام مقدمات ختم کرکے آزادی دی گئی اوردوبارہ اقتدارکی کرسیوں پر براجمان کردیاگیا لیکن عمران خان اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کورہاکرناتودور کی بات ہے، انہیں ضمانتیں تک نہیں دی جارہی ہیں 1/2
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بلاجواز و بلااشتعال میزائلوں اور ایئر اسٹرائیک حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی
#IranUnderSevereAttacks
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس، تمام مہذب جمہوری ممالک بشمول یورپی یونین، نیٹو اور OICکے ممالک کی حکومتوں اور سربراہان سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ حملوں کو فی الفور بند کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر جارحانہ حملہ دنیا کے تمام بین الاقوامی چارٹرز، اصولوں اور ضابطوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، وہاں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان اور دنیا بھر میں دیگر انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ تمام اہم شخصیات اور اداروں نے امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ حملوں کو فی الفور نہ رکوایا تو اقوام متحدہ سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں کا وجود ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔
انہوں نے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جارحانہ حملوں میں ایرانی فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر ایرانی حکومت اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ موجودہ جارحیت کا عمل دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف نہ دھکیل دے
ایم کیوایم کےبانی وقائدجناب الطاف حسین نے حضرت خواجہ نظام الدین اولیارحمت اللہ علیہ کی درگاہ کے گدی نشین سید ناظم علی نظامی کی علالت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جن کا چند روزقبل دل کا آپریشن ہوا ہے، وہ اس وقت صاحب فراش ہیں۔
جناب الطا ف حسین نے دعاکی ہے کہ اللہ تعالیٰ سید ناظم علی نظامی کوصحت کاملہ عطا فرمائے اوران کی عمردراز فرمائے۔
جناب الطاف حسین نے کارکنان اورعوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیدناظم علی نظامی کی صحتیابی اور درازی عمر کے لئے دعا کریں۔
جو طاقتور لوگ بانی و قائد الطاف حسین کا چیپٹر کلوز کرنے کے فرعونی دعوے کرتے تھے، وہ قصہ پارینہ ہوگئے، آج ان کا کوئی نام لیوا نہیں مگر الطاف حسین ہیں اور ان سے وابستگی اور محبت کا رشتہ چوتھی نسل میں منتقل ہوچکا ہے۔
اسے کیا کہا جائےکہ جب الطاف حسین کے وسیلے اور MQM کے نام سے شوہرِنامدار کو دو دو مرتبہ وزارت ملی، خود کو سینیٹرشپ ملی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ، وفاقی وزیر کے منصب کے برابر مراعات اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ڈپٹی میئر شپ ملی تو الطاف حسین زندہ باد ، MQM سب سے اچھی، لیکن آج تھوڑی سی گرم ہوا کیا چلی کہ وہی الطاف حسین سب سے برے اور وہی MQM نقصان کا سبب نظر آنے لگی،
اسے کیا کہاجائے؟ لوگ کیسے کرلیتے ہیں یہ؟
کراچی ، حیدرآبادسمیت پورے سندھ کے عوام سے میری درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ گل پلازہ کے سانحے پر بھرپور یوم سوگ منائیں ، اپنے کاروبار کو بند رکھیں اور اپنے اپنے علاقوں میں سانحے گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لئے غائبانہ نماز جناز ادا کریں
#GulPlazaFire
کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ پر آتشزدگی کاواقعہ ایک بڑاسانحہ ہے جس میں بہت جانی ومالی نقصان ہواہے جس کامجھے بہت افسوس ہے اورمیں اس سانحہ کے متاثرین کے غم میں برابرکا شریک ہوں۔
#GulPlaza
میں فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیرصاحب سےاپیل کرتاہوں کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرائیں کہ گل پلازہ میں لگنے والی یہ آگ ایک حادثہ ہے یاکسی مذمو م مقاصد کے تحت لگائی گئی ہے؟ اگرچہ حکومت یہ بہانے اور جواز پیش کرے گی کہ یہ گیس لیکیج یا شارٹ سرکٹ یاگیس سلنڈر کے پھٹنے کی وجہ سے ہے لیکن اس کی اصل وجہ جاننے کے لئے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑاشہر ہے جس کی آبادی چارکروڑسے زائد ہے جو ٹیکسوں کی شکل میں ملک کوسب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے لیکن کراچی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ سندھ پر گزشتہ 60 برسوں سے مسلط پیپلزپارٹی کی کرپٹ حکومت نےپورے سندھ کا بٹہ بٹھادیاہے، پیپلز پارٹی نے کراچی جیسے شہرکے تمام اداروں کوبرباد کردیاہے، کراچی کو بہتر فائربریگیڈاورجدید اسنارکل کی ضرورت ہےلیکن پیپلزپارٹی نےکراچی کے فائر بریگیڈکوبھی تباہ کردیاہے،اتنے بڑے شہر کے لئےجتنی اسنارکل اور فائرٹینڈر ہونے چاہئیں، وہ نہیں ہیں، آج بھی اتنابڑا آگ لگنے کاواقعہ ہوا لیکن آگے بجھانے کے لئے فائربریگیڈبہت تاخیرسے پہنچیں کیونکہ پیپلزپارٹی کی کراچی دشمن جماعت نے کراچی کی سڑکوں کو کھنڈربنادیاہے۔
ایم کیوایم کوجب پہلی مرتبہ بلدیہ کراچی کے ذریعے شہر کی خدمت کاموقع ملاتومیں نےسب سے پہلے کراچی کی فائربریگیڈ کو بہتربنانے کے لئے اسنارکل منگوائیں، ہم شہر کےلئے بہت کچھ کرناچاہتے تھے لیکن ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کردیاگیا، ہمیں دوبارہ موقع ملاتوہم نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرکے کراچی کانقشہ بدل دیا جس پر ہردیکھنے والا واہ واہ کرتا لیکن ہمارے خلاف دوبارہ آپریشن شروع کردیاگیا۔ آج کراچی مکمل طورپرتباہ ہوچکاہے۔ آج اگر ایم کیوایم کوکراچی میں نظم ونسق چلانے کا اختیار ہوتااورآگ لگنے کا ایسا واقعہ ہوتا توشہر کی یہ حالت نہ ہوتی اورفائر بریگیڈ فوری طورپر پہنچ کر آگ بجھاچکی ہوتی۔ کراچی کی بہترخدمت وہی کرسکتاہے جس کاجینامرناکراچی سے وابستہ ہو اور جو شہر سے واقعتاً ہمدردی رکھتاہو۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے اپیل کرتاہوں کہ وہ کراچی کوکرپٹ اورکراچی دشمن پیپلزپارٹی سے نجات دلائیں۔
جولوگ گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعہ میں جاں بحق ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے،جوزخمی ہیں ان کوصحت عطا فرمائے اوراس آگ کی وجہ سےجن کی زندگی بھرکی کمائی جل کرتباہ ہوگئی ہے،اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیداکرے کہ وہ پھرسے اپنا کاروبار کھڑاکرسکیں۔
الطا ف حسین
ٹک ٹاک پر 378 ویں فکری نشست سے خطاب
17جنوری 2026ء
شہید وفا پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف شہید کوسلام
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکی قربانی تمام وفاپرستوں کے لئے ایک مثال ہے۔
#SaluteToHasanZafarArif
وفاکی قسمیں کھانا، حلف اٹھانااورعہد کرلینابہت آسان ہوتاہے لیکن وفاکونبھانا، حلف پر قائم رہنااورعہد کو پوراکرنا بہت مشکل ہوتاہے کیونکہ وفااورعہد پر قائم رہنے کے لئے آگ اورخون کے سمندر سے گزرنا پڑتاہے، مصائب ومشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔ انسان وفاکونبھانے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن اس کااصل امتحان اس وقت آتاہے جب وہ اپنی جدوجہد کے دوران وفاپر قائم رہنے کے لئے موت اورزندگی کی آزمائش کاسامنا کرتاہے۔ وفا کی راہ میں اگرانسان حق پرقائم رہے اور جان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے تووہ رہتی دنیا تک ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کاسمبل بن جاتاہے۔اپنی وفااور
عہد پر جان قربان کرنے والے ایسے ہی ایک بزرگ کانام پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید ہے۔انہوں نے چالیس سال تک کراچی یونیورسٹی میں لاکھوں طلبہ کوتعلیم دی، وہ ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعر، ایک ادیب، ایک مترجم بھی تھے، انہوں نے انگریزی، روسی اورکئی زبانوں کی کتابوں کے اردومیں ترجمے کئے۔ وہ عملی جدوجہد کرنے والے انسان تھے۔وہ ہمیشہ ظلم کوظلم کہتے رہے، ہرآزمائش سے گزرے، بزرگی کی عمر میں وہ ایم کیوایم میں شامل ہوئے، جب 2016ء میں ایم کیوایم وہ سینئر لوگ جنہوں نے ایم کیوایم کے نام سے سب کچھ حاصل کیامگروہ غداری کرکے اسی ایم کیوایم کو دفن کرنے نکل آئے، جنہوں نے 22 اگست 2016 ء کو40سال، 30 سال، 25سال تک ایم کیوایم میں رہنے کے بعد ایک ہی رات میں اپناپراناتعلق اوروفاکاعہد توڑکر قائد کو چھوڑ گئےاورایم کیوایم پاکستان بنالی، ایسے وقت میں پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اپنی وفا پر قائم رہے، وہ 22 اگست 2016 ء کے بعد الطاف حسین کی رابطہ کمیٹی میں ڈپٹی کنوینر بنے اورغداروں کامقابلہ کرتے ہوئے تحریک کے کام کوجاری رکھا۔اس کی پاداش میں انہیں گرفتارکرکے قید میں ازیتیں دی گئیں، جھوٹے مقدمات میں جیل میں اسیر رکھاگیا لیکن وہ ثابت قدم رہے، انہوں نے رہائی کے بعدبھی تحریک کاکام جاری رکھا، انہیں ایجنسیوں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ نہ ڈرے اورکام کرتے رہے۔
وہ 13 جنوری 2018ء کوساتھیوں سے یہ کہہ کرنکلے کہ ان کی بیٹی کل لندن جارہی ہے میں آج رات کاکھانا اس کے ساتھ کھاؤں گا، گھرجاتے ہوئے انہیں راستے سے اغواکرلیاگیا، انہیں رات بھر تشدد کانشانہ بنایاگیا، انہوں نے اپنی وفاداری تبدیل کرنے سے انکارکیا تو انہیں سفاکانہ تشددکا نشانہ بناکرشہید کردیاگیا اوران کی تشددزدہ لاش کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری کے ایک ویران مقام پر پھینک دی۔ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید آخری سانس تک اپنی وفاپر قائم رہے۔ اسی لئے انہیں شہیدِوفا کالقب دیا گیا۔ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید اتنے بڑے بزرگ اوراستاد تھے لیکن ان کے سفاکانہ قتل پر پوراملک خاموش رہا، کسی نے اس ظلم کوظلم نہیں کہا، اس لئے کہ وہ ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر تھے، وہ مہاجر تھے۔ انہوں نے کسی کے ساتھ تعصب نہیں کیابلکہ تعصب اورنفرت کانشانہ انہیں بنایاگیا۔
ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکی قربانی تمام وفاپرستوں کےلئے ایک مثال ہے، ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ میں ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکوسلام عقیدت پیش کرتاہوں۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکی قربانی کوقبول فرمائے، انہیں شہدائے بدر، شہدائےاحد، شہدائے کربلا کے درمیان جگہ عطافرمائے۔
آج ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کی آٹھویں برسی ہے، میں اس موقع پر تمام وفاپرستوں سے کہتاہوں کہ وہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کریں۔
الطا ف حسین
12 جنوری 2026ء
خیبرپختونخوا کے نوجوان اور باہمت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کراچی، حیدرآباد اورجامشورو کے دورے کرکے عوام کو جس طرح موبلائز کیا ہے اس سے سہیل آفریدی نے ثابت کیا ہے کہ وہ عمران خان کاایک سچا، مخلص اوربہادر سپاہی ہے۔ لوگ بڑ ے بڑے دعوے توکرتے ہیں لیکن جو مخلص ہوتے ہیں وہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے اورآگے بڑھ کراعلانیہ عمل کرکے دکھاتے ہیں۔ اب تک پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان کی گرفتاری اور 9مئی کے واقعات کے بعد ڈھائی سالوں میں ایک دو جلسوں کے علاوہ ایسا کوئی پاورشو نہیں کرسکی جیسا سہیل آفریدی نے عملی طور پرکرکے دکھایا ہے۔ کاش کہ پی ٹی آئی کی وہ قیادت جوجیل سے باہر ہے وہ اگر جرات وہمت کرکے ایسے عوامی پاورشو کرتی تو عمران خان آج جیل سے باہرہوتے۔
کراچی، حیدرآباد اورجامشوروکے عوام نے سہیل آفریدی کی آمد پر شاندارجلسے کرکے پنجاب کو مات دیدی ہے اور پنجاب پر شہ پڑ گئی ہے، اب اہل پنجاب کافرض ہے کہ وہ اس مات کاجواب دینے کے لئے سہیل آفریدی کو دوبارہ پنجاب کے دورے کی دعوت دیں اور لاہور میں مینار پاکستان پر ایک بہت بڑا اجتماع کرکے کراچی، حیدرآباد اور جامشورو کا ریکارڈ توڑ کردکھائیں۔
پی ٹی آئی کی قیادت ڈھائی سالوں سے عدالت عدالت کھیل رہی تھی اوراڈیالہ جیل کے باہرپریس کانفرنس کرنے کوہی جدوجہد سمجھ رہی تھی لیکن مجھے خوشی ہے کہ لوئرمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آگے آکر عملی میدان میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے اورعوام میں ایک نیاجوش و جذبہ پیدا کردیا ہے جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں۔
میں 47 برسوں سے یہی کہتا آیا ہوں کہ کسی بھی تحریک یاعوامی سیاسی جماعت میں نوجوان ہی ہراول دستہ ہوتے ہیں، وہی اس کی جدوجہد میں مرکزی کردارادا کرتے ہیں، مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور قربانیاں دیکر اپنی تحریک کومنزل مقصود پرلے جاتے ہیں۔
میں ایم کیوایم کے کارکنان وعوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اتوارکوباغ جناح میں سہیل آفریدی کے جلسہ میں شرکت کرکے اسے کامیاب بنائیں۔
الطا ف حسین
ٹک ٹاک پر 376 ویں فکری نشست سے خطاب
10 جنوری 2026ء
https://t.co/VELRyUuaJz
ویلکم ، ویلکم ۔ سہیل آفریدی ویلکم ٹو کراچی
خیبر پختونخوا کے نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کراچی تشریف لانے پر اپنی جانب سے ، اپنی رابطہ کمیٹی ، CEC کی جانب سے، اپنے تمام وفاپرست ساتھیوں اور اہلیانِ کراچی کی جانب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں
#SohailAfridiWelcome
تحریک انصاف والوں نے مجھ پربہتان لگاکر سُر چھیڑا ہے،اب انہیں پورا راگ سننا ہوگا
---------------------------------------
گزشتہ ڈھائی برسوں سے میں PTI کی ایم کیوایم اور الطاف حسین دشمنی کو بالائے طاق رکھ کر تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کی پرزور حمایت اور وکالت کرتا چلاآرہا ہوں۔
آج ملک کی تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب نے ڈیڑھ گھنٹے طویل پریس بریفنگ کی اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے،میں نے اسے غورسے سنا۔
میں نےتحریک انصاف کے رہنماؤں، ترجمانوں، پی ٹی آئی کے ہمدرد یوٹیوبرز اور وی لاگرز کا مؤقف بھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ اس پریس کانفرنس کے جواب میں کیا دلائل دے رہے ہیں۔ اسی دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر شہزاد اکبر کاایک انٹرویودیکھاجووہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیاٹیم سے تعلق رکھنے والےایک یوٹیوبرکودے رہے تھے۔
پی ٹی آئی کے اس یوٹیوبر نے بلاوجہ میرےمتعلق جو بات کہی وہ انتہائی افسوسناک تھی۔ میراخیال تھا کہ میں جس عمران خان صاحب اور پی ٹی آئی کی ڈھائی برسوں سے جس طرح سپورٹ کررہاہوں شاید اسے دیکھ کر پی ٹی آئی کے رہنما اور ان کے ارکان ایم کیوایم اورالطاف حسین سے اپنی مخاصمت کوخیرباد کہہ چکے ہوں گے لیکن کل پھرپی ٹی آئی کی سوشل میڈیاٹیم کے یوٹیوبر کی جانب سے مجھ پر بہتان لگاتےہوئے کہاگیاکہ”فوج کےدو ہی سب سےبڑےلےپالک ہیں الطاف حسین اور نواز شریف“۔
انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھااس سے ثابت ہوتاہے کہ پی ٹی آئی والوں کے دلوں سے ایم کیوایم اورالطاف حسین کی مخالفت آج تک نہیں نکلی ہے۔ مجھے آج تک علم نہیں کہ پی ٹی آئی والے مجھ سے بغض اورعداوت کیوں کرتے ہیں۔
میں پاکستان کا واحد لیڈر ہوں جو سیلف میڈ ہے، مجھے لیڈری وراثت میں نہیں ملی اورنہ ہی الطاف حسین کاتعلق مراعات یافتہ طبقے سے ہے، الطاف حسین لوئر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتاہے۔میں نے جامعہ کراچی میں طلباء تنظیم کی بنیاد رکھی پھر غریب ومتوسط طبقہ کے حقوق کیلئے ایم کیوایم قائم کرکے پورے ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کیلئے سیاسی فکروفلسفہ دینا شروع کیا۔
ان حقائق کے برعکس پہلے پیپلزپارٹی نے الزام لگانا شروع کیاکہ ایم کیوایم جنرل ضیاء الحق نے بنائی ہے۔پھر اس کے ساتھ تحریک انصاف اور ن لیگ والے بھی یہ بہتان لگانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب میں نے 11جون 1978ء کو آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن قائم کی تو میں جامعہ کراچی میں فارمیسی فیکلٹی کاطالبعلم تھا ۔اس وقت ملک میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا نافذ تھا۔میں نے 14، اگست1979ء کو قائد اعظم کے مزار کے سامنے بنگلہ دیش میں محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے پرامن مظاہرہ کیاتومجھے کو گرفتارکیاگیا۔2، اکتوبر 1979ء کو جنرل ضیا کی سمری ملٹری کورٹ نے ہی مجھے 9 ماہ قیداور 5کوڑوں کی سزا سنائی۔ اس کے بعدبھی 1986ء اور1987ء میں بھی جب مجھے گرفتارکرسرکاری ٹارچرسیلوں میں مجھ پر تشددکیاگیاوہ جنرل ضیاء الحق کاہی دور تھا۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ مجھ پر فوج کالے پالک ہونے کابہتان لگانا انتہائی شرمناک اورسراسربے بنیاد ہے۔مجھے سوائے عوام کے کسی کی سپورٹ حاصل نہیں رہی، میں نے کبھی اپنی ذات یا اپنے بہن بھائیوں کے مفاد کیلئے سیاست نہیں کی،میں نے صرف اورصرف پاکستان کے غریب ومظلوم عوام کے غصب شدہ حقوق کیلئے جدوجہد کی جوکہ آج تک کررہاہوں اورآخری سانس تک کرتارہوں گا۔
میں نے کبھی عمران خان سے کوئی مخاصمت نہیں رکھی۔ 2013ء کے انتخابات کے دوران جب عمران خان اسٹیج سے گر کرزخمی ہوگئے تھے تو میں نے ایم کیوایم کی انتخابی مہم منسوخ کردی تھی، عمران خان کی جانب سے مجھ پر الزامات بھی لگائے گئے، عمران خان نے اسمبلی کے فلوراور جلسوں میں اپنی تقاریر میں مجھے ڈرون حملے میں قتل کرنے تک کی بات کی۔ لیکن جب عمران خان کی حکومت ختم کی گئی اورانہیں گرفتارکیاگیاتومیں نے پچھلی تمام باتوں کو بھلاکرعمران خان کی حمایت کی۔
میں نے ماضی میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں یکجہتی کے لئے اپنے ساتھیوں تک کو بھیجا، پی ٹی آئی والوں کی جانب سے ایم کیوایم کے کارکنوں کے ساتھ اچھاسلوک نہیں کیاگیابلکہ میرے کارکنان کونشاندہی کرکے گرفتارتک کروایا۔ میں پھر بھی پی ٹی آئی کی حمایت کرتا رہا لیکن پی ٹی آئی والے مجھ پر بہتان تراشی کرکے میری حمایت کاصلہ دے رہے ہیں۔
1/2
سانحہ 31اکتوبر1986ء کیا ہے
#سانحہ_31_اکتوبر_1986
31، اکتوبر1986ء کی تاریخ ایم کیوایم کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ، یہ دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ باب کی حیثیت سے یاد رکھی جائے گی ۔ اس دن ایک سازش کے تحت ایم کیوایم کے کارکنان وعوام پر ظلم وجبر ڈھایا گیا تھا لیکن یہ المیہ ہے کہ پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو علم ہی نہیں ہوگا کہ الطاف حسین کی سیاسی فلاسفی کو پھیلنے سے روکنے اور ایم کیوایم کو مٹانے کیلئے اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے کیا سازش کی تھی۔ صحافی،تجزیہ نگار ، سیاستدان اوردیگرلوگ کبھی اس سانحہ 31 اکتوبر کازکرنہیں کرتے کیونکہ اس سانحہ میں ان کے گھرکا کوئی فرد شہید نہیں ہوا تھا۔ آج سانحہ 31، اکتوبر 1986ء کو 39 سال گزرچکے ہیں ۔
ایم کیوایم نے 8 اگست 1986ء کو کراچی کے نشترپارک میں شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ عام منعقد کرکے ماضی کے تمام جلسوںکا ریکارڈ توڑدیا تھا۔ ایم کیوایم کے اُس کامیاب ترین جلسہ عام کو دیکھنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ الرٹ ہوگئی۔ سیاسی رہنماحیران رہ گئے ۔اس جلسہ میں دنیانے ایم کیوایم کامثالی نظم وضبط دیکھاکہ جلسہ سے میری تقریرکے دوران موسلا دھار بارش ہوئی لیکن ایک بھی فرد جلسہ گاہ سے اُٹھ کر نہیں گیا۔تمام صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار جلسہ عام کی کامیابی اورمثالی نظم وضبط کودیکھ کر سکتے میں آگئے ۔
اس عظیم الشان جلسےکے بعد حیدرآباد کے کارکنان کے مطالبے پر ہم نے 31اکتوبر 1986ء کو دوسرا جلسہ عام حیدرآبادکے پکاقلعہ میں منعقد کرنے کااعلان کردیا۔حیدرآباد میں جلسہ عام کے سلسلے میں اعلان کیا گیا تھا کہ 31 اکتوبر کو حیدرآبادکے جلسے میں شرکت کیلئے کراچی سے گاڑیوں کے قافلے عائشہ منزل حیدرآباد روانہ ہوں گے اور الطاف حسین اس قافلے کی قیادت کریں گے۔ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کے خلاف سازشی منصوبے بنانے شروع کردیئے تاکہ لوگ خوف زدہ ہوکر ایم کیوایم کوچھوڑ دیں۔چنانچہ اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر ایسٹ اشفاق میمن نے نائن زیرو فون کرکے مجھے کہاکہ ان کے دفترمیں سہراب گوٹھ کے بزرگوں کا ایک وفد آیا ہوا ہےجو کہہ رہے ہیں کہ کل جب ایم کیوایم والے سہراب گوٹھ سے گزریں گے تو وہ سہراب گوٹھ پر حملہ کریں گے لہٰذا آپ اپنا وفد میرے دفترمیں بھیج دی۔ میں نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ اشفاق میمن نے سے کہاکہ کیا کوئی اپنے پروگرام کو خراب کرنےکیلئےکسی پر حملہ کرے گا؟ ہمیں وفد بھیجنے میں کوئی عارنہیں تھی لہٰذا میں نے اپنا وفد ڈی سی آفس بھیج دیا۔ ہمارے وفد نے سہراب گوٹھ کے بزرگوں کو یقین دلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور پھر ایک تحریری لکھی گئی جس پر سب کے دستخط لئے گئے ۔
مجھے سازش کی بو ُ آرہی تھی لہٰذا ہم نے کراچی بھرمیں تمام کارکنوں کو سختی سے ہدایت کرادی کہ جب قافلہ سہراب گوٹھ سے گزرے تو تمام پرچم لپیٹ لیے جائیں اور وہاں سے گزرتے وقت کوئی نعرے بازی نہ کرے ۔
پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ میں صبح 11 بجے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے حیدرآباد پہنچوں گا لیکن میں نے اپنے پروگرام میں بھی تبدیلی کی اورڈاکٹر عمران فاروق اور زرین مجید کوساتھ لیکر صبح چاریاپانچ بجے خاموشی سے حیدرآباد کیلئے روانہ ہوگیا۔ اس وقت حیدرآباد کے زونل انچارج کنورنوید مرحوم سےکہہ کر حیدرآباد کے ایک ہوٹل میں تین کمرے بک کرالئے جہاں ہمارے ناموں کا اورشناختی کارڈز کااندراج کیاگیا پھر ہم نے گواہی کیلئے حیدرآباد کے اخباری نمائندوں کو ہوٹل بلوالیااورانہیں جلسہ کے حوالے سے اہم نکات سے آگاہ کیا۔اس طرح وہ صحافی حضرات بھی گواہ ہوگئے کہ الطاف حسین نے کراچی سے آنے والے قافلے کی قیادت نہیں کی ہے کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ یہ کوئی واقعہ کرکے مجھ پر الزام لگائیں گے ۔
31 اکتوبر کے واقعہ کی ایف آئی آر بھی درج کی گئی کہ الطاف حسین نے سہراب گوٹھ پر گاڑی سے باہرآ کر ہدایت کی کہ فائرنگ کرو جبکہ میں جلو س میں تھا ہی نہیں ۔ جب قافلہ سہراب گوٹھ پہنچا تو ایک گاڑی تیزی سے گزری تو سازشی عناصر نے سمجھا کہ یہ گاڑی الطاف حسین کی ہے اور انہوں نے اس گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی ۔ فائرنگ سے قافلے میں شریک سات کارکنان موقع پر شہید جبکہ درجنوں کارکنان شدید زخمی ہوگئے ۔ لوگوںنے راستہ بدلا اور سہراب گوٹھ کے بجائے نیشنل ہائی وے سے حیدرآباد پہنچے تو حیدرآباد میں مارکیٹ چوک کے قریب ایک پٹھان کے ہوٹل سے بھی قافلے پر فائرنگ کروائی گئی اوروہاں بھی کئی ساتھی شہید وزخمی ہوئے ۔سہراب گوٹھ اورمارکیٹ چوک کے مقام پر قافلے پر حملے کامقصدیہ تھا کہ اس کے ذریعے پٹھان مہاجرفسادات کرائے جائیں۔ 1/2
میں پاکستان اورافغانستان کےدرمیان کامیاب مذاکرات کے بعد جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتاہوں اوردعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ، دونوں ممالک کو سچائی اور ایمانداری کے ساتھ اس معاہدے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوریہ معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔(آمین)
دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی اور خودمختاری کااحترام کریں ، دونوں ممالک کےدرمیان دوستانہ اوربرادرانہ تعلقات فروغ پائیں۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، میں افغانستان سےکہوں گا کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرے ، پاکستان بھی افغانستان کا احترام کرے، پاکستان کی فوج سے کہوں گا کہ وہ امریکہ کیلئےافغانستان کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ امریکہ ہزاروں میل دور ہے، وہ کئی سال افغانستان میں رہ کر واپس چلاگیا۔آج امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ افغانستان کے خلاف کارروائی کرے لیکن دانشمندی کا تقاضا ہےکہ پاکستان کو ایسی کسی بھی کارروائی سے خود کو الگ رکھنا چاہیے ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 340 ویں فکری نشست سے خطاب
31، اکتوبر2025
اسٹیبلشمنٹ کے نام الطاف حسین کا اہم پیغام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسٹیبلشمنٹ نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے، لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کے خلاف اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ ایم کیوایم ملک دشمن نہیں، ایم کیوایم ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کی دشمن ہے، کرپشن کی دشمن ہے، ان چیزوں پر ہم سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ آپ آئیے، ہمارے ساتھ بیٹھئے، اپنی شرائط بتائیے، ایم کیوایم سے بات کیجئے، خدارا ایم کیوایم کو، الطاف حسین کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دیجئے۔میں پاکستان کیلئے وہ کچھ کرسکتا ہوں جو شاید پاکستان کے اور لیڈر نہ کرسکیں ۔
الطاف حسین اپنی تحریک، منشور، نظریئے اورسیاسی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کررہا ہے۔ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے پاکستان کو بچانے اورفرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے عملی اقدام کیا تواس سلسلے میں، میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں۔ ہمیں اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ سے پیسے کی یا کسی اور چیز کی مدد نہیں چاہیے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے اسٹیبلشمنٹ کی غیرجانبدارانہ پالیسی ہو،ہم نے ملک کے خلاف نہ کوئی سازش کی نہ ہی ملک کے خلاف کوئی ایسی بات کریں گے جس سے ملک کو، ملک کی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچے۔
ہم اسٹیبلشمنٹ کویہ بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ ہماری کسی بات کو ملک کے خلاف سمجھیں یا کسی انٹرنیشنل معاملے پرآپ چاہیں کہ ہم اس پرگفتگو کریں یا نہ کریں تو آپ ہمیں آگاہ کریں تاکہ ہم آپ کی پالیسی کے مطابق آگے سفرکرسکیں۔
ماضی میں جوکچھ ہوا ہم ان افسوسناک واقعات کوایک طرف رکھ دیں گے لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ ہم اپنے شہیدوں کو بھول جائیں تو ہم اپنے شہیدوں کو نہیں بھول سکتے،ہم اپنے شہیدوں کا دن مناتے رہیں گے، ہمیں اس کی تو آپ کواجازت دینی ہوگی۔ آپ ہم پر سے پابندی ہٹائیں، ہمیں اجازت دیں، ہم ملک کیلئے اب بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، ملک کی فلاح وبہبود اورعوام کیلئے بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ میں اپنی تمام ترصلاحیتیں اوراپنا تمام تر علم پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے لگانے کیلئے تیارہوں، بس آپ سے غیرجانبداری چاہتا ہوں، آپ ہم سے یہ نہ کہیں کہ یہاں فلاں کو کھڑاکردویا فلاں کو ووٹ دے دو، ہم نے ہر الیکشن میں مخالفین کا احترام کیا، جتنے الیکشن ہوئے اس دوران کسی بھی سیاسی مخالف بشمول جماعت اسلامی، ہم نے کسی بھی مخالف کے کیمپ پرکبھی کوئی حملہ نہیں کیا، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم نے ان کے کیمپوں پر حملہ کیا ہے تو وہ جھوٹ کہتا ہے، ہمارے انتخابی کیمپوں پر ضرور حملے ہوئے لیکن ہم نے کبھی جواب میں کسی کے کیمپ پر حملے نہیں کیا، اس پر میری زیرو ٹالیرنس کی پالیسی تھی کہ اگر جس نے بھی ایسا کیا تو وہ پارٹی سے خارج ہوگا۔
اسٹیبلشمنٹ کے نام میرا یہ پیغام ملک وقوم کے مفاد کے لئے ہے، میں ملک کی خاطر تلخیوں کوبھلا کربہتر تعلقات چاہتا ہوں، میں امید کرتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی میرے اس انتہائی مثبت پیغام کا مثبت انداز میں ہی جواب دیا جائے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 340 ویں فکری نشست سے خطاب
31، اکتوبر2025
آج @OfficialMQM کےسینئر اراکین انورخان ترین اور نثار پنہور کی جبری گمشدگی کو27دن گزرگئے
میڈیاخاموش
سیاسی ومذہبی جماعتیں چُپ
عدلیہ مجبور
انسانی حقوق کی تنظیمیں ظالموں کی سہولت کار ہیں
آخر ظلم کی اس رات کوڈھلنا ہی ہے
مگر مظلوموں کےدِلوں میں کسک رہ جائے گی
#ReleaseMQMLeadersNOW