محسن نقوی کو مسلم لیگ ن نے سینیٹر نہیں بنایا۔ 2024 کے سینیٹ انتخابات میں پنجاب کی 7 جنرل نشستوں میں سے 4 نشستیں مسلم لیگ ن نے حاصل کی جبکہ 2 نشستیں تحریک انصاف کو ملی۔ ایک نشست پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی کے حصے میں آئی جنہوں نے محسن نقوی کو مشترکہ امیدوار بنایا۔ اس طرح محسن نقوی ان جماعتوں کی حمایت سے پنجاب سے آزاد حیثیت میں سینیٹر منتخب ہوئے۔
اسی طرح فیصل واوڈا بھی 2024 کے سینیٹ انتخابات میں سندھ سے پی پی پی اور ایم کیو ایم کے ووٹوں سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے سینیٹر منتخب ہوئے
پیپلز پارٹی کا گزشتہ 9 سال کے دوران جمہوریت اور پارلیمانی سیاست کے حوالے سے کردار انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ 2018 میں مسلم لیگ ن نے میاں رضا ربانی کو متفقہ طور پر چیئرمین سینیٹ بنانے کی پیشکش کی تھی، مگر پیپلز پارٹی نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے فیض حمید کے خصوصی نمائندے صادق سنجرانی کی حمایت کی جنہیں پی ٹی آئی کی بھی حمایت حاصل تھی صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں میں پیپلز پارٹی نے ایسے متعدد سیاسی فیصلے کیے ہیں جن پر جمہوریت، پارلیمانی بالادستی اور اصولی سیاست کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
کارساز خود کش حملے کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکن سینکٹروں اموات کے باوجود بھاگنے کی بجائے بی بی کی گاڑی کے گرد گھیرا بنا کر کھڑے ہو گئے جبکہ پی ٹی آئی کارکن صرف آنسو گیس شیلنگ پر بشری بی بی کو گاڑی میں اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گئے
پنجاب سے حماد اظہر کا لاکھوں کا قافلہ اب تک ڈی چوک نہیں پہنچا؟؟؟
خیبرپختونخوا سے اسلام آباد اڑھائی گھنٹے کا راستہ ۔۔۔ ابھی تک بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کا قافلہ بھی نہ پہنچ سکا ۔۔۔
صبح سے شام ہو گئی، پورے پاکستان خصوصاً پنجاب اور KP سے ایک بندہ بھی اسلام آباد ڈی چوک نہیں پہنچا۔
“فائنل کال” تو “مِسڈ کال” کیطرح ناکام ہو گئی!
سابق صدر آصف علی زرداری کو جب اڈیالہ جیل بند کیا گیا تو ہر پیشی پر جب وہ عدالت سے واپس جیل جاتے تو جیل حکام حُکم کے مطابق کہتے،
کیا نام ہے
آصف علی
باپ کا نام
حاکم علی
کون سے جرم میں ہو
پتہ نہیں
ہاتھ اوپر کرو
اور پھر ہاتھ اوپر کراکے سابق صدر کی تلاشی لی جاتی۔ یاد رہے کہ کہ بیماری کے باعث زرداری ہاتھ کندھے سے اوپر نہیں اُٹھا سکتے تھے۔ پھر اس سب کی ویڈیو بنا کر عمران خان کو بنی گالہ بھجوائی جاتی
کیا زرداری صاحب نے کبھی شکوہ یا ذکر کیا؟
🙏
ہم سندھ حکومت کے طرز پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو وفاق پر لاگو کریں گے، جس کی اس ملک کو اس وقت اشد ضرورت ہے۔ صوبہ سندھ اس سلسلے میں شاندار کام کررہا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو۔
آج ایک داماد نے اپنے سسر کو صدیوں بعد اسی سپریم کورٹ سے رہائی دلوائی جہاں سے اسکو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
پاکستان پیپلزپارٹی کبھی بھی آصف علی زرداری کا قرض نہیں اتار پائی گی۔
#بھٹو_بےقصور
آصف علی زرداری مقابلہ محمود خان اچکزئی
صدارتی انتخاب کا نتیجہ
قومی اسمبلی
آصف علی زرداری 205 ووٹ
محمود خان اچکزئی 96 ووٹ
سینیٹ اسمبلی
آصف علی زرداری 55 ووٹ
محمود خان اچکزئی 24 ووٹ
بلوچستان اسمبلی
آصف علی زرداری 45 ووٹ
محمود خان اچکزئی 17 ووٹ
پنجاب اسمبلی (6.1 فارمولا کے تحت)
آصف علی زرداری 36 ووٹ
محمود خان اچکزئی 18 ووٹ
سندھ اسمبلی (2.8 فارمولا کے تحت)
آصف علی زرداری 52 ووٹ
محمود خان اچکزئی 6 ووٹ
کے پی کے اسمبلی (2.42 فارمولا کے تحت)
آصف علی زرداری 11 ووٹ
محمود خان اچکزئی 38 ووٹ
آصف علی زرداری کل ووٹ= 404
محمود خان اچکزئی کل ووٹ= 199
بھٹو خاندان نے 1972 میں ممتاز بھٹو کے بعد بھٹو فیملی سے کسی کو وزیراعلی سندھ نہیں بنایا۔ غلام مصطفی جتوئی، آفتاب شعبان میرانی، قائم علی شاہ، عبداللہ شاہ، مراد علی شاہ کو وزیراعلی سندھ بننے کا موقع فراہم کیا۔ صوبائی اپوزیشن لیڈر بھی نثار کھوڑو اور قائم علی شاہ کو مقرر کیا۔
دوسری طرف شریف خاندان سے نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور اب مریم نواز کو وزیراعلی بنایا گیا۔ یہاں تک کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز صوبائی اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔ مسلم لیگ کی جانب سے صرف غلام حیدر وائیں اور دوست محمد کھوسہ وہ خوش قسمت ہیں جنکا تعلق شریف خاندان سے نہیں تھا اور وزیراعلی بنے۔