میری آنکھیں تمہیں دیکھنے کی حسرت میں مرگئیں
۔۔۔۔۔۔۔
جیسے کوئی چار ماہ کا ادھورا بچہ
جو ماں کی کوک میں ہی دم توڑ گیا
اور وہ روتی ہے کہ وہ اُس کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکی۔
۔۔۔
مجھے بہت زیادہ چپ رہنے والوں سے وحشت ہوتی تھی اور مجھے تجسس تھا کہ یہ کسی سے بات کیوں نہیں کرتے ، کسی کی طرف بھی نہیں دیکھتے پھر ایک دن آیا جب میرا شمار خود ان میں ہونے لگا۔۔