عمران خان کو صدر مورسی کی طرح قتل کرنیکا خدشہ؟
عالمی شہرت یافتہ دنیائے کرکٹ کے 21 ہیروز نے عالمی ہیرو عمران خان کےساتھ غیرانسانی سلوک کیخلاف شہبازشریف کو خط لکھ دیا
*عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ہے* اور اسے دوبارہ جیل سے کیوں رہا نہیں کرتے۔ عمران خان کوجیل میں قتل کرنے کی سازش کیوں ہو رہی ہے
انگریزی تحریر : *جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال*
میں آپ کو بتاؤں کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔
*1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے*۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔
بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم سب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔
*2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا*۔
جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی -
دوئم ہندوستان سے روسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا - یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔
*عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا*۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔
*عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا*۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔
*اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا*۔
*عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک صدام حسین اور معمر قذافی کے پاس نہیں پہنچا جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں*.
*اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی رک جائے گی*.
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے سوچیں.
یہی یہ سب کچھ موجودہ حکومت کر لے تو ملک خوشحال ھو سکتا ھے۔
........ .......... ،،
آپ کو خدا کا واسطہ ہے
اس تحریر کو سچا مسلمان اور محب وطن بن کر سوچیں 40 سال سے منافقت کی سیاست سے ہٹ کر سوچیں
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جا چکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے، تب تک جب تک ان کے کیسز کی سماعت نہیں ہو جاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائی اور علاج کی مناسب سہولیات مہیا نہیں کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہیے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم 47 کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مراد سعید
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MuradSaeedPTI
خان کی یہ بات یاد رکھیے گا اور محمد مرسی کے قتل کی داستان ضرور پڑھیے گا۔ 25 اکتوبر 2025 کو محمد مرسی کے مبینہ قاتل سے عاصم منیر کی ملاقات ہوئی۔ اسکے بعد سے عمران خان کو محمد مرسی والے حالات کا سامنا ہے۔ عمران ریاض خان
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan@ImranRiazKhan
پمز ہسپتال میں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
#ImranKhan
کرکٹ کے میدان سے ناممکن اسپتال کو ممکن بنانے تک، مینار پاکستان سے پایَۂ تَخْت تک، واشنگٹن میں کسی بھی پاکستانی حکمران کے پاکستانیوں سے پہلے خطاب سے لیکر اقتدار سے نکلتے ہی سیاسی عروج کے بے مثال سفر تک، ایک سال میں ایک سے بڑھ کر ایک 50 جلسوں سے لیکر جیل میں باوقار مزاحمت کی ناقابل تسخیر علامت تک، لامتناہی امتحانوں سے اسپتال پہنچنے تک، یہ شخص ہر مقام پر ورطۂ حیرت میں ڈالتا رہا ہے۔ اس شخص کی مقناطیسیت کا ہمارے پاس کوئی توڑ نہیں، کیوں، کیونکہ لوگ اُس کے ساتھ ہیں اور ہم اُس سے نہیں دراصل اپنے لوگوں سے لڑ رہے ہیں
جو ڈرامہ کل رات مقتدرہ نے رچایا، انہوں نے صرف عوام کو بیوقوف نہیں بنایا، انہوں نے عدلیہ کو بھی بیوقوف بنایا ہے۔ اس سب کو #ContemptOfCourt کہتے ہیں۔
#خان_کی_واپسی_ناگزیر_ہے
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا اظہارِ تشویش
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ حکام کا طرزِ عمل قابلِ افسوس اور کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے واضح احکامات جاری کیے تھے، جن میں ہسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنے کی ہدایت شامل تھی۔ اس کے باوجود چند گھنٹوں کے طبی عمل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کی مکمل طبی اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
آخر ایسی کیا عجلت تھی کہ ایک ایسے مریض، جس کی صحت کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، کو چند گھنٹوں میں طبی طور پر مطمئن قرار دے کر دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا؟
اگر ان کی طبی حالت مکمل طور پر تسلی بخش تھی تو تفصیلی اور مستند میڈیکل رپورٹ سامنے لائی جائے۔ اور اگر مزید نگرانی یا علاج درکار ہے تو اسے عدالتی احکامات کے مطابق بلا رکاوٹ فراہم کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کی صحت، طبی معائنے، ہسپتال کی منتقلی اور دوبارہ اڈیالہ جیل بھیجنے کے پورے عمل میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
صحت سیاسی معاملہ نہیں، بنیادی انسانی حق ہے۔
جمشید حسین
@jamshed_hrc
چیئرمین
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
#ImranKhan #ImranKhanHealth #RightToHealth #HumanRights #RuleOfLaw #SupremeCourt #AdialaJail #HRCPakistan #Pakistan