پاکستان کی یہ دو وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے کردار نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیے
ایک ڈی آئی جی فیصل کامران صاحب جو مریم نواز کے ترجمان کے روپ میں سامنے آئے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی ہدایت پر ہم نے خواتین کو بازیاب کر لیا مگر بعد ازاں یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ثابت ہوا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پر بھی پیکا قانون کا اطلاق ہوگا یا ان کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
دوسری شخصیت سہیل ظفر چٹھہ صاحب ہیں جنہیں غریب کے نیفے میں موجود پستول دکھائی دیتا ہے غریب کا مبینہ مقابلہ دکھائی دیتا ہے مگر جب اثر و رسوخ رکھنے والے بااختیار افراد سامنے آتے ہیں تو ان کی تمام کارروائیاں یکسر ماند پڑ جاتی ہیں
یہ نظام اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اس معاشرے کا ایک طبقہ اس قدر بے لگام اور منہ زور ہو چکا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے چاہے کرے اور اس سے باز پرس کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا
یاسر شامی سی سی ٹی وی فوٹیج لے آیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے،غیر ملکی خواتین جنکا ریپ ہوا وہ گاڑی سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
لاہور پولیس نے انہیں بازیاب نہیں کروایا ۔
اسمبلی کی کرسی پر بیٹھا یہ نوسرباز کس منہ سے آئین قانون کی بات کرتا ہے جب اسکے مقدس ایوان کے ممبران کو نقاب پوش یہاں سے اغوا کر لیتے ہیں 48 گھنٹے تک اگلوں نے تالے لگا کر اسکا آئین یرغمال بنائے رکھا ! یہ ٹوپیاں کروا رہا ہے نوسرباز ہیں سارے
پرانے زمانے دیاں زنانیاں کھسم دا ناں نہی لیندیا سَن
میاں صاحب وی گولڈن شیک ہینڈ لے کے گل عوام تے پائی جاندے نے
محمد حنیف نے تُن ہی دیا ہے پر مردے اوہ جنا اچ غیرت ہووے
جنرل ضیاء ایک گھٹیا، غکیظ اور حبیث جنرل تھا جس نے ایک سولین صدر اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے اقتدار کی خاطر پھانسی چڑھادیا تھا۔ افسوس بے نظیر شہید کا خاوند اور بیٹا ببانگ دہل فوجی اسٹیبلشمنٹ کو نہ صرف سپورٹ کرتے ہیں بلکہ اداروں کو تباہ کرنے والے اقدام میں بھرپور معاونت بھی کرتے ہیں۔
یہ ظلم کی انتہا ہے ! مجرموں کو فورا پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے ! اس ملک میں نا خدا کا خوف ہے کسی کو اور ریاست تو ویسے ہی الیکشن میں دھاندلی کرنے میں مصروف ہے !
”جیسے فوج نواز شریف اور شہباز شریف کو لے کر آئی ہے ، ویسے ہی فوج مجھے لے کر آ رہی ہے“
گلگت بلتستان GB-13 سے نون لیگ کے امیدوار فرمان علی کی اعترافی تقریر
یہ ہے الیکشن کی اصلیت کہ اپنے منہ سے مان رہے ہیں.
کلاسرا صاحب آپ جھوٹ بول رہے ہیں میں نے آپکو بتایا تھا کہ آپکا چینل آپکو ریٹنگ نہ آنے پر نکال رہا ہے اور مجھے یہ بات آپکے چینل کے ایک سینیئرنے بتائی ہے اور ہاں آپ کو میں نے اس وقت بھی بتایا تھا کہ خبر آپکے چینل میں موجود ایک فیصلہ ساز کی مدد سے مجھ تک پہنچی ہے۔ آپ نے کہا کہ مجھے ابھی تک معلوم نہیں ہوا۔ میں نے آپکو بتایا کہ خبر پکی ہے چینل نے فیصلہ کر لیا ہے آپ معلوم کروا لیں کہ اسکے پیچھے کیا ہے جبکہ مجھے آپکے پروگرام کے عوام میں غیرمقبول ہونے کا بتایا گیا ہے۔ یاد کریں اسی کال میں آپ نے کچھ صحافیوں کی کافی برائیاں بھی کی تھیں اور بعد میں آپ نے مجھے خود رابطہ کرکے بتایا کہ مجھے بھائی لوگوں نے نکلوایا ہے میں نے پوچھا کس نے تو آپ نام لینے سے بھی ڈر رہے تھے اور کہا کہ مل کر بتاؤں گا۔جیسا کہ آپ اب بھی صرف کمزور پر ہی حملہ آور ہوتے ہیں۔ مرے ہوئے کو ہی مارتے ہیں۔ میں انتظار کروں کہ کہ کس دن آپ عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے مظالم کے خلاف زبان کھولتے ہیں۔ ذاتی حیثیت میں تو آپ سے کوئی گلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جس ارشد شریف نے آپکو سپورٹ کیا آپکو متعارف کروایا آپ پر احسانات کیے آپ تو اسکے قاتلوں کے ساتھیوں سے دوستیاں نبھا رہے ہیں۔ معاف کیجیے گا کلاسرا صاحب آپ اپنے نام نہاد اصولوں سمیت (جو صرف کمزور سیاستدانوں کے لیے ہیں) بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ نئی نسل آپکی شعبدہ بازی پہچان چکی ہے۔ اب بھی وقت ہے ظلم کے خلاف بولیے ارشد شریف کے کھلائے کسی ایک لقمے کی ہی لاج رکھ لیجیے باقی آپکی مرضی ہے۔ مجھے آپکو بار بار جواب دینا بھی پسند نہیں۔