یہ ڈاکٹر رنگن چٹرجی ہیں۔
انہوں نے 20 سے زیادہ سال جدید طرز زندگی کے صحت پر اثرات ��ا مطالعہ کرتے گزارے ہیں۔
انہوں نے دریافت کیا کہ
اکثر موزی بیماریاں جنیاتی نہیں بلکہ ہماری روزانہ کی روٹین سے جنم لیتی ہیں
انہوں نے 7 ایسی عادتیں بتائی ہیں جو لوگوں کو قبل از وقت موت سے قریب کررہی ہیں اور سب کو ان سے بچنا چاہیے
یہاں وہ خطرناک عادتیں ہیں :🧵
کسی کا میرے سے ان باکس میں سوال پوچھنا بنتا نہیں ہے میرا اور جمعیت اہلحدیث پاکستان کا موقف مدارس کے حوالے سے محافظ مدارس و مساجد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہم آہنگ ہے
1975 میں، کوڈک دنیا کی سب سے طاقتور فوٹو کمپنی تھی
جس کی مالیت 31 بلین ڈالر تھی۔
2012 تک، وہ مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکی تھی...
نہ مقابلے کی وجہ سے، نہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے - بلکہ ایک جان لیوا فیصلے کی وجہ سے...
یہ کاروباری تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے (اور اس سے بچنے کا طریقہ): 🧵
ابصار عالم اب بھاگنا مت میری یاداشت بدترین تشدد کے بعد بھی الحمدللہ اچھی ہے یہ معاملہ ایک ایسے ماہر کار چور کا تھا جس نے پولیس سے ملی بھگت کرکے کروڑوں کی گاڑیاں چوری کی��۔ لین دین پر تنازعہ ہوا تو پولیس نے اسے پکڑ کر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا اور کروڑوں کا مال ہڑپ لیا اسکے بھائیوں نے جعلی مقابلے کے خلاف آواز اٹھائی تو اسکے 4 بھائی جو ملوث نہیں تھے وہ بھی اٹھا کر قتل کر دیئے۔ ان لڑکوں کی ماں میرے پاس فریاد لائی تو معاملہ کھل گیا۔ پولیس والوں نے شریف خان��ان تک سفارش پہنچائی اور پھر اس ٹاؤٹ نے یہ نوٹس بھیجا جسکا میرے پروگرام یا پیمرا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عدالت میں پولیس زمہ دار نکلی اور عدالت کے احکامات کے باوجود ان پولیس والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ شریف خاندان کا دور ایسے بے شمار مظالم سے بھرا پڑا ہے جس پر ابصار عالم جیسے وظیفہ خور سرکاری عہدوں کے لالچی پردے ڈالتے رہے ہیں آج بھی یہ شخص سانحہ ڈی چوک کا چشم دید گواہ ہونے کے باوجود اپنے آقاؤں کی گردن بچانے کے لیے اپنا ضمیر بیچ رہا ہے۔
یہ کوئی ڈرانوی فلم کا سین نہیں بلکہ صیدنايا جیل میں قید ہماری بہن ہے
اس قید و بند نے اس کے چہرے کے خدو خال سنہری بالوں کا رنگ کیسے کر دیا ۔۔۔۔
معلوم نہیں کتنے دہائیوں بعد یہ اس کال کوٹھی و پاؤں میں پڑی بیڑی سے آزاد ہو گی🥲
سانحہ ڈی چوک اسلام آباد میں پاکستان کے عوام سے لیے گئے انتقام کے تمام تر ثبوت گوگل ڈرائیو پر اپلوڈ کر دیے گئے ہیں
جسے آپ اس QR Code ذریعہ بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں
۔۔
“سب پھڑے جان گے”
اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی ��ہائی کے لیے احتجاج اور مظاہرین پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد پاکستان میں جو چیز اس وقت سب سے زیادہ موضوعِ بحث ہے وہ اس دوران ہونے والی ہلاکت��ں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ہے۔
تحریکِ انصاف کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے جماعت کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تعداد 20 سے 280 کے درمیان ہے جبکہ سینکڑوں کارکن زخمی بھی ہوئے تو دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’گرینڈ آپریشن‘ میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے سرے سے گولی چلائی ہی نہیں گئی۔
سو سوال یہ ہے کہ منگل کی شب ہونے والی کارروائی میں کتنے لوگ جان سے گئے اور کتنے زخمی ہوئے اور کیسے؟
یہی گتھی سلجھانے کے لیے جب بی بی سی کی ٹیم نے اسلام آباد کے پولی کلینک اور پمز ہسپتال کا رخ کیا تو معلوم ہوا کہ پولی کلینک کی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو ایک بیان میں ہسپتال میں ایسے کسی فرد کی لاش لائے جانے کی تردید کی گئی جس کی ہلاکت مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف آپریشن میں ہوئی لیکن بی بی سی کے پاس موجود ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق وہاں 26 نومبر کی شام کم از کم ایسے تین افراد کی لاشیں موجود تھیں جنھیں گولیاں لگی تھیں اور ان میں سے دو کی ہلاکت بھی ہسپتال میں ہی ہوئی تھی۔
ہسپتال کے عملے نے بھی بتایا کہ ان میں سے ایک لاش بدھ تک پولی کلینک کے مردہ خانے میں ہی موجود تھی جبکہ دو لواحقین کے حوالے کر دی گئیں تھیں۔ اسی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس حکام نے انھیں میتیں ورثا کے حوالے کرنے سے بھی روکا۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے بعض ورثا کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آیا تھا کہ میتیں ان کے حوالے نہیں کی جا رہیں۔
اسی بارے میں بی بی سی نے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ’مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی گئی۔ فائرنگ کی گئی ہوتی تو لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی موجود ہوتا۔‘
تاہم پولی کلینک کے ہی طبی عملے کے دو اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’پولیس نے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے سے روکا تھا۔‘
پمز ہسپتال کی بات کی جائے تو ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ریکارڈ تک رسائی نہیں دی گئی تاہم بی بی سی کی معلومات کے مطابق وہاں تحریکِ انصاف کے دو کارکنوں کی لاشیں لائی گئی تھیں جن کا تعلق شانگلہ اور م��دان سے تھا اور ان کے ورثا لاشیں ہسپتال سے لے جا چکے ہیں۔
منگل کو گولیاں لگنے سے ہلاک ہونے والے ان پانچ افراد میں سے چار کی لاشیں تو اب ہسپتالوں میں موجود نہیں لیکن بی بی سی کو وہاں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد لائے جانے والے متعدد ایسے زخمی زیر علاج ملے جنھی گولیاں لگی تھیں۔
بی بی سی کو پولی کلینک میں کم از کم تین ڈاکٹروں نے بتایا کہ شام سے ہی درجنوں کارکنان ہسپتال لائے گئے جنھیں گولیاں لگی تھیں۔ ’ہمارے پاس کم از کم 45 اور 55 کے درمیان ایسے شہری لائے گئے جنھیں گولیاں لگی تھیں۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتی وزیر عطا تارڑ نے ان الزامات کو پاکستان تحریک انصاف کا پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس یا رینجرز کی جانب سے گولیاں مارنے کے ثبوت موجود ہیں تو پی ٹی آئی ثبوت لائے....
’میرے کانوں سے وہ ساری چیخیں ختم ہی نہیں ہو رہیں‘
پولی کلینک میں ایسے ہی ایک زخمی کے ساتھ ان کی اہلیہ سمعیہ (فرضی نام) بھی موجود تھیں جو منگل کی شب جناح ایوینیو پر پیش آنے والے واقعات کی عینی شاہد بھی تھیں۔
’صرف چیخیں تھیں۔ بس۔ صرف چیخیں! ہر بندہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔‘
یہ رات نو بجے کے قریب وہ لمحہ تھا جب سمعیہ کو اچانک فائرنگ کی آواز آئی اور پھر ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ وہ جناح ایوینیو پر اسی فلائی اوور کے نیچے گاڑی میں بیٹھی اپنے شوہر کی منتظر تھیں جو چند منٹ پہلے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔
’میں نے سوچا یہ آنسو گیس کی شیلنگ والی فائرنگ ہو گی۔ لوگ بھاگ رہے تھے۔ پھر مجھے اپنے شوہر نظر آئے۔ وہ دونوں ہاتھ سڑک پر رکھے گھٹنوں کے بل ایسے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کی طرف بھاگی۔ ہر طرف فائرنگ ہو رہی تھی۔‘
جب سمعیہ، بی بی سی کو یہ بتا رہی تھیں، تو وہ اور ان کی بہن ماسک پہنے اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ ان کے سامنے بیڈ پر ان کے شوہر تھے جن کے کندھے پر گولی لگی اور چند گھنٹے قبل ہی ان کی سرجری کی گئی تھی۔
’وہ قیامت تھی، جیسے جنگ ہو رہی ہو۔ میرے ہاتھوں پر ان (شوہر) کا خون ہی خون تھا۔ میرے کانوں سے وہ ساری چیخیں ختم ہی نہیں ہو رہیں۔‘
’میں اب کیسے آپ سے کھل کر بات کروں؟‘ یہ کہتے ہوئے سمعیہ کے ہاتھ کپکپا رہے تھے اور ان کے چہرے پر لگا ماسک آنسوؤں سے نم ہو گیا تھا۔
https://t.co/jWoKwhdiFM
پوری قوم میں ایک جرات مند اور غیرت مند مولوی صاحب نے اسلام آباد میں کھیلی گئی خون کی ہولی کی کھل کر مذمت کر دی۔
کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ تم نے نہتے شہریوں پر گولیاں چلا کر کتنے ہی نوجوان شہید کر دیے۔
قاری صداقت علی صاحب زندہ باد !! 🇵🇰
پی ٹی آئی اس نہج تک کیسے پہنچی؟ (مختصر تھریڈ)
الیکشن کمیشن، انتظامیہ، عدلیہ، حکومت، پارلیمنٹ، میڈیا کا شرمناک کردار
الیکشن کمیشن
سکندر سلطان راجہ کے الیکشن کمیشن نے الیکشن لڑنے کی آزادی چھین لی۔ الیکشن کمیشن کی آنکھوں کے سامنے انٹراپارٹی الیکشن انتظامیہ نے سبوتاژ کئے، مرکزی دفتر تک سیل کر دیا لیکن اس نے انٹراپارٹی الیکشن ماننے سے انکار کردیا۔ آخر وقت پر انتخابی نشان ہی چھین لیا۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی امیدوار جیت گئے تو فارم 47 کی دھاندلی سے اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا۔ 1/8