پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے پر تو کبھی کسی جمہوری ملک میں خواتین کی تذلیل نہیں کی گئی چہ جائیکہ یہ سب ایک ایسے جمہوری ملک میں کیا جائے جو (جمہوری ہونے کے ساتھ) اسلامی بھی ہو۔ یہ خواتین کو سیاست سے نکال باہر کرنے کی سوچی سمجھی مہم ہے۔
خواتین کی پکڑ دھکڑ اور انہیں خوفزدہ اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کے مرد (اہلِ خانہ) سیاسی سرگرمیوں میں ان کی شرکت کی حوصلہ شکنی کریں۔
اب یہ اطلاعات تیزی سے موصول ہورہی ہیں کہ جیلوں میں بعض خواتین کیساتھ (جنسی) چھیڑ چھاڑ کے ساتھ انہیں ہراساں کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔