چارسدہ:قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی امیرِ جمعیت علمائے اسلام ضلع چارسدہ مولانا سید گوہر شاہ کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی اور تعزیت، مقامی میڈیا سے گفتگو
صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عطاءالحق درویش و ویگر ہمراہ تھے۔
یہ مناظر کسی بڑے شہر کے نہیں بلکہ انڈین بارڈر سے محض پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جالوچھورا (عمرکوٹ) سندھ کے ہیں، جہاں رات 12:15 بجے بھی جمعیت علمائے اسلام کے زیراہتمام عوام کا سمندر امڈ آیا۔
یہ جےیوآئی کی سندھ میں عوامی مقبولیت کا ثبوت ہے جو جمعیت علماء اسلام کو حاصل ہے۔
اگر سنی شیعہ سے نہ لڑے، بریلوی دیوبندی سے نہ لڑے، پٹھان پنجابی سے نہ لڑے، تو ظاہری بات ہے غریب اپنے حقوق کیلئے اشرافیہ سے لڑے گا، لہٰذا اشرافیہ کے تحفظ کیلئے یہ ساری لڑائیاں جاری رکھنا ضروری ہیں۔
@Khalidjandawar
Good afternoon
growth feels easier when you walk the journey with friends who support, motivate, and believe in you. Together, progress becomes more meaningful
https://t.co/RZabZDXszX
زندگی ایک خوبصورت سفر ہے جو ہر دن نیا سبق سکھاتا ہے۔
مشکل راستے بھی انسان کو مضبوط اور باہمت بنا دیتے ہیں۔
بس شکر، صبر اور امید کے ساتھ چلتے رہیں تو ہر موڑ آسان لگنے لگتا ہے۔ 🌸✨
https://t.co/PEaA7NHbFq
بےشرم_میلہ کو مولانا صاحب جیسے قدآور شخصیت پر چڑھنا،وہ بھی خود ملزم ہوکر،یہ ثابت کر رہا ہیں کہ ان جیسی آنٹیوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، جبکہ آئین پاکستان قرآن و سنت کے خلاف بننے والے ہر قانون کو پاکستان سے غداری گردانتا ہے..
#مولانا_عوام_کی_پکار
غزہ جل رہا ہے، قاتل امن کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں، اور ہمارے حکمران تالیاں بجا رہے ہیں۔ یہ شرم کا مقام ہے۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کا پنڈی میں جےیوآئی یوتھ کنونشن سے خطاب
#مولانا_عوام_کی_پکار
جمعیت علماء اسلام نے 8 فروری 2024 کے انتخابات کو اُس دن بھی مسترد کیا تھا، آج بھی مسترد کرتی ہے۔ نتائج بنائے گئے، مینڈیٹ چرایا گیا، قوم کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا۔
مولانا فضل الرحمان کا پنڈی میں جےیوآئی یوتھ کنونشن سے خطاب
#مولانا_عوام_کی_پکار
مولانا فضل الرحمن صاحب نے کل کی تقریر میں ریاست وحکومت پاکستان کی ناکام خارجہ، داخلہ، معاشی انتظامی و سیاسی پالیسیوں کا صرف پوسٹ مارٹم ھی نہیں کیا بلکہ 8 فروری کے انتخابی دھاندلی کے خلاف یوم سیاہ اور احتجاج کی لاج اور بھرم بھی رکھا ھے ورنہ باقی تو اپوزیشن کی طرف سے خیر خیریت ھی تھی۔ لیکن شکر ھے جمعیت علماء اسلام کے ایک پروگرام اور اس میں مولانا صاحب کی تقریر نے جعلی نظام کو ھلا کر رکھ دیا۔