مجھے سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب عمران خان کی بینائی ضائع ہونے کی خبر سن کر PTi کے عہدیداران اراکین اسمبلی اور KPK حکومت باہر نکلنے کی بجائے ان ڈور احتجاج پر متفق ہو گئے۔
شاہ زیب خانزادہ صاحب کو بھارتی لوگوں کے حالات بتانے اور دکھانے کا وقت مل گیا لیکن پاکستان کے لوگوں پر لوڈشیڈنگ کا جو عذاب مسلط کیا گیا ہے،اس پر اپنے پروگرام میں ایک لفظ نہیں بولے
@ikhtiarwali امریکہ میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 300 پاکستانی روپے ہے اور ایک اوسط مزدور کی دیہاڑی تقریبا 20 ہزار سے 50 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان ہے ! پاکستان میں اوسط مزدور کی دیہاڑی 1 ہزار سے 15 سو کے درمیان ہے اور پیٹرول فی لیٹر 458 روپے کا ! پاکستان میں اس وقت دنیا کا ظالم ترین نظام ہے
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
یہ وہ ججز ہیں جنہوں نے اپنے حلف سے غداری کی اور انصاف کو بیچ چوراہے ننگا کر کے پھانسی لگا دی
ملک میں جب بھی عدلیہ بحال ہوگی تو ایسے عسکری ججز کو ضرور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا
سٹاک میں پڑا ہوا پرانا پیٹرول مہنگا کر دیا۔جب نئی خریداری کریں گے تو کیا حال ہو گا۔لیکن اگر پیٹرول ایک لاکھ روپے لیٹر بھی ہو جائے تو زندہ لاشوں نے قطار میں لگ کر بھروانا ہے۔ظاہر ہے عوام کی جیب سے پیسہ نکلے گا تو مریم کے چونچلے پورے ہوں گے۔