مریدکے میں ہونے والا ظلم ناقابل بیان اور قابلِ مذمت ہے، اتنی بربریت اور کشت و خون کہ اب تک شہادتوں اور زخمیوں کے حوالے سے مکمل حقائق سامنے نہیں آئے۔ سعد رضوی اور انس رضوی کے حوالے سے بھی حکومت اب تک خاموش ہے۔
شرمناک اور نہائیت قابلِ مذمت۔۔۔ حقائق جلد از جلد سامنے لائے جائیں
وفاقی/پنجاب حکومت طاقت کا استعمال فورا بند کرے،مفتی منیب الرحمن صاحب کو ثالث بناکر مذاکرات سے مسلہ حل کرے،انسانی جانوں کے ضیاع کے افسوسناک واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائے۔دوسرے طرف ٹی ایل پی کے لیڈرشپ سے بھی اپیل ہے کہ پرامن ،نان وائلنٹ رہ مذاکرات کو ذریعہ بنائے۔
سیدھی گولیاں اور شہادتیں تو سنتے رہے اور اب عام ہوتا جا رہا ہے لیکن لاشوں کو پامال کرنا، سیلفیاں بنانا، ریجنرز کی گاڑیوں سے کچلنا ،زندہ جلا دینا سب کچھ 2025 میں یقین نہیں آتا دنیا کےپانچویں لارجسٹ اسلامی جمہوری ملک میں ہورہا ہے۔
ٹی ایل پی کے احتجاج پر طاقت کے بے دریغ استعمال اور قتل عام نے آج ایک بار پر ثابت کیا ہے کہ اس وقت ملک جنونی ذہنی مریضوں کے قبضے میں ہے۔ خدا انھیں غارت کرے۔ بہت تکلیف دہ مناظر ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں ٹرمپ کی امن ڈیل کے باوجود فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے اقدامات کے خلاف ابھی تک مظاہرے ہو رہے ہیں مگر خون صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہا ہے۔