A court in Pakistan directed prison authorities to allow former Prime Minister Imran Khan to meet his jailed wife and other family members and speak to his sons by phone, according to a statement from his party https://t.co/XpbA7t1gAF
The players dropped from the squad are still our national cricketers who have served Pakistan. Phrases like "sent on the first flight back" are disrespectful.
Accountability should start with those who broke the system, not with players specially those who were on the bench or have played 2-3 test matches. Plus accountability starts once a tour is done not in the middle of it.
Players should not be going through such mental stress and a social media after every bad game or the fear of failure will settle in the minds of our players.
Trust Pakistan cricket to do the unbelievable. Salman Agha, captain in the first test, dropped from the second, sent home before the third! Coach and bowling coach gone midway through a series. Senior keeper sent home. Replacements hoping to get visas in time, let alone be ready for a test match. As always, more action off the field!
ہاکستانی شوبز کی اداکارہ سعدیہ امام نے روتے ہوے اک ویڈیو مسیج بیان ریکارڈ کرایا ۔انتہای جذباتی کر دینے والا بیان ۔یہ الفاظ نہی اس ملک کے نظام کا نوحہ ہے
میں مر گئی۔ یہ الفاظ کسی نے یونہی نہیں لکھے ہیں۔ یہ الفاظ اس وقت نکلے ہیں جب شوبز سٹار سعدیہ امام ایک ماں نے اپنی سکرین پر وہ رپورٹ پڑھی جس میں ایک معصوم بچی کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کتنا وحشی ہوگا وہ انسان جس نے یہ کیا۔ کتنا جانور ہوگا وہ جسم جو انسان کہلاتا ہے مگر انسانیت اس میں کہیں باقی نہیں بچی۔
گجرات میں ایک چار سالہ بچی۔ بھکر میں ایک معذور بچی۔ چکوال میں ایک پیر کے ہاتھوں ایک کمسن بیٹی۔ راولپنڈی میں بارہ برس کی ایک زندگی۔ میاں چنوں میں آٹھ برس کی ایک مسکراہٹ۔ منڈی بہاؤالدین میں ایک سولہ سالہ بیٹا۔
یہ صرف نام نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو صبح سکول جانے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ یہ وہ بچیاں ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ لپٹ کر سوتی تھیں۔
اور ہم کہتے رہے کہ ریاست ماں ہے۔ ریاست ہمیں بچائے گی۔ مگر ریاست کہاں ہے۔
پمز ہسپتال میں آگ بھڑکی۔ بچے جل کر مر گئے۔ اور کسی ڈاکٹر کسی نرس کو ایک آنچ تک نہ آئی۔ یہ سوال میڈیا پوچھتی رہی۔ یہ سوال ایک ماں کا دل پوچھتا رہا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔
زینب سے نور مقدوم تک۔ آیت النور سے ان گنت گمنام بچیوں تک۔ کتنے مجرموں کو سزا ملی۔ کوئی گنتی نہیں۔ کوئی فیصلہ وقت پر نہیں ہوتا۔ کوئی سزا سرعام نہیں ہوتی۔ اور مجرم جانتا ہے کہ اسے سزا نہیں ملنی۔ پیسہ چلے گا تو راستہ نکل آئے گا۔ تو وہ پھر وہی کرے گا۔
میں ایک ماں ہوں۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ میرا دل اس وقت پھٹ رہا ہے۔اس ماں پر کیا گزرتی ہو گی جو اپنی بچی کا خون سے لت پت پمپر دیکھا ہو گا کسی نے ٹوٹی ہوی ہڈیاں دیکھی ہو گی ۔
دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہے گی۔ ایوارڈ شوز چلیں گے۔ محفلیں سجیں گی۔ مگر ایک بات ہمیں کہنی ہوگی۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے کسی کی بیٹی ہیں۔ کسی کی بہن ہیں۔ کسی کی ماں ہیں۔
اور خاموشی اب گناہ بن چکی ہے۔ جو خاموش ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ جس نے دیکھا اور کچھ نہ بولا وہ بھی شریک ہے۔ جس نے چھپایا وہ سب سے بڑا مجرم ہے۔
آج ایک پولیس افسر کی بیوی ڈمبل اٹھا کر ایک کمزور عورت کو مارتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ نظام میرا ہے۔ طاقت میری ہے۔ قانون میرے ہاتھ میں ہے۔ قانون کہاں چلا گیا۔ انصاف کہاں چلا گیا۔
ہمارے حکمران اپنے علاج کے لیے لندن جاتے ہیں۔ جرمنی جاتے ہیں۔ امریکہ جاتے ہیں۔ اور عام آدمی سرکاری ہسپتال کی دہلیز پر دم توڑ دیتا ہے۔
اگر ایک قانون بن جائے کہ ہر وزیر اپنے ہی شہر کے سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے۔ ہر وزیر کے بچے اسی ہسپتال میں پیدا ہوں۔ تو شاید ہسپتال بھی بدل جائیں۔ شاید نظام بھی بدل جائے۔
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی بیٹی کو سکھایا کہ غلط کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ کیا ہم نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ کسی لڑکی کو تکلیف میں دیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ یا ہم نے صرف موبائل نکالنا اور ویڈیو بنانا سکھایا ہے۔
آج کسی اور کی بیٹی کا ذکر آسان لگتا ہے۔ مگر یہ آگ کسی کے بھی گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ اللہ نہ کرے یہ درد کسی اور ماں کے حصے میں آئے۔
جس ماں نے اپنی بچی کا پیمپر کھولا اور خون میں لتھڑا جسم دیکھا۔ جس ماں نے اپنی بیٹی کی ٹوٹی ہوئی پسلیاں دیکھیں۔ اس دل پر کیا گزری ہوگی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہم کون ہیں۔
خدا کے واسطے اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ خدا کے واسطے مجرموں کو سزا دیں۔ سرعام سزا دیں۔ ایک ہفتے میں انصاف ہو۔ ورنہ لوگ خود انصاف کرنے نکلیں گے۔ اور جب لوگ خود انصاف کرنے نکلتے ہیں تو وہاں سے فساد شروع ہوتا ہے۔
یہ ملک لا الہ الا اللہ کہہ کر بنا تھا۔ اس کی بنیاد میں انصاف تھا۔ ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔ جان کے بدلے جان۔ آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ اصول کہاں کھو گئے۔
سوشل میڈیا کھلا ہے۔ بغیر کسی حد کے۔ بغیر کسی عمر کی قید کے۔ پوری دنیا میں اس پر قانون ہے۔ ہمارے یہاں کیوں نہیں۔
اب بس۔ اب مزید برداشت نہیں۔ ایک ماں کے ہاتھ جڑے ہیں۔ ایک قوم کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔
خدا کے واسطے اب کوئی تو جاگے۔ خدا کے واسطے اب کوئی تو بولے۔ کیونکہ خاموشی اب سب سے بڑا گناہ بن چکی ہے ۔
Very well done champs Younis Khan & Moin Khan! All cricketing champions of the world are proving that they've not forgotten their skipper & hero Imran Khan. Khan was unfairly convicted, mistreated in prison and is illegally being held hostage without access to medical care.
Rashid Latif's blunt assessment of Pakistan cricket's decline. 🎙️🇵🇰
“Worst team, worst board, worst selection committee — combine them and you have your answer.” 🔍💬
بریکنگ نیوز 🚨
یونس خان نے کہا جو خان ہوگا اور خان کو سپورٹ نہیں کرے گا یہ ہو ہی نہیں سکتا۔
میں ہمیشہ عمران خان کو سپورٹ کرتا ہوں اور سب سے پہلے میں نے عمران کی آنکھ کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا
جب پی ٹی آئی پر مشکل وقت تھا
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
🚨 IMRAN KHAN'S PAKISTAN 🚨
Ramiz Raja recalls how Imran Khan would step up whenever Pakistan found itself in a difficult situation, even while battered and bruised. He wanted every player from 1 to 11 to show courage and make it clear that Pakistan feared no opposition. 🏏💯👏🏻
As a cricket digital media platform, we strongly demand the immediate release of former Pakistan captain Imran Khan.
Whatever the political differences, everyone deserves dignity, justice and humane treatment. We urge those in authority to show courage and do what is right.
CricFollow will continue to stand behind Imran Khan and raise this voice.
Keep politics aside. Humanity comes first.
انگلش سابق کرکٹرز عمران خان کی حیریت دریافت کر رہے ہیں جس پے رمیز راجہ نے سچ سچ بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہے انکو پچھلے 3 سال سے قید کیا ہوا بہت مشکل حالات میں رکھا ہوا عمران خان کو.....
#Nepal
ایک ماہ پہلے یہ آنسو کسی نے نہیں دیکھے تھے..!
مسجد کو نہیں گرایا جانا چاہیے تھا۔ ہمارا گھر تو انہوں نے مسمار کر دیا، لیکن مسجد کو نہیں گرانا چاہیے تھا۔
اس کے اندر ہمارے اللہ کا کلام موجود ہے۔