یہ ہیں قوم پرست افغانی ڈاکٹر جدون کے غنڈے جنہوں نے آج آزاد ڈیجیٹل کے صحافی شاہد قریشی کو چار گھنٹے اغوا کرکے رکھا۔
نوکری پاکستان میں،
تنخواہ پاکستان میں،
جھنڈے افغانستان کے لگانے والا جدون اپنے طلبا کی یہی ذہن سازی کرے گا۔
یونیورسٹیوں سے یہ گند صاف ہونا چاہئے۔
ہری پور: 5 سالہ آیت نور کے ساتھ ہوئے ظلم کو دل پر لگانے والا پولیس افسر...!
کل رات جب آیت نور کی ڈیڈ باڈی ہسپتال میں برائے پوسٹ مارٹم موجود تھی تو ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور بھی وہیں تھے ، کسی کام سے وہ کہیں جانے لگے تو ایک شخص نے انہیں آواز دی ، ڈی پی او صاحب آپ یہاں موجود رہیں ۔۔۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈی پی او شدید رنج اور غصے کی کیفیت میں تھے انہوں نے جواب دیا میں یہیں ہوں ، دوسرے شخص نے پھر کہا آپ کہیں نہ جائیں ، اس پر ڈی پی او صاحب نے کہا، میں ہوں ناں ، میں یہیں ہوں ناں ، میں خود بچی کو یہاں لایا ہوں اسے چھوڑ کر کہاں جاؤں گا ۔۔۔یہ الفاظ باآواز بلند کہتے وقت اس افسر نے ثابت کردیا کہ گویا ��یت نور کسی غریب کی نہیں انکی اپنی بیٹی تھی ۔۔۔۔ اللہ کریم آیت نور کے والدین کو صبر دے اور اس افسر کو فرض شناسی پر اجر عظیم عطا کرے ، اللہ کریم ظالموں کو نشان عبرت بنا دے آمین
کہانی سنائی جاتی ہے کہ "بہت ظلم ہو رہا ہے، اس لیے ہتھیار اٹھانا پڑے۔"
مگر چند سوالات جواب مانگتے ہیں:
▪️ اگر یہ صرف مظلوموں کی جدوجہد ہے تو جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟
▪️ مہنگی گاڑیاں، جدید کمیونیکیشن سسٹمز اور منظم نیٹ ورکس کا خرچہ کون اٹھاتا ہے؟
▪️ اگر مقصد عوام کی خدمت ہے تو سب سے زیادہ نقصان انہی عوام کو کیوں پہنچتا ہے؟
▪️ اور وہ افراد جو کل "لاپتہ" بتائے جا رہے تھے، آج مسلح کارروائیوں میں کیسے نظر آتے ہیں؟
آپ اندازہ لگائیں، اگر ’’ضمیر فروشی‘‘ کا اعزاز دیا جائے تو سب سے پہلے شاہد خاقان عباسی کو دیا جائے۔
دیکھیں، اپنے انٹرویو میں خ��د یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ مجھے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بنایا۔ حالانکہ اس وقت ان سے کہیں زیادہ قابل اور تجربہ کار لوگ اسمبلی میں موجود تھے، جن میں چوہدری نثار، خواجہ سعد رفیق اور کئی دوسرے سینئر رہنما شامل تھے۔ اس کے باوجود میاں نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم پاکستان بنایا۔
جب یہ وزیراعظم بنے تو اس کے بعد انہوں نے دو حلقوں سے الیکشن لڑا۔ ��یک اسلام آباد کے ہمارے حلقے سے اور دوسرا مری سے۔ اسلام آباد میں ان کے مقابلے میں عمران خان الیکشن لڑ رہے تھے اور شاہد خاقان عباسی تقریباً ستر ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ پورے اسلام آباد میں، ہمارے پولنگ اسٹیشن کے علاوہ، تقریباً کوئی پولنگ اسٹیشن ایسا نہیں تھا جہاں وہ کامیاب ہوئے ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ صرف ہمارا پولنگ اسٹیشن ہم جیتے تھے۔
مری سے بھی وہ تقریباً پندرہ ہزار ووٹوں کے فرق سے ہارے۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس کے باوجود میاں محمد نواز شریف نے ان پر کتنا اعتماد کیا۔ بعد میں انہیں لاہور سے اپنے ذاتی حلقے سے الیکشن لڑایا اور ان کے لیے خود سپورٹ کی۔
میں ��ے اپنی زندگی میں اتنا کنجوس آدمی نہیں دیکھا کہ ہمارے حلقے میں الیکشن لڑتے ہوئے ایک بینر تک کا خرچہ نہیں کرتا تھا، لیکن جب لاہور میں میاں نواز شریف کے حلقے سے الیکشن لڑایا گیا تو وہاں بھی ان کے لیے بھرپور سیاسی اور مالی تعاون کیا گیا۔
اور خود شاہد خاقان عباسی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی میاں نواز شریف نے ان کے لیے پیسہ خرچ کیا اور انہیں سیاسی طور پر سپورٹ کیا۔
پھر اسی ��خص نے اپنی الگ پارٹی بنا لی۔
آپ خود فیصلہ کریں، جس شخص کو میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم بنایا، جس پر اتنا اعتماد کیا، جس کے لیے سیاسی طور پر کھڑے ہوئے، آخر وہ کس بنیاد پر آج اپنے اسی سیاسی محسن کے خلاف کھڑا ہے؟
اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن احسان فراموشی اور سیاسی وفاداری بیچ کر اپنی سیاست بنانا، یہ عوام خود بہتر سمجھ سکتے ہیں۔
یہ وردی ہی کی برکت تھی کہ جس نے ایک پھٹان کو ہ��ائی فائرنگ تک ہی محدود رکھا،ورنہ آپ کسی عام سے ٹھیلے والے ہی چارسدہ کے کسی پھٹان کی بیوی کو یوں ہراساں کرکے دکھائیں،بدلے میں وہ آپکو کلاشنکوف کا برسٹ نہ مارے تو کہنا۔۔۔
بطور شوہر اپنی شریک حیات کو پروٹیکٹ کرنے پر خراج تحسین ❤️
#WeStandWithColAsfandYar
سرحد یونیورسٹی کی یہ ویڈیو بھی دیکھیں جس میں لڑکی گالی دے کر کہہ رہی ہے انا عطاکرنل اسفندیار کی اہلیہ کو مارا ہے۔اب جو کتے کے بچے کہہ رہے ہیں کہ فوجی آفیسر نے غلط کیا وہ بہت بڑے بے غیرت ہیں!
یونیورسٹی کے باہر کی CCTV فوٹیج بھی منظرعام پر آگئی،،یہ وڈیو ثبوت ہے کہ افغانی یوتھیا جدون گروپ کی طرف سے ڈاکٹر آئینہ کو یونیورسٹی کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا پھر وہ رکاوٹ ہٹا کر اندر جانے کی کوشش کرتی ہیں تو ان سے بدتمیزی کی جاتی ہے یہ سب ایک سازش کے تحت ہوا ہے۔۔۔
یہ ویڈیو سلو موش�� کی ہے اسے تسلی سے دیکھ لیجئے اس وقت ادارے بھی دیکھ رہے ہوں گے فریم بائے فریم ایک ایک چیز واضح ہو جائے گی ایسا نہی کہ کوئی وردی والا آفیسر آیا اور اچانک فائرنگ شروع کر دی پہلے اس کی بیوی کا راستہ روکا پھر اس پر حملہ کیا سب نظر آ رہا ہے
🚨 سرحد یونیورسٹی واقع کے اصل حقائق منظرِ عام پر آگئے — اصل قصوروار کون؟؟ سب سامنے آگیا۔۔۔
کسی بھی واقع پر رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں سیاق و سباق پر نظر ڈالنی چاہئیے اور جاننا چاہئیے کہ اصل حقائق ہیں کیا ہیں۔۔
⭕️ آج جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سے ہے۔۔
👈 لہٰذا !! سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقع کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل صورتحال سے واقف ہونا لازمی ہے👇🏻👇🏻
⭕️ چند روز قبل بنوں کے رہائشی اور "الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان" جسے کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ ڈاکٹر انا عطاء کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔۔
⭕️ کچھ روز قبل جدون ڈاکٹر انا عطاء کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔۔ جسکے بعد ڈاکٹر انا عطاء نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی جسکی کاپی اٹیچ ہے۔۔ لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملہ رفع دفع کیا اور بات خالی پولیس درخواست تک محدود رہی۔۔
*ذیل میں بیان کردہ نکات فراہم کردہ ابتدائی رپورٹ/ذرائع کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں۔۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ انکوائری اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔۔
1️⃣ *معاملے کا آغاز:* ابتدائی اطلاعات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے خلاف شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر انا عطاء نے ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرائی۔۔
2️⃣ *یونیورسٹی کی کارروائی:* شکایت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ HOD کو معطل کیا اور معاملے کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔۔
3️⃣ *احتجاج کا آغاز:* معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انا عطاء صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت کیلئے وہاں پہنچیں۔۔
4️⃣ *مبینہ بدسلوکی:* ابتدائی رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر انا عطاء کے گریبان پر ہاتھ ڈالا، اور انہیں دھمکی دی۔۔ ان الزامات کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔۔
5️⃣ *فوجی افسر کی آمد:* ڈاکٹر انا عطاء نے مبینہ واقعے کے بعد اپنے شوہر جو پاک فوج کے افسر ہیں کو اطلاع دی۔۔ رپورٹ کے مطابق افسر تنہا یونیور��ٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا۔۔
6️⃣ *ابتدائی تصادم:* رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انا عطاء نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔۔
7️⃣ *ہجوم اور ہاتھا پائی:* ابتدائی اطلاعات کے مطابق طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا۔۔ دھکم پیل کے دوران ڈاکٹر انا عطاء کے گرنے اور افسر پر حملے کی اطلاعات بھی ��امنے آئیں۔۔
8️⃣ *فائرنگ کا واقعہ:* رپورٹ کے مطابق کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ، اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی؟؟
9️⃣ *حملے کے الزامات:* ذرائع کے مطابق ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر متعدد افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔۔
🔟 *قانونی کارروائی:* رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔۔
📌 اب ساری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک باشعور انسان واضح طور پر سمجھ سکتا ہے کہ اصل قصور وار کون ہے؟؟ ۔۔
لہٰذا کسی واقع کے متعلق فوری رائے قائم کرنے سے قبل حقائق اور دونوں جانب کے رُخ کو پرکھنا اور دیکھنا انتہائی لازم ہے۔۔
یہ مہران مری، جو دہشت گرد تنظیم یو بی اے (یونائیٹڈ بلوچ آرمی) کا سربراہ لندن میں بلوچ عوام کے لیے مشکلات برداشت کر رہا ہے۔
کیا یہ سب دیکھ کر آپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ انہیں بلوچوں کی کوئی فکر ہے؟ ان کا مقصد صرف معصوم بلوچو کو دہشت گردی کے لئے استمعال کر کے پاکستان کے دشمنوں سے پیسے حاصل کرنا ہے تاکہ وہ بیرونِ ملک آرام کی زندگی گزار سکیں..
یہ ایک 'بوٹ فارم' (bot farm) ہے۔
100 موبائل فونز۔1 شخص۔ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس۔ اسی طرح وہ 'ٹرینڈز بناتے ہیں۔ فالوورز کی تعداد بڑھاتے ہیں جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں اور اسی طرح وہ اختلافِ رائے رکھنے والوں پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ فعالیت (activism) نہیں، یہ ایک دھوکہ دہی ھے
سرحد ی��نیورسٹی میں یوتھیا ڈاکٹر جدون مشتعل ہجوم کی پشت پناہی کر رہا تھا ان کو سیاست کیلئے استعمال کر رہا تھا بدلے میں طلبہ کو کیا ملتا ہے خود سن لیں اب وہ پروفیسر ڈاکٹر جدون بنوں فرار ہو گیا ہے جہاں وہ پی ٹی آئی حکومت کی پناہ میں آ گیا ہے۔جو بھی حرامی یوتھیا ہوتا ہے وہ خیبرپختونخوا فرار ہو جاتا ہے وہاں سے افغانستان یا بیرون ملک نکل جاتا ہے۔
عورتوں پر حملہ کر رہے ہیں یہ دلی کے بچے
بہت اچھا ہوا ہے کرنل نے گولی چلائی،،
یہ سرحد یونیورسٹی کی ایک اور وڈیو ہے جس میں وڈیو بنانے والی لڑکی یوتھی طلبا کے بارے میں بتا رہی ہے کہ یہ عورتوں پر حملہ کررہے ہیں
صحافی منصور علی خان سرحد یونیورسٹی واقع کے اصل حقائق منظرِ عام پر لے آئے۔
جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سےہے۔
چند روز قبل بنوں کے رہائیشی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کو کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ Miss Aina کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔
کچھ روز قبل جدون مس عینا کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دی
جسکے بعد Miss Aina نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈاکٹر جدون سے معافی نامہ لکھوا کر معاملہ رفع دفع کروا دیا۔
لیکن معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔
ڈاکٹر آئینہ صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت ک�� لیے وہاں پہنچیں۔
بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور انہیں دھمکیاں دیں۔
صورتحال بے قابو ہونے پر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر، جو پاک فوج کے افسر ہیں، کو اطلاع دی جو تنہا یونیورسٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا۔
ڈاکٹر آئینہ نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا اور دھکم پیل کے بعد تشدد شروع کر دیا کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا ا��لحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی۔
جبکہ دوسری طرف ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تقریباً 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے، جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس کے علاؤہ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
معاملہ سادہ تھا ایک یونیورسٹی میں ایک حادثہ ہوا ایک آفیسر اس کا حصہ تھا ادارے نے فوری طور پر ایکشن کا اعلان کیا آفیسر کی گرفتاری اور کاروائی کا بتا دیا گیا بات یہاں ختم ہو جاتی ایکشن لیا جا چکا تھا
مگر پھر تحریک انصاف نے اس کے سوشل میڈیا ایکو سسٹم نے اس واقعے پر سیاست شروع کی فوج کے خلاف ایک زہریلی ترین سوشل میڈیا مہم شروع کی اب وہ معاملہ جو کرنل کے کورٹ مارشل پر نبٹ جاتا اس میں بہت سارے لوگ آئیں گے سوشل میڈیا والے تو ڈالر سمیٹ اگلے ٹاپک پر چلے جائیں گے مگر کل سے سرحد یونیورسٹی کے وہ سارے سٹوڈنٹ اب چھپتے پھر رہے ہیں ان پر بہت سنگین الزامات کا پرچہ کاٹ دیا گیا ہے
شکریہ تحریک انصاف کا ادا کریں
سڑکوں پر عوام نکلے سینے پر گولی کھائے اور اپنی قیمتی جان قربان کردے پھر تبدیلی ائے گی
اور ناظرین یہ بات وہ شخص کررہا ہے جس کی اہلیہ بچے امریکہ میں منجی وچھائے ہوئے ہیں اولاد امریکی سکولوں میں تعلیم حاصل کررہی ہے اور عام عوام گولی کھائے تاکہ شہباز گِل اقتدار کے مزے لے سکے