Today I, being the Chief Executive of Khyber Pakhtunkhwa Province, along with my cabinet and parliamentarians, going to Adiala Jail situated in the province of Punjab to show solidarity with former Prime Minister of Pakistan Mr. Imran Khan.
The federal government has stopped us in Islamabad 26 number chowk. It’s not only an insult of the chief executive but of the 46 Million people of KP.
The federal government has also stopped the Gas of KP. Punjab government has stopped the wheat movement towards KP. All of these acts are against the spirit of federation and the constitution of Pakistan.
Mr. Imran Khan has lost 85% of his eyesight due to the negligence of Adiala Jail’s administration and their handlers. He is not being allowed to meet his legal counsel, family and even personal physician. The federal government is not obeying the court orders and Punjab government is violating the fundamental rights of a political prisoner. Mr. Imran Khan is being treated inhumanely and has been placed in complete solitary confinement since November 2025.
We strongly demand the immediate access of Imran Khan sahb’s family and personal physician to him without any further delay. The state of his health is a matter of serious national concern and any harm caused to him due to negligence or deliberate denial of medical care is the direct responsibility of the federal government, the Punjab police, the administration of Adiala Jail and their handlers. We warn that the nation is watching and history will not forgive those who remain silent or complicit. Justice must prevail and it will prevail!
کل اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے کارڈیالوجسٹ نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک جوان لڑکا آیا جس کا تعلق مسیحی برادری سے تھا، سینے اور بازو میں درد کی شکایت کی، ہم نے چیک کیا تو پتا چلا بے چارے کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے، ڈاکٹر نے بتایا ہم سارے حیران تھے نہ کوئی امراض قلب کی ہسٹری، نہ موٹاپہ، نہ سگریٹ نوشی، بالکل سلم سمارٹ جوان لڑکا، اچانک رونے لگ گیا، ڈاکٹرز کے پوچھنے پر بتانے لگا کہ حکومت نے ہمارے گھر گرا دیئے ہیں آجکل ہم باہر کھلے میدان میں سوتے ہیں
اگر میں(ظفر نقوی) نے اسمیں کوئی ایک لفظ بھی اپنی طرف سے شامل کیا ہوا تو مجھے اللہ سزا دے، بات ختم، اس کے بعد کچھ کہنا بنتا ہی نہیں
اس نوجوان کا نام عبدالرحمن الرووف ہاشمی ہے۔ انکا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے۔
ایک ایجنٹ نے انکو سبز باغ دکھاکر سال 2024 میں کمبوڈیا بھیا تھا، وہاں ایئرپورٹ میں دوسرے ایجنٹ نے رسیو کیا اور کام کے لئے لیجانے کا کہہ کر کسی اس*کیم کمپنی پر فروخت کردیا۔
بھائی کے بقول مختلف کاموں نام پر ایجنٹ ہم سے تقریبا بیس لاکھ روپے تک بھی لے چکے تھے۔
عبدالروف نے تقریبا دس ماہ بعد یکم دسمبر 2025 کو کال کی اور گھر میں بتایا کہ میں ان کمپنی سے بھاگ کر ایک ہوٹل میں آیا ہوں ۔ مجھے واپس بلانے کے انتظامات کریں۔
23 دسمبر کے بعد سے بھائی سے رابطہ منقطع ہوا اور آج تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
آخری رابطے تک عبدالروف کمبوڈیا کے دار الحکومت فیناپن شہر کے میاں جی نامی پاکستانی ریسٹورن میں موجود تھے۔
ایک طرف تصویر کمبوڈیا جانے کے لئے ایئرپورٹ کی ہے اور دوسری طرف مافیا کے چنگل سے بھاگنے کے بعد کی ہے۔
کمبوڈیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی،سفارتخانہ پاکستان،دفتر خارجہ اور وزارت خارجہ سے اپیل ہے کہ عبدالروف کی تلاش کے لئے اقدامات کریں۔ ماں باپ کا یہ خوبصورت جوان ایسے کیسے لاپتہ ہوا؟
حکومت پاکستان کا کام ہے۔ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کو ریسکیو کرے۔
کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں نوکریوں کا جھانسا دے کر کئی ممالک کے لاکھوں لوگوں کو غلام بنایا جاچکا ہے ۔ کئی ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کو آزاد کرانے کے لیے کاروائی کی ہے جبکہ تھائی لینڈ نے تو اس مقصد کے لیے بمبا*ری بھی کردی ہے تاکہ سرحد پار ان اڈوں کو ختم کیا جاسکے۔ عوام اور خصوصا نوجوانوں سے درخواست ہے کہ ان ممالک میں نوکری کے لیے جانے سے پرہیز کریں چاہے ایجنٹ کتنے ہی سبز باغ کیوں نہ دکھائے۔ یہ بین الاقوامی کچے کا علاقہ ہے ۔
عبدالروف ان کا شکار بن چکا ہے،انکا گھر ماتم کدہ بن چکا ہے۔ انکی خوشیاں لوٹائیں۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
کسی بھی اطلاع کے لئے میرے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
26 April 2026
#waliullahmaroof
Honoring commitments is the basis of meaningful dialogue. Deep historical mistrust in Iran toward U.S. gov conduct remains, while unconstructive & contradictory signals from American officials carry a bitter message; they seek Iran's surrender. Iranians do not submit to force.