ایک شخص نے اپنے بزرگ دوست سے پوچھا،
"آپ ستر سال سے زیادہ کے ہوگئے ہیں ، اب کیا محسوس کرتے ہیں ؟"
بزرگ مسکرائے، پھر آہستہ آہستہ بولے:
1. ساری زندگی دوسروں سے محبت کرتا رہا—ماں باپ، بہن بھائی، بیوی، بچے، دوست... اب جا کر سیکھا ہے کہ خود سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔
2. اب یقین آ گیا ہے کہ دنیا میرے کندھوں پر نہیں ٹکی ہوئی۔
3. میں سبزی والے سے مول تول نہیں کرتا۔ میرے چند روپے شاید اس کے بچے کی فیس یا دوا بن جائیں۔
4. ہوٹل میں ویٹر کو دل سے ٹِپ دیتا ہوں۔ میرے تھوڑے سے پیسے اس کی دن بھر کی تھکن کم کر سکتے ہیں۔
5. اب جب کوئی بزرگ وہی پرانی کہانی بار بار سنائے، تو میں غور سے سنتا ہوں۔ کیونکہ وہ الفاظ نہیں، یادیں ہوتی ہیں۔
6. جب کوئی غلطی کرے تو اب میں فوراً نہیں ٹوکتا۔ ہر کسی کو ٹھیک کرنا میری ذمےداری نہیں۔ سکون، درستی سے قیمتی ہے۔
7. اب میں دل سے دوسروں کی تعریف کرتا ہوں، اور اگر کوئی میری تعریف کرے تو بس "شکریہ" کہتا ہوں، انکار نہیں کرتا۔
8. قمیص پر شکن یا دھبہ ہو تو پروا نہیں۔ شخصیت بولتی ہے، لباس نہیں۔
9. جو میری قدر نہیں کرتا، میں خود دور ہوجاتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے میری اہمیت کیا ہے۔
10. اگر کوئی مجھے دھوکہ دے کر آگے نکل جائے، تو میں مسکرا دیتا ہوں۔ کیونکہ میں نہ چوہا ہوں، نہ ہی کسی دوڑ میں شریک۔
11. میں اپنے جذبات چھپاتا نہیں۔ احساسات انسان ہونے کی پہچان ہیں۔
12. اب میں رشتوں کو انا پر قربان نہیں کرتا۔ کیونکہ تعلق زندہ رکھتے ہیں، انا تنہا کر دیتی ہے۔
13. ہر دن کو ایسے جیتا ہوں جیسے یہ میری زندگی کا آخری دن ہو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے، واقعی آخری ہو۔
14. اب وہی کام کرتا ہوں جو میرے دل کو خوشی دے۔ میری خوشی، میری ذمہ داری ہے—اور میں خود کو یہ خوشی دینے سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ خوشی ایک فیصلہ ہے، اور ہم جب چاہیں، وہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔
.....
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو سمجھنے کے لیے 70 سال انتظار کیوں کریں؟
کیوں نہ ابھی سے جینا سیکھیں.
اس انجکشن کے سارے پیسے حکومت پنجاب دے رہی ھے
میں بھی اس شعبے میں پچیس چھبیس سال سے ہوں۔ شاید مجھے بھی اتنا اندازہ نہیں تھا کہ یہ انجکشن ایک معجزہ ہے مریضوں کے لیے۔ کیونکہ جو چار مریض جن کے اندر ہم نے یہ انجکشن لگایا ہے، چاروں کے اندر بہت بہتری آئی ہے۔ دو مریض ہم ماشاءاللہ ڈسچارج کر چکے ہیں دو مریض ایسے تھے کہ وہ زیرو بائے فائیو یعنی بازو بھی کام نہیں کر رہا، ٹانگ بھی کام نہیں کر رہی اور بعد میں وہ اپنے پیروں پر چل کر یہاں سے ڈسچارج ہوئے ہیں۔
https://t.co/EEQTjpPMQo
شیر افضل مروت کا علیمہ خانم کو چیلنج
علیمہ نے خیبرپختونخوا میں جعلی کمپنیوں کے نام پر مائنز کے ٹھیکے لے رکھے ہیں خاص کر چترال میں وہاں سے اربوں کی کمائی چل رہی ہے اگر یہ بات جھوٹ ہے تو میں تیار ہوں علیمہ خانم میرے خلاف مقدمہ کرے
بانی پی ٹی آئی کی ساری فیملی کا یہ وطیرہ ھے۔ علیمہ خان نے بھی 10 مئ کو نورا کشتی کہا تھا۔ ان کا بھائ سب سے بڑا نوسرباز ھے جس نے پاکستان کے تین ٹکڑے اور ایٹم بم تک گرانے کی بات کی تھی۔ سانحہ نو مئی میں کور کمانڈر ہاؤس میں یونیفارم لہرانے والے حسان نیازی کی ماں نورین نیازی کی معرکہ حق بارے بکواس نے یہ ثابت کیا ہے
کہ ایسی ہی ماں کی تربیت کا حامل انسان پاک فوج کے خلاف نعرے بازی اور وردی کی توہین کا مرتکب ہو سکتا ہے
جیسی ماں ویسی اولاد!
اور جیسا بھائی ویسی بہنیں!
پاکستان نے امریکا سے دس ارب ڈالر کیوں مانگے؟
👈عمران علی :پاکستان نے بہت اچھا کیا کہ امریکا سے دس ارب ڈالر کا استحکام فنڈ مانگا۔ ہم پہلےغلط چیزیں لے کر احسان لیتے رہے ہیں،، یہ درست قدم ہے۔
👈میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود: ہم امریکا کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں کیوں نا لیں پیسے۔۔
👈سید محمد علی: امریکا نے سنجیدگی سے پاکستان کی درخواست پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
نواں کٹا کھل گیا جے
بندہ پی ٹی آئی سے ھو اور 804 جتنا رامی نا ھو یہ کیسے ممکن ھے
کچھ دن پہلے ایک خاتون صحافی نے درخواست دی تھی کہ ایک طاقتور شخص نے میرے گھر غنڈے بھیجے تشدد کروایا لیکن پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ھے وہ طاقتور شخص پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کا بھائی فیصل آفریدی ھے اور ایک حکومتی شخصیت اسے بچا رہی ھے
تبدیلی کی تباہ کاریاں یوتھیے بھول گئے ھمیں یاد ھیں مہنگائی کی مضبوط بنیاد عمران خان رکھ کر گیا تھا
عمران خان کی حکومت میں کیا ہوا پاکستان کی معیشت کے ساتھ اور کیا ہوا عوام کے ساتھ......
ڈالیں ایک نظر اس تبدیلی پر ارشد شریف مرحوم کی زبانی
ایران کی پہاڑوں میں ایک ایٹمی سائٹ چھپی ھوئی تھی وہ بھی اسرائیل اور اور امریکہ نے ڈھونڈ نکالی ھے اس میں ہزاروں سینٹری فیوجز پڑے ھوئے ہیں یعنی ایران ایٹم بم بنانے کے مشن پر ھے اب امریکہ اس سائٹ پر حملہ کرنے جا رہا ھے
اطلاعات ہیں کہ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا دورہ پاکستان کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے آج اہم جگہوں پر وزٹ کریں گے اور اور پھر بتایا جا رہا ہے کہ لاہور جائیں گے معرکہ حق میں ہماری کامیابی کا عملی مشاہدہ بھی کریں گے پھر دیکھتے ہیں کہ کیا سمجھ میں آتی ہے کہ بڑھکوں سے زیادہ آپ کو عملی طور لر اپنا دفاع مضبوط کرنا ہے شاید سمجھ آ جائے ایران کو
میرے دوست میں عام سا بندہ اور رپورٹر ہوں پتہ نہیں آپ نے مجھ سے ایسی اپنی طرح احمقانہ توقعات کیوں باندھ رکھی ہیں کہ ہر چند دن کے بعد آپ میرے کسی ٹوئٹ سے ہرٹ ہوجاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنی معشوق کی کسی بات پر ہو جاتا ہے۔
آپ کو علم ہے میں کبھی انقلابی نہیں رہا نہ میرے دماغ کو خناس چڑھا ہے کہ میری مرضی سے فیصلہ ہوگا کون آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی یا وزیراعظم ہوگا۔
ہم بقول ہمارے محترم نصرت جاوید صاحب دوٹکے کے رپورٹر ہیں جو چھوٹی موٹی صحافت کرتے رہتے ہیں۔ ہم کہاں آپ جیسے مہان کلاکار سے میچ کرسکتے ہیں۔ اپ بہت بڑے ہیں ہمیں اگنور مارا کریں۔ عاشقوں کی طرح behave نہ کیا کریں۔
باقی میرے دوست اگر آپ جیسے سابقہ ملازم جی ایچ کیو کو بہت زور سے انقلاب آیا ہوا ہے تو آپ اپنے انقلاب کے لیے خود کوشش کریں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ جس دن مجھے انقلاب آئے گا میں آپ کو زحمت نہیں دوں گا جیسے آپ اور آپ جیسے دیگر جی ایچ کیو اور آب پارہ کے سابقہ ملازمین دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔
ویسے حیرانی مجھے بھی ہے کہ ساری عمر آپ انہی فوجیوں کی چھتری تلے پلتے رہے، انہی کا شہد ملا دودھ پیتے رہے، انہی فوجیوں سے لاکھوں کروڑں روپوں کے فائدے لیے، ٹی وی چینلز پر نوکریاں انہی فوجیوں نے آپ کو دلوائیں، آپ کے تھرڈ کلاس میگزین کو کروڑوں کا بزنس ملا جس کی آپ سب کو فری کاپیاں بھیجتے تھے، اس میگزین کا کام ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے پراپگنڈہ کو انگریزی کا رنگ دے کر پروموٹ کر کے سفارت خانوں میں پوسٹ کرنا تھا اور اس کے عوض آپ نے لمبے نوٹ کمائے لیکن آج مجھے طعنے دینے آگئے ہیں کہ تھپڑ والی ویڈیو کیوں لگائی۔ واہ۔
کسی دن انہی فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی سے بھرے اپنے پرانے ٹی وی شوز ہی دوبارہ سن لیں جو آپ ہمیں ریجنل سیکورٹی والے ڈرامے روز سناتے تھے تو شاید شرم کے مارے کبھی گھر سے نہ نکلیں آپ۔
جتنے آپ بہادر صحافی تھے وہ میں ذاتی طور پر خوب جانتا ہوں اور 92 چینلز پر پروگرام سے پہلے جو رٹے لگا لگا کر انٹرو پڑھتے تھے اور پورا دفتر سنتا اور ہنستا تھا اس کا بھی گواہ ہوں۔ آپ کی تو چینل کے ڈائریکٹر نیوز کے آگے گھگی بندھ جاتی تھی چینل مالک تو دور کی بات ہے کہ میں آپ کی کونسلنگ کرتا تھا تو آپ کی گھگی ختم ہوتی تھی۔
اب آج کل آپ ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ واہ۔ کتنا برا وقت ہم پر آیا ہوا ہے۔
آپ کا وہی حال ہے ایک بندے کی پشت پر درخت اگ آیا۔ کسی نے اسے بتایا تو ہنس کر کہا کوئی بات نہیں اگلے سال اس کی چھائوں میں سوئوں گا۔
کم از کم آپ تو ہمیں فوجیوں کا ٹاوٹ ہونے کا طعنہ نہ دیں اے میرے بہت ہی بہادر اور باضمیر انسان۔ 🙏
حکومت سندھ اور PPP نے ہمیشہ نہروں کو متنازعہ بنا کر پنجاب کے خلاف پروپیگنڈہ کیا ہے، اس ویڈیو میں سندھ حکومت کے پروپیگنڈہ کو مکمل طور بینقاب کیا گیا ہے، تفصیل سے سنئے 👇
خاور مانیکا کے گھر میں دوست بن کر گھسنا اور پھر اسکی بیوی سے ناجائز تعلقات بنانا اور لطیف جیسے ایمپائر کے سامنے گِلی ڈنڈا کھیلنا اور پھر اسی بیوی کو طلاق دلوا کر اپنے ساتھ دوڑا لینا ، کیا یہ ہمارا کلچر ہے
اور ناظرین وہ بھی کیا دن تھے
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو