I don't understand how the United Nations can issue a report stating that Israel is committing genocide against Palestinian children and yet world leaders simply carry on with their lives as if it means nothing, continuing to deny that it is genocide!
حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان میں اس صورتِحال کو کچھ یوں تبصرہ کیا کہ ’یا تو ہمارے سب سے بڑے اتحادی (امریکہ) کے ساتھ براہِ راست اور تباہ کُن تصادم، یا اسرائیلی مفادات کی عاجزانہ پسپائی۔‘
فلسطینیوں کو کہیں بھی زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔ بھلے وہ سدی تیمان کا فوجی عقوبت خانہ ہو یا اوفر، نجف یا عشکلان کی بڑی جیلیں ہوں یا درجنوں گمنام تفتیشی مراکز ہوں یا پھر مقبوضہ علاقے میں پھیلی سیکڑوں چیک پوسٹوں سے لگے حفاظتی احاطے۔ تشدد ہے، کتے ہیں، ریپ اور ریپ کی وارداتیں ہیں۔
بھٹو جب اس مخمصے میں پھنسا ہوا تھا تو ایک گمنام سائنٹسٹ جو کہ نیدرلینڈ میں قیام پذیر تھا‘ سے پیغام موصول ہوا جس میں ایٹم بم کا ذکر تھا۔ پاکستان کے ایٹم بم کی تاریخ تو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ گمنام سائنسدان اے کیو خان تھے۔ اور بھٹو کو داد دینی پڑتی ہے کہ پیغام کی اہمیت بھانپ لی
معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منا رہی تھی تو پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 415 روپے فی لیٹر کر دی گئی ۔ پہلے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 103 روپے تھی ۔ یہ لیوی بڑھا کر 117 روپے فی لیٹر کر دی گئی جبکہ آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ رہا ہے کہ اس لیوی کو 80 روپے فی لیٹر تک ہونا چاہئے
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ آف انڈیا اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مدد سے مغربی بنگال میں الیکشن جیت کر کولکتہ میں بھی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ۔
ایرانیوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ فکر اقبال سے متاثر ہیں اور فکر اقبال فرعون و یزید کیخلاف بغاوت کا نام ہے۔ ٹرمپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ سکتی کہ
’’ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ‘‘
یزید جیت کر بھی ہمیشہ ہار جاتا ہے
آپ کس کے سہارے ڈٹے رہے؟ ایک ایرانی دانشور کا کہنا تھا "ایران کی جرأت اور استقامت کے دو بڑے پاور ہاؤس ہیں۔ کلامِ الٰہی اور اقبالؒ۔ صحافی نے تفصیل سے جواب دیا کہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کی جرأت، ہمّت, استقامت کے تین سورس ہیں رب ذوالجلال کا نام، کربلا کا پیغام اور اقبالؒ کا کلام۔
قرضوں میں جکڑے ہوئے، سنگین قسم کے مسائل میں پھنسے ہوئے اور اندر کے غدّاروں اور بدخواہوں میں گھرے ہوئے پاکستان نے نہ صرف اس خطّے کو بلکہ پوری دنیا کو ایک ہولناک جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی دنیا کے کونے کونے میں تعریف و تحسین کی جارہی ہے
سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی اسرائیل کسی عالمی ادارے کو شکایت کرے گا کہ ایران کے میزائلوں سے اُسکی سویلین آبادی اور بچوں کیلئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے یونیسیف (UNICEF) کی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین روسل کے نام ایک خط لکھا ہے ۔ 23مارچ کو
۔ یہ سن کرسپریم لیڈر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔ " مسٹر لاریجانی ! میں کیسے غائب ہو جاؤں جبکہ میری قوم لڑنے کیلئے تیار ہے ؟ میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میری فوج دشمن کی آگ کے سامنے بہادری سےکھڑی ہے ؟
ڈاکٹر علی لاریجانی ایران کی جوابی مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آئے۔ وہ ایک سچے رہنما تھے جنہوں نے ایران کو قابلِ فخر بنایا۔ ان کے بزدلانہ قتل پر مجھے گہرا دکھ ہے۔ میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں، سر۔ اللہ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
کسے معلوم تھا کہ جس تہران کو علامہ اقبال عالم مشرق کا جنیوا بنانا چاہتے تھے وہ 2026 میں اپنے عہد کے ابلیسوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن کر کھڑا ہو جائے گا اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے تمام تر اختلافات کو بھول کر تہران کی کامیابی اور سلامتی کیلئے دعائیں مانگیں گے۔
دو ہزار چوبیس میں احمدی نژاد نے امریکی نیوز چینل سی این این ٹرکش کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق صدر حسن روحانی کے دور میں موساد کے ایجنٹوں کی نشاندھی اور کے لیے بیس ایجنٹوں پر مشتمل جو کاؤنٹر انٹیلی جینس یونٹ قائم کیا گیا اس کے سربراہ سمیت تمام اہلکار ڈبل ایجنٹ نکلے۔