@MKAchakzaiPKMAP@Islamabadies BA BA g vo.kabarastaan Pak army ki vaja SE Bana k posht panahi Pak army Karti thi ab k bar pushtono ki posht p khud Pak army thok rahi hai ap preshan na hon bus doa Karen Pak army zindabad . Pakistan hamesha zindabad
دوہزار اکیس کی بات ہے۔۔جنرل باجوہ کا “اُمتِ مسلمہ کے عظیم قائد” پر پریشر تھا کہ پنجاب میں گُڈ گورنس کے لیے عثمان بزدار کی جگہ علیم خان کو وزیراعلی بنایا جائے۔۔۔بانی تحریکِ انصاف نے وعدہ کیا لیکن بعد میں بشری بی بی اور جنرل فیض حمید کے حکم پر اپنا وعدہ پورا نہ کیا۔۔۔۔جنرل باجوہ نے اپنی ہتکِ عزت کا بدلہ لینے کے لیے اپنے انڈر کام کرنے والی خفیہ ایجینسی کو حکم دیا کہ عثمان بزدار،اُن کے عزیزواقارب اور اُن کی حکومت کی کرپشن اور بد انتظامی کو عوام کے سامنے اُ��اگر کیاجائے۔۔۔۔!!!!!
فوج کی خفیہ ایجینسی کے ایک کرنل کی ذمہ داری لگی اور اُس نے صحافیوں میں سے اپنے خاص الخاص درمیانے درجے کے صحافی اورمہرے کی ذمہ داری لگائی کہ اُس وقت کی بزدار حکومت اور بزدار فیملی و عزیز اقارب کی آتما رول کے رکھ دو۔۔۔۔ایجینسی بزدار حکومت اور عثمان بزدار کی فیملی کی کرپشن،بد انتظامی اور غبن کے تمام حقائق،راز اور ثبوت فراہم کرتی تھی اور وہ مہرہ صحافی کیمرے کے سامنے طوطے کی طرح رٹا رٹایا بیانیہ اور کرپشن کے ثبوت پیش کر دیتا تھا۔۔۔۔2021 میں بانی تحریکِ انصاف کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف عوام کی اتنی نفرت اور بے اعتنائی تھی کہ اُس مہرے صحافی کے وی لاگ ہاتھوں ہاتھ،کانو کان اور آنکھوں آنکھ سنے اوردیکھے جانے لگے۔۔۔۔۔!!!!
بانی تحریک انصاف اُس مہرے صحافی سے سخت پریشان ہو گئے اور اُس کی شکایت جنرل فیض حمید سے کی۔۔۔اُس نے آئی ایس آئی کے ذمہ داران کی ڈیوٹی لگائی۔۔۔اُنہوں نے ہاتھ کھڑے کردیے۔بانی تحریکِ انصاف نے شہباز گل،فیصل جاوید اور شہزاد اکبر اور پنجاب میں فواد چوہدری کے سفارشی غیر تجربہ کار اور ناپختہ مشیر اطلاعات کی ذمہ داری لگائی کہ سوشل میڈیا پر اُس صحافی کا مقابلہ کریں ا��ر عثمان بزدار اور اُن کی فیملی پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیں۔لیکن وہ سارےناکام ہوگئے۔۔۔۔۔!!!!
ایک دن مجھے بانی تحریک انصاف اور وزیراعظم کا ڈائریکٹ فون آیا اور مجھے کہاکہ کہ میں نے عثمان بزدار اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری طاہر خورشید کو کہا ہے کہ فیاض چوہان کے علاوہ کوئی اور اُس مہرے صحافی کے الزامات کا جواب نہیں دے سکتا۔۔تو آپ اُن دونوں کے ساتھ ��یٹھ کر پوری تیاری کے ساتھ ایک وی لاگ کر کے اُن تمام الزامات کا جواب دو۔۔۔۔!!!!
خیر میں اپنی ذمہ داری کے تحت اُس صحافی کے الزامات کا جو جواب دینا تھا وہ دیا۔۔۔۔۔۔!!!!!
اِس پوری تفصیل سُننے کے بعد۔۔۔۔آپ تمام دوست جاننا چاہتے ہونگے کہ فوج کی ایجینسی کا وہ تابعدار صحافی کون تھا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ جناب یہ وہ صحافی تھا جس نے جنرل باجوہ کی اطاعت گزاری کے بعد حالات وواقعات کا عمرو عیار اور ابن الوقت کی طرح اندازہ لگا کر پینترا بدل کر جنرل فیض حمید اور عثمان بزدار کے اُنہی آقاؤں اور ماسٹرز کی جھولی میں بیٹھ کر موٹر سائیکل سے لینڈ کروزر اور لوئر مڈل کلاس سے ارب پتی کا سفر طے صرف چار سالوں میں طے کیا۔۔۔۔۔!!!!!
آج وہ نوسر باز پاکستان کی سادہ لوح عوام اور دنیا کےسب سے مظلوم،عقل ودانش اور فہم وفراست سے محروم گروہ “یوتھیا چیپلن” کو پاک فوج کے پاکستان سیاست اور میڈیا میں مداخلت کے مضمرات سے آگاہ کرتا ہے۔۔اور۔۔۔پاک فوج کے خلاف فیک نیوز اور جعلی پراپیگینڈاکے ذریعے نفرت پی��ا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔۔۔۔!!!!!
جو فوج کی ایجینسی کا کرنل اُسے ڈیل کررہا تھا وہ میرا رشتے دار تھا۔۔۔۔بقول اُس کے یہ صحافی سارا دن ہمارے دفتر کے اردگرد گھومتا رہتا تھا اور ہر قسم کی ڈیوٹی لینے کا طلبگار رہتا تھا۔۔۔!!!!!
حاصل وصول۔۔فوج کے جونئیر افسران کے گھٹے گوڈھے دبا دبا کر میڈیا میں جوان ہونے والا وہ صحافی پچھلے چار دنوں سے اپنے دوسرے صحافیوں اور اینکرز کو تڑیاں لگا رہا ہے کہ وہ فوج سے خوف زدہ اور مرعوب ہیں اور وہ صحافت کے میدان کا وہ دلنشین مور ہے کہ جس نے ہمیشہ فوج کی سیاست اور میڈیا میں مداخلت پر جی گویرا کے انداز سے مخالفت کی ہے۔۔۔۔۔!!!!!!
بد قسمتی یہ نہیں ہے کہ وہ اِس منافقت اور ابلیسیت کا مرتکب ہورہا ہے۔۔۔۔بلکہ لطیفہ یہ ہے کہ یوتھیے اُسے “امام خمینی کا جوائی” اور “نیلسن منڈیلا کی پرجائی” سمجھ کر اُس کے وی لاگ سُنتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!
یوتھیوں کو وہ سقراط اور بقراط کوئی اور نہیں۔۔بلکہ وہ گیلا تیتر ہے جس کے ٹکر کا کوئی اور شخص نہیں اور جو مر جائے گا کٹ جائے لیکن اپنا ملک پاکستان نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
منافقت زندہ باد۔۔۔۔۔عیاری پائندہ باد
جب تک آخری یوتھیا اِس زمین پر موجود ہے۔۔۔اِس زمین سے نوسربازوں،نوٹنکیوں اور مادر”پِدروں”کی شہنشاہی قائم ودائم رہے گی۔۔۔۔!!!!!