Give and Take..
آرٹیکل 8 پر کھل کر بات ہوتی ہے اور یہ خوش آئند ہے، آرٹیکل 8 کا وجود آرٹیکل 5 سے جڑا ہے، اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ آرٹیکل؛ 5 پہ بھی کھل کر بات کی جائے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک فکری نشست میں اہم نقطہ..
اب سوال کہ آرٹیکل 8اور 5 کیا ہیں؟؟؟
اور اس کو سمجھنے کے لیے پہلا سوال یہ ہے کہ
ریاست کیا ہے؟
"ریاست" دراصل ایک جغرافیے اور اس میں رہنے والے لوگوں کے مجموعے کا نام ہے۔
جنگل اور پتھر کے دور سے نکل کر جب انسان نے ریاست کا تصور پیش کیا تو اس میں انسان کے لیے آئین تجویز کیا یعنی ریاست میں جنگل کا قانون "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" (Might is Right) نہیں ہوگا
جنگل اور ریاست میں فرق آئین ہے
ایک جغرافیے میں رہنے والے لوگ آئین کے تحت چلیں گے تاکہ وہ قطعہ ارض قائم رہے وہ محفوظ رہیں اور اس آئین کو وہ حقوق فرائض کا نام دیتے ہیں
ریاست کس طرح چلائی جائے گی کس کے زمے کیا ہوگا اس کے لیے ریاست اور شہری کے درمیان حقوق فرائض کا ایک باہمی ایگریمنٹ طے پایا جسے عمرانی معاہدہ (Social Contract)کہتے ہیں اور یہ عمرانی معاہدہ دو آرٹیکلز پر مشتمل ہے
ارٹیکل 5 اور ارٹیکل 8...
ارٹیکل 5 :1 کہتا ہے ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔
آرٹیکل 5(2): آئین اور قانون کی اطاعت ہر شہری پر لازم واجب التعمیل ہے، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا ملک سے باہر...
شہری کی ریاست سے وفاداری کی شرط پر ریاست آرٹیکل 8پر اسے جوابی انشورنس دیتی ہے کہ
ریاست کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو شہریوں کے بنیادی حقوق (جیسے آزادیِ اظہار، جان و مال کا تحفظ، اور برابری) کے منافی ہو۔ اگر ایسا کوئی قانون بنایا گیا، تو وہ کالعدم تصور ہوگا۔ریاست اس کے جان مال کا تحفظ کرے گی اس کو تمام بنیادی حقوق دے گی جیسے صحت تعلیم روزگار..
ایک شہری اس وقت تک اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے فرائض پورے نہ کرے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو امن و امان کا حق (آرٹیکل 8 کے تحت) چاہیے، تو آپ کا فرض ہے کہ آپ قانون ہاتھ میں نہ لیں (آرٹیکل 5 کے تحت)۔
آئینی ترتیب میں آرٹیکل 5 کا آرٹیکل 8 سے پہلے آنا علامتی طور پر بھی اہم ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حقوق حاصل کرنے کے لیے پہلے ایک ریاست کا ہونا اور اس ریاست کے قوانین کا احترام کرنا لازمی شرط ہے۔
شہری ریاست کو ٹیکس دے تاکہ ریاست بنیادی سہولیات فراہم کر سکے
شہری پر ٹریفک سگنل کی پابندی سے لے کر اعلیٰ ترین سطح پر آئین کے احترام تک، قانون کی بلا تفریق اطاعت فرض ہے۔
ارٹیکل 5 کہتا ہے شہری سیاسی یا ذاتی اختلافات کو ریاست کی سلامتی اور ملکی اداروں کے وقار پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا ۔
چنانچہ اپ کا سیاسی اختلاف ہو تب بھی آپ ریاست کے وفادار رہیں گے اور ریاست تب ہی اپ کے حقوق پورے گی
موجودہ دور میں ففتھ جنریشن وارفیئر (5GW) کے پیشِ نظر، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے سے گریز کرنا بھی آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری کا حصہ ہے
یاد رکھیے اگر آپ اپنے حصے کا فرض پورا نہیں کرتے تو حقوق کی ڈیمانڈ پھر اپ کی بددیانتی ہے
حجاب رندھاوا
فضلو تمھارا کوئی زریعہ معاش نہیں تو تم نے یہ محل کیسے بنایا یہ ہمارا پیسہ ہے عوام کا پیسہ ہے جو تم نے دو نمبریوں سے حاصل کیا
ہمارا پیسہ ہمیں واپس کرو
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
Tell the fatherless children that their brave fathers were "just doing a job." Their pain exposes the cruelty of your statement.
#فضلو_عبداللہ_بن_ابی#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر
Child abuse is widespread in the madrassas of some well-known Islamic politicians #فضلو_عبدللہ_بن_ابی in Pakistan. They exploit the names of Sharia and Islam to influence and control the public, and then attempt to gain political power. This Senate report is presented as
🚨BREAKING:
Fazlu's dual character is truly shameful. Fazl-ur-Rehman for downplaying the sacrifices of our Pak Army martyrs while talking about salaries.
These brave soldiers guard our borders day and night so you can give political speeches in safety.
Even after becoming Chairman of the Kashmir Committee, he did nothing for Kashmir, but he certainly fulfilled his personal interests.
He got military lands allotted, took commissions on Hajj quotas, and even now raises religious slogans for his vote bank.
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر
#فضلو_عبدللہ_بن_ابی