17 سالہ ایشال کیساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ موت ڈرگ اوور ڈوز سے ہوئی ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف!
17 سالہ مرحومہ طالبہ ایشال سمیت خلیل الرحمن، محمد حسان اور عمیس کے ماں باپ 4 جون سے 7 جون تک اپنے بچوں کے بارے میں فکر مند کیوں نہ تھے کہ انکے بچے کہاں ہیں اور کیا کررہے
پاکستان میں آج بھی شادی ہونے تک بچے اپنے والدین کے ساتھ رہتے چاہے بچوں کی شادی چالیس سال کی عمر میں ہو پھر ان نوجوانوں کے ماں باپ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی غیر موجودگی میں تین راتوں تک آرام سے کیسے سوتے رہے
یہی لڑکے اگر شادی شدہ ہوتے تو اپنی ماں سے باقاعدہ اجازت مانگے بغیر اپنی دلہن کو گھمانے کھلانے پلانے سیر و تفریح کرانے کے لئے باہر لے کر نہیں جاسکتے تھے یہ لڑکے پیشہ ور مجرم نہیں کالج میں پڑھنے والے لڑکے ہیں
لڑکی ایشال اپنے گھر سے 4 جون دوپہر کے ایک ڈیڑھ بجے اپنے کالج کے 'دوست' خلیل کے ہمراہ باہر گئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ خلیل کے ساتھ باہر نہیں گئی کیا آپکی بیٹی کے کالج کا لڑکا اسطرح آپکے گھر آذادانہ آنا جانا کر سکتا ہے کیا آپ اپنی بیٹی کو اسکے کالج کے نامحرم دوست کے ساتھ آذادانہ جانے کی اجازت دے سکتے
یہ سب نوجوان ایک نوجوان کی پھپھی کے گھر جمع ہوئے جو خالی تھا وہاں "پارٹی" کا اہتمام کیا گیا جہاں لڑکے لڑکیاں ناچ گانا، کھانا، "پینا" سب ہوا گرفتار ہونے والے چاروں لڑکوں نے بیان دیا کہ لڑکی سمیت وہ تمام لوگ مل کر نشہ کرتے تھے لیکن اس مرتبہ نشہ کرنے سے لڑکی کی حالت غیر ہوگئی اور وہ بےہوش ہوگئی دو دن تک لڑکوں نے خود فرسٹ ایڈ دینے کی کوشش کی کہ لڑکی ہوش میں آجائے لیکن کوئی فرق نہ پڑا تو وہ اسپتال لے کر آئے جب لڑکی اسپتال پہنچی تو اسکی شوگر 600 تھی اور بلڈ پریشر خطرناک حد تک گرنے کی وجہ سے اسکی موت واقع ہوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی کے پورے جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں اور اسکی موت جنسی زیادتی یا اجتماعی جنسی زیادتی سے رونما نہیں ہوئی
تین دن بعد ایشال کے والد کو 7 جون کو ایک لڑکی کی کال موصول ہوئی جس میں انہیں اطلاع دی گئی کہ انکی بیٹی کو حالت غیر میں فلاں پرائیویٹ اسپتال داخل کروایا گیا ہے اسکے بعد ابا جان نے اپنی بیٹی کے اغوا جنسی زیادتی اور قتل کی ایف آئی آر درج کروائی جس میں انہوں نے لکھوایا کہ بیٹی سلے ہوئے کپڑے لینے درزی کے پاس گئی ساتھ میں علی احمد، حیدر علی اور دعا کے نام پولیس کو دئیے کہ یہ تینوں انکی بیٹی کے اغواء میں شریک ہیں یا انکو معلوم ہے کہ انکی بیٹی کہاں ہے جب اسپتال پہنچے تو انہیں پتہ چلا کہ انکی بیٹی کی موت واقع ہوجانے کی وجہ سے پولیس طلب کرنے کے بعد اسے گورنمنٹ اسپتال منتقل کردیا گیا کیونکہ قوانین کے مطابق پرائیویٹ اسپتال کو پولیس کیس لینے یا پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں اسکے بعد سوشل میڈیا پر لڑکی کو اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل ہوئی
بالکل اسی طرح نور مقدم کے اماں ابا رات کے آٹھ بجے اپنی بیٹی کے گھر سے جانے کے بعد تین راتوں تک آرام سے سوتے رہے کیونکہ انکی بیٹی بتا کر گئی تھی کہ وہ ظاہر جعفر کے گھر "رات" گزارنے جارہی ہے کیونکہ ظاہر جعفر کے اماں ابا گھر پر نہیں بلکہ شہر میں ہی نہیں اور یہ بات نور مقدم کے اماں ابا کے لئے معمول کی بات تھی اس لئے تین دن تک لاپتہ ہونے یا اغواء ہونے کی ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی اور پھر قتل کی خبر ملنے کے بعد حبس بیجاء میں رکھنے، جنسی زیادتی اور قتل کے مقدمہ کی ایف آئی آر درج ہوئی
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ 17 سالہ ایشال کا جھنگ سے آذادانہ لاہور اور اسلام آباد آنا جانا تھا بالکل اسی طرح جیسے 17 سالہ ثناء کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا مگر وہ اسلام آباد میں مقیم تھی اماں کی موجودگی میں آذادانہ باہر آنا جانا ملنا ملانا گھومنا پھرنا تھا اسکا قتل جسکے ہاتھ ہوا وہ زبردستی نہیں بلکہ ثناء کی اجازت سے اس کے گھر اس سے "ملنے" آیا تھا ثناء نے لڑکے کو خود اس وقت بلایا تھا جب گھر میں "کوئی" نہیں تھا کیونکہ اس کو اندازہ نہیں تھا کہ غصے میں لڑکا اسے قتل بھی کرسکتا ہے
تین قصے، متخلف عمر، مختلف پیشے، مختلف علاقے لیکن کہانی ایک ، لڑکے لڑکیوں کے والدین کی طرف سے انکو دی جانے والی بےجا آذادی اور بھرپور پیسہ کی فراوانی جو وہ اپنی "تفریح" پر خرچ کررہے لڑکیوں کے والدین انہیں آذادی دے رہے کہ وہ اپنے خرچے جس طرح چاہیں اٹھائیں
عوام ہر کچھ عرصہ کے بعد سڑکوں پر کھڑی ان والدین کی بیٹیوں کے لئے انصاف مانگنے لگتی مگر وہ معصوم اور مظلوم عورتیں جو اصل میں عزت کے نام پر گھروں میں قید ہیں جو حقیقت میں کہیں والدین، کہیں شوہر اور کہیں سسرال والوں کے ظلم کا شکار ہیں اور ابھی زندہ ہیں انہیں انصاف دلانے کے لئے کوئی سڑک پر نہیں نکلتا، کوئی ہیش ٹیگ کمپین نہیں چلاتا
Sardars in sindh raped a girl infront of her parents, elite in Lahore raping a young girl multiple times even she died during abortion, acid attack on a doctor by a lift operator and then a husband killed his wife for not having sex with him. One week and women suffering.
What happened to Dr. Mahnoor Nasir should shake us all. It is heartbreaking, horrifying and absolutely unacceptable.
A woman serving others in a hospital, a place meant for healing, was attacked while on duty… Dr. Mahnoor is not an isolated case.
All occupations have occupational hazards. Nobody forced you to become a doctor, an army officer, a babu, or anything else. You yourself subscribed to it and made an informed decision because of the incentives. Daily, WAPDA linemen die because of electric shocks, yet we never see an outcry over them. Attaining a piece of paper doesn’t make you a special human being. Get out of your bubble and drop the entitlement.