23 مارچ 1940 کے کے تاریخی اجلاس کے خطبہ صدارت میں قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانان برصغیر کا مقدمہ آزادی بھرپور طریقے سے پیش کرتے ہوۓ فرمایا:-
"میں یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا کہ میں ایک مسلمان ہوں- میں بجا طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اب کوئی اندھا بھی یہ جانتا اور مانتا ہے کہ مسلم لیگ کو ہندوستان کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے- یہ بالکل واضح ہے کہ مسلمان اور ہندو تاریخ کے دو مختلف دھاروں کے زیر اثر ہیں- ہماری تاریخ مختلف, ہمارے ہیرو مختلف, ہمارے حالات و واقعات مختلف, اکثر و بیشتر ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن اور اسی طرح ایک کی فتح دوسرے کی شکست"-
ہم خوش قسمت ہیں کہ اسوقت پاکستان کی قیادت صحیح معنوں میں بابائے قوم کے افکار کی جانشین ہے- 💚
#یومِ_قراردادِ_پاکستان مبارک ہو- 🎉🎊
پاک افواج زندہ باد 🪖 ⚔🦅⚓
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰❤
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ کی خدمت میں بذریعہ انکی لائق و محنتی ٹیم @CMComplaintCell اور @SaimaFarooq صاحبہ سے گزارش ہے کہ ناصر محمود (03051821429) چک نمبر 429 گ ب, تحصیل تاندلیانوالہ, ضلع فیصل آباد گزشتہ تین سال سے بازو فریکچر ہونے کے بعد سے کوئی خاص محنت مزدوری نہیں کر سکتا- اسوقت یہ لوگوں کے کھیتوں میں ہلکا پھلکا کام کر کے اپنے 5 بچوں اور بیوی کا گزر بسر کر رہا ہے-
اسکی بیوی مستقل اضطراب اور عمومی اضطراب کی بیماری"Anxiety and generalised anxiety "disorder (GAD) کا شکار ہے اور ایک بیٹا بھی اسی بیماری میں مبتلا ہے- انتہائی تنگدستی کے حالات سے گزرتی یہ فیملی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں راشن و مالی امداد کی مستحق ہے-
درخواست کرتا ہوں کہ اس خاندان کی حکومت پنجاب کی طرف سے راشن اور نقد مالی امداد کی جائے-
نیز انکا ایک مڈل پاس بیٹا جو محنت مزدوری کر کے باپ کا ہاتھ بٹا رہا ہے, اس کے لیئے کوئی مستقل روزگار دلوائے جانے کی درخواست بھی ہے-
اللہ تعالیٰ ہماری قیادت اور انکی ٹیم کو اس غریب پروری کے بدلے سلامتی, کامیابیاں اور مزید ترقیاں نصیب فرمائیں (آمین)
جزاک الله - شکریہ-
دوسری مرتبہ گزارش ہے کہ یکم فروری کو سی ایم آفس سے تفصیلات طلب کرنے کیلئے جناب محمّد اظہر حفیظ صاحب کو فون جانے کے باوجود ابتک انکے بیٹے کے علاج کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ تمام مطلوبہ میڈیکل ریکارڈ بھی شیئر کر دیا گیا تھا-
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ سے بذریعہ @CMComplaintCell اور @SaimaFarooq صاحبہ دوبارہ عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم اس پر موثر پیشرفت کیلئے احکامات صادر فرمائے جائیں- جزاک الله, شکریہ
ڈیورنڈ لائن کی پاکستانیوں کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں- حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ بھی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہ کرے-
ان نمک حرام افغانیوں کو اسوقت تک ٹھوکیں جب تک واخان کوریڈور, اسمار کا علاقہ (وادی چانک تک), برمل کا علاقہ جو وزیرستان کا حصّہ تھا, نورستان جو کافرستان کا حصّہ تھا اور لال پورہ جو مہمند کا حصّہ تھا ہمیں واپس نہیں مل جاتے- انکے علاوہ جن علاقوں کے اندر پاک فوج نے گھس کر قبضہ کر رکھا ہے, وہ بھی واپس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے-
اسی طرح افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بھی جاری رکھنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے-
ہمارے ٹکڑوں پر قریباً نصف صدی پلنے والے یہ نمک حرام آستین کے سانپ آج انڈیا سے ڈالر پکڑ کر پاکستان کے خلاف ہیں جو کل تک امریکی ڈالرز پکڑنے میں خوش تھے اور جب امریکی انکا ملک چھوڑ کر واپس جا رہے تھے تب یہ انکے طیاروں کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور لٹک لٹک کر مر رہے تھے-
اپنے جینیاتی کوڈ میں لڑائی, جھگڑا, وحشی پن, بربریت, بے ایمانی, بے وفائی اور مانگ کر کھانے جیسی صفات رکھنے والی یہ قابل نفرت, انسانی تمدن سے کوسوں دور, جاہل, جنگلی اور بدبودار قوم کسی رعایت کی مستحق نہیں ہے-
فتنہ الخوارج کو بلا وجہ جہنم کے کتے نہیں کہا گیا-
انتقال پرملال
انتہائی دکھ اور افسوس کیساتھ اطلاع دے جاتی ہے کہ ہمارے دوست اور ایکس کے ہردلعزیز لیگی ٹویپر ساتھی جناب توقیر ناصر صاحب @TauqirNasser کی دادی جان قضاء الٰہی سے انتقال فرما گئی ہیں-
إِنَّا ِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون
دعاگو ہوں کہ الله تعالی مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائیں اور انہیں جنّت الفردوس میں مقام عطا فرمائیں (آمین)-
الله رب العزت توقیر ناصر بھائی سمیت تمام سوگواران کو یہ صدمہ سہنے کیلئے ہمت, حوصلہ اور صبر عطا فرمائیں (آمین)
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ سے بذریعہ @CMComplaintCell اور @SaimaFarooq صاحبہ درخواست ہے کہ راولپنڈی سے رضوان احمد صاحب (03125290822) کی شکایت ہے کہ وہ اپنی وارثتی زمین واقع مورگاہ, تحصیل و ضلع راولپنڈی (انتقال نمبر 17076)میں سے اپنے حصّے کی 5 مرلے جگہ کا فرد لینے کیلئے اراضی سینٹر روات کے گزشتہ چھ ماہ سے چکّر لگا رہے ہیں لیکن انہیں مطلوبہ فرد جاری نہیں کیا جا رہا- متعلقہ پٹواری ہر دفعہ کوئی نیا بہانہ کر کے ٹال دیتا ہے- کبھی کہتا ہے ریکارڈ کمپیوٹرائزشن کیلئے گیا ہوا ہے, کبھی کہتا ہے کھیوٹ کی جمعبندی کر رہے ہیں, کبھی موجود ہی نہیں ہوتا- مبیّنہ طور پر مذکورہ اراضی سینٹر کا سٹاف نہایت کرپٹ ہے جبکہ رضوان احمد صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ساری زندگی کبھی ایک پیسہ بھی رشوت کا کسی کو نہیں دیا تو اب اس عمر میں آ کر اپنا ریکارڈ کیوں خراب کروں- جبکہ وہ اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں جس کا فرد مقصود ہے اور کوئی قبضہ وغیرہ یا لیگل اشو بھی نہیں ہے-
اسی اراضی سنٹر کی حال ہی میں وائرل ہوئی ایک ویڈیو بھی بطور ثبوت منسلک کر رہا ہوں-
فوری داد رسی کی درخواست ہے- جزاک الله
شکریہ-
UNAMA (اقوام متحدہ امداد مشن برائے افغانستان) کی تازہ رپورٹ
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ پریس ریلیز UNAMA کا نہیں بلکہ المرسد یا عمر میڈیا کی پیداوار ہے- اسکی سیدھی سی اور واحد وضاحت یہ ہے کہ UNAMA تحریک طالبان افغانستان یا تحریک طالبان پاکستان کے ارکان سے بھری پڑی ہے-
یوں تو UNAMA کسی بھی طرح کے اعداد و شمار بتا سکتا ہے، مثلاً 42 افراد ہلاک، 104 زخمی، 16,400 گھرانے بے گھر ہوئےاور WFP (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے 160,000 افراد کو متاثر کیا، لیکن ان کے پاس نہ تو مصدقہ ثبوت ہیں اور نہ ہی کوئی طریقہ کار جس کی وجہ سے وہ ان اعداد و شمار تک پہنچے-
پاکستان کو لیکچر دینے سے پہلے UNAMA نے دوسروں کے علاوہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی طرف سے تصدیق شدہ حقائق کو دیکھنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی- صرف ان کے علم کے لیئے یہ بتانا ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کے لیئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے اور یوں سرحد پار دہشتگردی کو سپورٹ کرتی ہے- UNAMA کو اپنا لیکچر دراصل UNSC کی اس رپورٹ سے شروع کرنا چاہیئے تھا-
اسی اقوام متحدہ کی رپورٹنگ ایکو سسٹم کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے پاس موجود جنگجوؤں کی تعداد کا اندازہ تقریباً 6,000 لگایا گیا ہے، جنہیں طالبان رجیم کے حکام سے خاطر خواہ لاجسٹک اور آپریشنل سپورٹ حاصل ہے- پھر بھی UNAMA اپنا غصہ نکلتے وقت ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے- اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی رپورٹنگ کی مدت کے دوران ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملوں کو بھی نوٹ کیا- اسی رپورٹ میں افغان سرزمین سے اور طالبان رجیم کی طرف سے فراہم کردہ مالی امداد، بشمول خارجی نور ولی مسعود کے خاندان کے لیئے 30 لاکھ افغانی ماہانہ، نیز کنڑ، ننگرہار، خوست، پکتیکا میں نئے تربیتی مراکز کا ذکر بھی شامل ہے-
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں 2024 میں ہونے والی دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,081 ہے، جو کہ 45 فیصد زیادہ ہے اور رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ TTP نے اکیلے 482 حملے کیئے جن میں 558 افراد ہلاک ہوئے- پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی 52 فیصد اموات، "انسانی تشویش" مجرموں اور اہل کاروں کا نام لیئے بغیر نامکمل ہے۔ PIPS نے 2024 میں 521 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیئے جن میں 852 افراد ہلاک ہوئے اور 2025 میں 699 حملوں میں 1,034 افراد ہلاک ہوئے- پاکستان اپنے متاثرین کو دفناتا رہتا ہے لیکن افسوس کہ کابل UNAMA کے ذریعے تردید کرتا رہتا ہے- مطلب صاف ظاہر ہے کہ UNAMA بھی دہشتگردی کی آلہ کار بنی ہوئی ہے-
پاکستان نے کئی دہائیوں تک تقریباً 4-6 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لہٰذا پاکستان کو اس غلط اور جانبدار اخلاقی لیکچرز سے بچائیں- اگر UNAMA اپنی ساکھ چاہتا ہے تو اسے قابل تصدیق شواہد اور طریقہ کار شائع کرنا چاہیئے، ٹی ٹی پی کے بنیادی ڈھانچے کو اسکے نام سے پکارنا چاہیئے، دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیئے- پاکستان تب تک انٹیلی جنس پر مبنی، دہشت گرد کیمپوں کے خلاف درست کارروائی کے ذریعے اپنے لوگوں کا دفاع کرتا رہے گا، جب تک افغان رجیم دہشتگردی اور ہلاکت خیزی کا لبادہ اوڑھے رکھے گی-
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ سے بذریعہ @CMComplaintCell اور @SaimaFarooq صاحبہ گزارش ہے کہ چک نمبر 4, جاگووالا (کامونکی), تحصیل چونیاں, ضلع قصور کی خاتون سمیرا اسلم بیوہ محمّد سلیم (03229765483) انتہائی سخت اور تکلیف دہ حالات کا شکار ہیں- انکی 16 سالہ بیٹی "لائبہ سلیم" ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی بیماری کی وجہ سے معذور ہے- سمیرا کے شوہر محمّد سلیم کا انتقال اگست 2012 میں ہوا تھا-
چونکہ سمیرا اسلم کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے, انکی زندگی اپنی معذور بیٹی کیساتھ نہایت کسمپرسی اور ابتر حالت میں گزر رہی ہے- انکا ٹوٹا پھوٹا گزارا صرف چند رشتے داروں کی مدد سے چل رہا ہے لیکن وہ بھی مستقل نہیں کیونکہ مدد کرنے والے رشتے دار بھی خوشحال لوگ نہیں ہیں-
میں ملتمس ہوں کہ:
1- سمیرا اسلم کیلئے سرکار کی طرف سے گزارے کیلئے ایک ماہانہ وظیفہ مقرّر کیا جائے; اور
2- سمیرا اسلم کی بیٹی لائبہ سلیم کے علاج کیلئے محکمہ صحت @Kh_ImranNazir کو پیشرفت کرنے کی ہدایات دی جائیں-
جزاک الله-
شکریہ
پاکستان کے انتہائی مخالف سابقہ اشرف غنی دور کے نائب صدر امراللہ صالح کا پاکستان افغانستان کے حوالہ سے تجزیئے کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں- اس تجزیئے میں @AmrullahSaleh2 نے پانچ نکات پر بات کی ہے-
🔸️عنوان : ہماری مایوسی کے مطابق
پاکستان کی افغانستان اور طالبان کے حوالے سے نئی حکمت عملی پانچ ہم عصر اقدامات پر مشتمل نظر آتی ہے، جو ایک مربوط پالیسی میں پیک کی گئی ہیں- الزامات اور بیانات کے دھند کے بیچ، یہ اسلام آباد کے رویے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے-
🔹️پہلا: پاکستان نے واضح طور پر تجارت اور اقتصادی تعلقات کو افغانستان میں طالبان کے ساتھ سیاسی اور سکیورٹی ماحول سے منسلک کر دیا ہے- پہلی بار اسلام آباد یہ ظاہر کرنے کے لیئے تیار ہے کہ وہ تجارت یا اقتصادی فوائد کو قربان کر سکتا ہے تاکہ مذاکرات میں فائدہ حاصل کرے، رعایتیں نکالے، یا حل طے کرے- اس کا مطلب ہے کہ تجارت اب سیاست اور سکیورٹی سے الگ نہیں ہوگی، جس کی وجہ سے اہم سرحدی راستے بند ہیں- یہ طالبان کو شمالی راستے اور ایران پر بھاری انحصار پر مجبور کر رہا ہے، جس سے ان کی کمزوری بہت بڑھ گئی ہے- شمالی راستہ خاص طور پر سالنگ ہائی وے سے گزرتا ہے، جو طالبان کے مخالف حلقے سے تعلق رکھتا ہے-
🔹️دوسرا: پاکستان افغان فضائی حدود پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور اپنی مرضی سے منتخب فضائی حملے کر رہا ہے- طالبان کے پاس مؤثر اینٹی ایئر دفاع یا عالمی سطح پر احتجاج کرنے یا ہمدردی حاصل کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں- ان کی صورت حال اب ایک حکومتی ادارے سے زیادہ دہشت گرد گروہ جیسی لگتی ہے-
🔹️تیسرا: پاکستان نے ملکی سطح پر وسیع اتفاق رائے اور داخلی ہم آہنگی حاصل کر لی ہے- اسکے اندرونی سیاسی دائرہ کار میں چند حد سے تجاوز کرنے والے حلقوں کو چھوڑ کر جو پاکستان کے آئین کے مخالف ہیں, پاکستان آرمی کے فضائی حملوں کی حمایت موجود ہے- یہ رویہ اسرائیل کے لبنان اور شام میں آپریشنز سے مشابہت رکھتا ہے، جہاں سرحد پار کارروائیاں قومی اتحاد کے ساتھ کی جاتی ہیں-
🔹️چوتھا: پاکستان فعال طور پر بین الاقوامی حمایت حاصل کر رہا ہے، جو اس کے جاری “انسداد دہشت گردی” کی مہم کے لیئے ہے، جو جزوی طور پر طالبان مخالف کارروائی میں بدل چکی ہے- کوئی بھی ملک طالبان کی حقیقی حمایت نہیں کر رہا، کیونکہ ان کے گروپ کو نہ داخلی قانونی حیثیت حاصل ہے اور نہ بیرونی شناخت- ان کے زیرِ حکومت افغانستان ایک فعال ریاست کی بجائے قبائلی حکمرانی جیسا دکھائی دے رہا ہے-
🔹️پانچواں: پاکستان طالبان مخالف قوتوں سے رابطے میں ہے اور ان کے ساتھ طالبان کے بعد کی حکومت اور سیاسی انتظامات پر مشاورت کر رہا ہے- گزشتہ چار سال سے زائد عرصے میں کوئی اور علاقائی طاقت طالبان کی قانونی حیثیت کو اس طرح چیلنج نہیں کر سکی جتنا اسوقت پاکستان نے کیا ہے- یہ ہماری پسند کے مطابق ہو یا نہ ہو، یہ الگ بات ہے-
وسیع تر تناظر میں، پاکستان دوبارہ خود کو افغانستان میں مغربی حمایت یافتہ ایک بااختیار اور بین الاقوامی قوانین ڈکٹیٹ کروانے والی قوّت کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور امریکہ اور نیٹو کی چھوڑے گئے انفراسٹرکچر اور ساز و سامان کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے-
یہ تمام اقدامات تب ممکن نہ ہوتے اگر طالبان نے گھمنڈ، تکبر اور قلیل المدتی سوچ کے بجائے حقیقی افغان قیادت میں سیاسی حل تلاش کیا ہوتا۔ لیکن اب شاید بہت دیر ہو چکی ہے-
@AmirHQureshi عامر بھائی بات سنجیدہ ہے۔ پاکستان کو اب واضح اور مضبوط لائحہ عمل دینا ہوگا۔ مسلم دنیا کی بڑی ریاستیں ایک دوسرے کیلئے دیوار کی حیثیت رکھتی ہیں، اگر ایک کمزور ہوئی تو اثر سب پر پڑے گا۔ وقت اتحاد اور حکمت سے فیصلے کرنے کا ہے۔
امریکہ 🇺🇸 اور اسرائیل 🇮🇱 نے جو یہ نیا رجحان تخلیق کیا ہے کہ جس ملک کے آپ مخالف ہوں اسکی قیادت کو براہ راست نشانہ بنا کر راستے سے ہٹا دیا جائے, اسکے نتائج انتہائی بھیانک نکلنے والے ہیں-
یہ رجحان نہ صرف دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے بلکہ تقریباً تمام ملکوں کی سیاسی یا عسکری قیادتوں کو بھی غیر محفوظ کر چکا ہے, چاہے وہ امریکہ اور اسرائیل خود ہی کیوں نہ ہوں-
🔹️وہ مشرق سے ظہور پذیر ہونگے-
🔹️وہ نوعمر لڑکے ہونگے اور دین کے معاملے میں متشدد ہونگے-
🔹️وہ کثرت سے نمازیں پڑھنے والے ہونگے-
🔹️ان کی نمازوں کے سامنے تم اپنی نمازوں کو کم سمجھو گے-
🔹️وہ قرآن کو دلیل بنائیں گے مگر قرآن ان کے خلاف دلیل ہوگا-
🔹️وہ کفار کے لیئے نازل ہونے والی آیات کو مسلمانوں پر فٹ کریں گے-
🔹️وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور کفار کو چھوڑ دیں گے-
🔹️وہ لوگوں کو حق کی طرف بلائیں گے مگر خود حق پر نہ ہونگے-
🔸️انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو وہ بدترین مقتول ہونگے
اور
🔸️جسے وہ شہید کر دیں وہ بہترین شہید ہوگا-
ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔۔۔
● بخاری اور ابنِ ماجہ میں خوارج کی یہ نشانیاں واضح کر دی گئی ہیں اور انہیں جہنم کے کتے کہہ کر پکارا گیا ہے۔۔۔
🔸️جہاں ملیں انہیں جہنم واصل کر دینے کا حکم ہے اور اس پر اجر رکھا گیا ہے۔۔۔۔
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ کی خدمت میں بذریعہ @CMComplaintCell اور @SaimaFarooq صاحبہ, راولپنڈی کے مصروف علاقے میں قبضہ گروپ کی دیدہ دلیری کے ساتھ کارروائی, پولیس کی بے حسی اور محکمہ مال کے عدم تعاون پر فوری نوٹس لینے, انصاف قائم کروانے اور مکمّل دادرسی کی اپیل کرتا ہوں-
سائلہ ڈاکٹر حنا امان (03355128310) بیان کرتی ہیں کہ انکے شوہر جناب امان اللہ صاحب نے جو اسوقت دبئی مقیم ایک اوورسیز پاکستانی ہیں انہوں نے جون 2021 میں ایک پلاٹ رینج روڈ راولپنڈی میں خریدا جہاں انہوں نے پہلے ایک آٹو ورکشاپ قائم کی اور پھر اسے تبدیل کر کے ایک Pet شاپ بنائی-
25 جنوری 2026 کی رات 10.50 پر تقریباً 40 کے قریب مسلح افراد نے انکے پلاٹ (pet shop) کی دیواریں پھلانگ کر وہاں قبضہ کر لیا اور وہاں موجود تمام سامان بمعہ جانور ایک ٹرک میں بھر چوری کر کے لے گئے- ون فائیو پر کال کی گئی- پولیس نہیں آئی بلکہ سائلہ کو نصیرآباد تھانے بلایا گیا- وہاں جا کر بھی نہ انکی بات سنی گئی, نہ ایف آئی آر کاٹی گئی اور نہ قبضہ گروپ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی-
سائلہ سی پی او کے پاس گئیں- سی پی او نے انہیں ڈی ایس پی کینٹ کے پاس ریفر کر دیا- سائلہ نے اپنے پلاٹ کی ملکیت سے متعلق ایک ایک دستاویزی ثبوت انہیں پیش کیئے- وہاں مخالفین (قبضہ گروپ) اپنے قبضے کی سپورٹ میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکے لیکن اسکے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی-
مذکورہ پراپرٹی پر ابتک قبضہ گروپ مسلط ہے- پہلے انہوں نے دو دو اور تین تین مرلوں کے جعلی فرد (مختلف خسروں کے) تیار کروائے لیکن اب وہ 23 مرلے جگہ کی ایک جعلی رجسٹری اٹھائے پھرتے ہیں- اس تنازعے کے دوران قبضے والوں نے اس پراپرٹی کو بیچنے کی کوشش بھی کی لیکن خریدار کو جھگڑے کا علم ہونے پر اسنے عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوۓ ڈاکٹر حنا امان سے رابطہ کیا اور جب اسے مذکورہ پلاٹ کے ملکیتی ثبوت دکھائے گئے تو وہ ممکنہ سودے سے پیچھے ہٹ گیا-
اس قبضے کے پیچھے راولپنڈی کی ایک با اثر سیاسی شخصیت کا ہاتھ ہے جسکی طاقت اتنی ہے کہ پولیس, ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مال سائلہ کی بار بار کی درخواستوں پر کان ہی نہیں دھرتے- 25 جنوری 2026 سے ابتک سائلہ دس جگہ درخواستیں گزار چکی ہیں جس میں تھانہ نصیر آباد راولپنڈی, سی پی او راولپنڈی, ڈی ایس پی کینٹ راولپنڈی, آئی جی پنجاب پولیس, منسٹری آف اوورسیزز, سٹیزن پورٹل, او پی ایف اسلام آباد, او پی ایف پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب شامل ہیں- اسکے علاوہ انگنت ای میلز مختلف اداروں اور شخصیات کو بھی بھیجی گئیں لیکن کہیں سے کوئی دادرسی نہیں ہوئی-
میں اس معاملے پر فوری نوٹس کی درخواست کرتا ہوں تاکہ سائلہ کو فوری انصاف ملے اور قبضہ گروپ کے دہشتگردوں کو قانون کے مطابق سزا ملے- جزاک الله
شکریہ-
جیسے انکا مہاتما غلیظ, ویسے ہی اسکے سپورٹر غلیظ-
کیا کوئی اس پوسٹ کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ یہ وجاہت بھگوڑا ہارورڈ کا پڑھا ہوا ہے-
اس چھچھورے شخص کی اخلاقی گراوٹ اور گھٹیا خاندانی پس منظر کا تعلیم کچھ بگاڑ نہیں سکی-
اس م چ کو وطن کی حرمت, نظریات اور آئین سے کوئی سروکار نہیں, یہ نفسانی خواہشات کا غلام اور وطن دشمن طاقتوں کا ملازم ہے-
@WajSKhan 🐕
انا للہ و انا الیہ راجعون
محترمہ خالہ جان، یکم رمضان المبارک کو خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گئیں۔ آپ کو کینسر تھا اور آپ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں زیر علاج رہیں جہاں وقفے وقفے آپ کو اٹھارہ مرتبہ کیمو تھیراپی کی گئی۔