مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا
ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.*
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے*
اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی
*لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے*
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
Copy
🚨بڑی پیشگوئی جو حقیقت ثابت ہی ہوئی
بڑ ے ظرف والے لوگ تھے
خود تو چلا گیا لیکن الفاظ بہت زبردست چھوڑ گیا ۔۔۔
اس ویڈیو کو پروموٹ کریں طارق عزیز صاحب کی پاکستانیوں کی نظر میں بہت عزت ہے
طارق عزیز کی بات کا مان رکھا ہے عمران خان نے👍💯
⚠بیوی کی بہن⚠
یہ تو ہم سب جانتے ہیں
کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔
لفظ اگرچہ کچھ مناسب نہیں لگتا
لیکن اسی نام سے بات شروع کرتے ہیں۔۔۔
عموماًبیوی کی بڑی بہنیں شادی شدہ ہوتی ہیں اور اگر غیر شادی شدہ بھی ہوں تو وقت کے ساتھ طبیعت میں سنجیدگی اور بردباری آچکی ہوتی ہے۔۔۔۔
جبکہ بیوی کی چھوٹی بہنیں عمر کے اس مرحلے میں ہوتی ہیں جب زندگی کا ہر رُخ خوبصورت اور ہر موڑ دلکش معلوم ہوتا ہے۔۔۔
ایسے میں بہن کا شادی ہونا اور ایک نئے فرد یعنی بہنوئی کا گھر سے تعلق ہونا بھی ایک منفرد نگ لئے ہوتا ہے۔۔۔
معاشرے کے عام چلن کی وجہ سے عموماًیہ چھوٹی سالیا ں اپنے بہنوئی سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی ہیں اور اپنے بہنوئی کا خیال بھی بہت رکھتی ہیں۔۔۔
جب کبھی بہن کا اپنے میکے جا نا ہو
تو اکثر یہی سالیاں بہن اور بہنوئی کو بوریت سے بچانے کے لئے ان کو مکمل وقت دیتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مرد کے رُخ سے کچھ بات ہوجائے۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک محاورہ مشہور ہے۔۔۔
سالی۔۔۔
آدھے گھر والی۔۔۔
اکثر مرد جب اپنے عزیز دوستوں میں بیٹھتے ہیں تو چھوٹی سالیوں کے نام پر ایک عجیب مسکراہٹ ان کے چہرے پر آجاتی ہے۔۔۔
دوست احباب بھی ذومعنی جملوں سے اس مسکراہٹ کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔۔
یہ حقیقت عجیب صحیح لیکن بہر حال معاشرے میں موجود ہے۔۔۔
اپنے بہنوئی کے اس رُخ سے ان کی سالیاں بھی اکثربے خبر ہوتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسلام کے رُخ سے اس پہلو کو دیکھتے ہیں۔۔۔
اسلام کی رُو سے بہنوئی سالی کا آپس میں شرعی پردہ ہے۔۔۔
بہنوئی،سالی کا نامحرم ہے اور گھر کے اندر گاہے بگاہے اس کی موجودگی کی وجہ سے اس پردے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے لڑکی کے ماں باپ بھی آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔۔۔
اکثر بہنوئی بھی اس پردے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔۔۔
اور سالیا ں "ہمارے بہنوئی تو ہمارے بھائی جیسے ہیں" کی سوچ کے ساتھ اس سے صرفِ نظر کرتی ہیں۔۔۔
اور یہ میلان کی خطرناک حد بہنوئی کے علاوہ کسی کے علم میں بھی نہ ہو گی۔۔۔
اور وہ بہنوئی کبھی اپنی بیوی کو بھی اس میلان کانہیں بتائے گا۔۔۔
یہ ایسا خاموش زہر ہے جس سے یا تو وہ مرد واقف ہے یا الله تعالیٰ کی ذات اس کے دل کا حال جانتی ہے۔۔۔
نہ مردوں میں اتنی ایمانی قوت ہے کہ وہ اپنی اس حرکت کو تسلیم کرسکیں۔۔۔
خدارا!اس امتحان میں نہ پڑیں۔۔۔
بیوی کے ماں باپ سے گزارش ہے کہ اپنی دیگر بیٹیوں کو داماد سے شرعی پردہ کروائیں۔۔۔
بیوی کی بہنوں سے گزارش ہے کہ خود ہی پیچھے پیچھے رہا کریں تاکہ بہنوئی کو یہ باور ہو کہ میری سالیاں جھجھک اور شرم والی ہیں۔۔۔
اور مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اس نسبی تعلق کے ساتھ مالِ مفت دل ِبے رحم والا معاملہ نہ کریں اور دل کے اندر گھٹیا اور فضول خواہشات پالنے سے گریز کریں۔۔۔
الله تعالیٰ ہمیں اس باریک مسئلے کی حقیقت کا ادراک کرنے والا بنا دے آمین۔
ڈنمارک یونیورسٹی کی تحقیق:
"دو ہفتے تک ٹانگوں کو حرکت نہ دینے سے ٹانگوں کی طاقت 10 سال تک کم ہو سکتی ہے!
بزرگوں کے لیے اعتماد دماغ میں نہیں بلکہ ٹانگوں میں ہوتا ہے۔"
عمر بڑھنے کے ساتھ آپ کو ہمیشہ اپنے پاؤں اور ٹانگوں کو مضبوط رکھنا چاہیے۔
بڑھاپے میں سفید بالوں، لٹکتی ہوئی جلد یا جھریوں کی فکر کرنے کے بجائے اپنی ٹانگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
مضبوط ٹانگوں کے پٹھے امریکی جرنل آف پریوینٹو میڈیسن کے مطابق سب سے اہم عضلات اور لمبی عمر کی علامت ہیں۔
دو ہفتے تک ٹانگوں کی بے حرکتی ٹانگوں کی طاقت کو 10 سال تک کم کر سکتی ہے۔
مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ہر عمر کے وہ افراد جو دو ہفتے تک غیر فعال رہتے ہیں، اپنی ٹانگوں کی پٹھوں کی طاقت کا ایک چوتھائی حصہ کھو سکتے ہیں، جو 20 سے 30 سال عمر بڑھنے کے برابر ہے۔
اگر ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہوں تو بحالی کی مشقوں سے بھی طاقت واپس لانے میں کافی وقت لگتا ہے۔
باقاعدہ ورزش، جیسے چہل قدمی، بہت ضروری ہے۔
پورے جسم کا وزن ٹانگوں پر ہوتا ہے۔
جسم اپنے وزن کو برداشت کرنے کے لیے پاؤں استعمال کرتا ہے۔ انسان کے وزن کا 50 فیصد ہڈیوں میں ہوتا ہے، اور ہڈیوں کا 50 فیصد حصہ ٹانگوں میں ہوتا ہے۔
جسم کے سب سے بڑے اور مضبوط جوڑ اور ہڈیاں ٹانگوں میں ہیں۔
مضبوط ہڈیاں، پٹھے اور لچکدار جوڑ مل کر ایک "آہنی مثلث" بناتے ہیں جو جسم کے سب سے اہم بوجھ کو سہارا دیتا ہے۔
آپ کی سرگرمی کی توانائی کا 70 فیصد پاؤں میں جلتا ہے۔
جوانی میں آپ کی رانیں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ گاڑی بھی اٹھا سکیں!
ٹانگیں اور پاؤں جسم کا "مرکزِ حرکت" ہیں۔
ٹانگیں جسم کے 50 فیصد اعصاب، 50 فیصد خون کی نالیاں اور 50 فیصد خون کے بہاؤ کو سنبھالتی ہیں۔
ایک وسیع دورانِ خون کا نظام ٹانگوں کو جسم سے جوڑتا ہے۔
جن لوگوں کی ٹانگیں اور پاؤں صحت مند ہوتے ہیں ان کی خون کی گردش ہموار رہتی ہے؛ اور جن کے ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ان کا دل بھی مضبوط ہوتا ہے۔
انسانی بڑھاپا پاؤں سے شروع ہوتا ہے اور اوپر کی طرف بڑھتا ہے۔
عمر کے ساتھ دماغ کے ٹانگوں کو دیے گئے احکامات جوانی کے مقابلے میں کم درست اور سست ہو جاتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں سے کیلشیم بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے، اس لیے بزرگ افراد میں فریکچر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
بزرگوں میں فریکچر آسانی سے پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر دماغی تھرومبوسس جیسی جان لیوا بیماریوں کا۔
اعداد و شمار کے مطابق ران کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد 15 فیصد بزرگ افراد ایک سال کے اندر وفات پا جاتے ہیں!
60 سال کے مرد کے لیے ٹانگوں کی ورزش کرنا ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔
ٹانگیں اور پاؤں وقت کے ساتھ بوڑھے ضرور ہوتے ہیں، لیکن ان کی ورزش ایک عمر بھر کا مشن ہے۔
براہ کرم اسے اپنے تمام پرانے ہم جماعتوں، پرانے ساتھیوں، پرانے رفقا، پرانے دوستوں اور رشتہ داروں تک ضرور پہنچائیں۔
شرمناک امر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب کے نام کی تختی، جو 200 بیڈ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسنگ کالج میانوالی کے مین گیٹ پر نصب تھی، اکھاڑ کر سٹور روم میں پھینک دی گئی۔ عمران خان صاحب نے تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میانوالی کے عوام کو تحفے میں دیا تھا، جو نہ صرف میانوالی بلکہ پورے سرگودھا ڈویژن کے لیے ایک عظیم طبی سہولت تھا، اور جس کا افتتاح انہوں نے دسمبر 2022 میں خود کیا تھا۔ موجودہ فارم 47 کی حکومت نے اس ہسپتال کو ختم کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ضم کر دیا، اور اب عمران خان صاحب کے نام کی تختیاں بھی اتاری جا رہی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکومت عمران خان صاحب کے عوامی منصوبوں کی شناخت اور تاریخ مٹانے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ عوامی منصوبے کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا
عمران احمد خان نیازی
20 دسمبر 2025
ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال کے آپریشن تھیٹر سے دورانِ ڈیوٹی افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹ ڈاکٹر کو، مبینہ طور پر ویزا کی توسیع کے معاملے پر گرفتار کرنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اگر کسی قانونی کارروائی کی ضرورت تھی تو اس کے لیے مہذب، قانونی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار اختیار کیا جا سکتا تھا، نہ کہ مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی خدمات کو متاثر کر کے۔
پاکستان اور افغانستان کے ہزاروں طلبہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد برسوں سے ایک دوسرے کے ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ویزا کی توسیع یا امیگریشن سے متعلق معاملات کو بنیاد بنا کر اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف پیشہ ورانہ وقار کے منافی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، طبی اور انسانی تعاون کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
میں وفاقی حکومت/ متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اور غیر ملکی طلبہ و پیشہ ور افراد کے ویزا کے اجرا اور توسیع کے عمل کو آسان، شفاف اور بروقت بنایا جائے۔ حکومتوں کے درمیان پالیسی معاملات کی قیمت طلبہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد کی تضحیک کی صورت میں ادا نہیں کی جانی چاہیے۔ انصاف، انسانی وقار اور پیشہ ورانہ احترام کو یقینی بنایا جائے۔
"یہ بات واضح ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی پریس کانفرنس حکومت کو بچانے کے لیے تھی ،مجھے بالکل حیرت نہیں ہوگی اگر رضا ڈار باعزت بری ہو گئے "، "اگر آپ کو لگتا ہے کہ رضا ڈار کیس میں انصاف ہوگا تو تین امکانات ہیں، پہلا یہ کہ آپ پاکستان میں نئے آئے ہیں،دوسرا یہ کہ آپ بہت معصوم ہیں، تیسرا یہ کہ آپ بالکل پاگل ہیں"۔ زورین نظامانی
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
اس بابا جی کا نام فضل محمد ولد علی حیدر ہے۔
بابا جی کراچی کے علاقے ناتھا خان گوٹھ شاہ فیصل سے 26 جون 2026 سے لاپتہ ہے۔
ستر سال عمر ہے،ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔
بابا جی کے تمام گھر والے دردر ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
کسی گھر کا بزرگ ایسے اچانک گم ہو تو گھر کی رونقیں ختم ہوجاتی ہیں۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ بابا جی کے متعلق کوئی بھی اطلاع ہو نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
03162529829
5 july 2026
#waliullahmaroof
اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔ گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔
سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ سال کی عمر میں گھر سے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا۔ دوست آگے نکل گئے ممتاز پیچھے رہ گیا۔ جاتے جاتے ممتاز بھٹک گیا۔ رات ہوئی کسی نے لاوارث پاکر اپنے گھر میں رکھا اور ایک ہفتے تک اپنے پاس رکھا۔ پھر اس نے ممتاز کو پولیس کے حوالے کیا پولیس نے شیلٹر میں جمع کردیا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا۔ گھر کے آس پاس سورج مکھی کی فصل بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سکھر کے شیلٹر سے ممتاز کو کراچی بھیج دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ممتاز کی آنکھیں گھر والوں کے ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہےباور وہیں سوتا ہے۔نا عید منانا ہے نا کسی شادی بیاہ پر کوئی بلاتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
ممتاز کو اپنی والدہ کا نام آمنہ یاد ہے،بھائیوں کے نام الطاف اور زین یاد ہیں۔ اور بہن جو سب سے بڑی تھی کا نام مریم تھا۔ گھر میں سندھی زبان بولتے تھے۔
والد صاحب آٹے کی مل پر بھی کبھی کبھی لیجاتا تھا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ مل میں کام کرتا تھا یا صرف گھمانے لیجاتا تھا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ اتنا یاد ہے کہ کسی موقع پر سب محلے والے گھروں سے کھانا لیکر مسجد آتے تھے نماز پڑھ کر سب ملکر کھانا کھاتے تھے۔ مسجد کا نام قائد ذہن میں آرہا ہے شاید کوئی اور نام ہو۔ (قائد سے ملتا جلتا کوئی نام ہو تو وہاں ضرور کوئی لنک مل سکتی ہے)۔ گھر کے پاس ایک جگہ گندا پانی جمع تھا جسمیں لوگ کچرا پھینکتے تھے۔
ممتاز اپنوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے اور تنہائی میں روکر اپنا غم ہلکان کرتا ہے۔
ممتاز کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر ایک انسان کی ویران دنیا سنوار سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof #sindh #PakistanZindabad #MissingChild #sukkur #Sindhi