پاکستانی کرکٹرز چونکہ پاکستان میں رہتے ہیں تو ان کے لیے بولنا مشکل ہے، لیکن عمران خان کے ساتھ زیادتی اور ظلم پر ہم انسانییت اور اپنے ساتھی کرکٹر کے لیے آواز اٹھا رہیں ہیں، ہمیں پاکستان کے قوانین کا نہیں پتہ
(پاکستان کے قوانین ججز نے ویسے کہا تھا ، یہ قانون کو نہیں مانتے)
اہم معاملہ : عمران خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے تناظر میں حکومت کا آج منگل کے دن ایک اور امتحان بھی ہے
18 اگست کو عمران خان شفا منتقلی کیس میں سپریم کورٹ نے 3 قسم کے آرڈرز دئیے تھے
1. عمران خان کو شفا منتقل کریں ذاتی معالج اور ڈاکٹر عظمی کو ساتھ رکھیں
اب اس آرڈر پر جو کچھ ہوا اس کا معاملہ توہین عدالت میں سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے
2. فیملی کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات کرائی جائے
آج منگل ہے دیکھنا ہو گا حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فیملی کی ملاقات کراتی ہے یا نہیں ؟
اگر یہ ملاقات نا کرائی گئی تو سپریڈنٹ جیل ، آئی جی جیل خانہ جات اور پنجاب حکومتی وزیر پر بھی توہین عدالت لگ سکتی ہے
3. عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ ہفتے میں دو روز ٹیلی فونک بات کرائی جائے
کیا یہ بات گزشتہ ایک ہفتے میں دو دفعہ کرائی گئی یا نہیں ؟ یہ بھی کہ فیملی کی عمران خان سے آج کی ملاقات سے پتہ چل جائے گا
اگر یہاں بھی عدالتی آرڈر پر عمل نا ہوا تو سپریڈنٹ اڈیالہ جیل ، آئی جی جیل خانہ جات و متعلقہ وزیر پر بھی توہین عدالت لگ سکتی ہے
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
انٹرنینشل کرکٹ کے 21 کپتانوں نے عمران خان کے علاج کا مطالبہ کر دیا۔
پوری دنیا سے کھلاڑی عمران خان کے علاج اور انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پاکستانی موجودہ اور سابقہ کھلاڑی اس پر مکمل خاموش ہیں۔
جس ملک میں انصاف کے سب سے بڑے ادارے کا حکم نہیں مانا جاتا تو وہ ملک کیسے اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ھے۔ میری سمجھ سے باھر ھے۔
#اڈیالہ_کی_چابی_صرف_مزاحمت
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
دنیا میں کونسی ایسی حکومت ہوگی کونسی ایسی سیاسی جماعت ہوگی جسکی لیڈرشپ ایک مخالف کو پہلے جیل میں جیسے رکھا تھا وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جب عدالت نے حکم دیا آپ اس بندے کا علاج کروا لیں لیکن جو انہوں نے کیا ہے پاکستان کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی اتنا بغض اتنی نفرت کہ آپ ایک بندے کا ہسپتال میں علاج کروانے کو تیار نہیں ہیں
اطہر کاظمی
بہت ہو گیا یہ تماشا۔ اب ہم اس تماشے کا مزید حصہ نہیں رہ سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم مکمل طور پر کشتیاں جلا دیں۔
میں اپنی قیادت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی کا فوری مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور فیصلہ کیا جائے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے علاوہ تمام اسمبلیوں سے فوری استعفے دیے جائیں۔ اب ہماری تمام تر توجہ اور توانائیاں 27 ستمبر کی کال کی بھرپور تیاری پر مرکوز ہونی چاہئیں۔
ٹیپو سلطان نے کیا کمال کہا تھا:
شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے
74 سالہ بیمار قیدی کا رات آدھا گھنٹے کا سفر ان کی 5 سالہ بادشاہت پر بھاری پڑ گیا
لوگ رات جس طرح عمران خان کیلئے دیوانہ وار باہر نکلے، ایک غاصب نظام ایسی بے لوث محبت کو حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، یہ نظام پانچ سال سے اسی عوامی حمایت کو دولت کی بارش، تمغوں کی نوازشات، لوٹ مار کی اجازت، عہدوں کی بندر بانٹ، مراعات کی ریل پیل اور جبر کے ہتھیار سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر یہ نظام چند ضمیر تو خرید سکا لیکن اپنے لئے عوامی نفرت ختم نہ کر سکا۔
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے بڑے ججز ایک ایک چیز لکھ کر دیں، شفاء ہسپتال کا نام لکھیں، میڈیکل بورڈز میں لوگوں کا نام دیں، 48 گھنٹے کی ڈیڈلائن دیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کیساتھ ایسا کھلواڑ کیا جاۓ
سہراب برکت
جس کا نام میڈیا پر لینے پر بھی پابندی ہے، جس کی سیاست پر بھی سرخ لکیر لگا دی گئی تھی، اس کے ہسپتال پہنچنے کا اپڈیٹ جاننے کے لئے پورا پاکستان اور عالمی میڈیا بے چین ہے!
وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
اس سے بڑا سپریم کورٹ کا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہاں بیٹھا ایک جج، جسٹس نعیم اختر افغان، خود وکیل فیصل صدیقی سے کہہ رہا ہو: “Let the system expose itself.”
یعنی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ہونے دیں تاکہ نظام خود بے نقاب ہو جائے۔
سوچیں، اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت کا جج بھی یہ کہہ رہا ہو کہ نظام کو خود کو ایکسپوز کرنے دیں، تو پھر اس نظام کی حالتِ زار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس سے بڑا عدالتی المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کا حکم واضح ہے کہ عمران خان کو کل دوپہر تک ہر صورت شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ہے، اگر انھوں نے Review دائر کیا ہے تو اس کا فیصلے پر کوئی اثر نہیں، فیصلہ اپنی جگہ قائم ہے اور اگر عملدرآمد نہیں ہوتا تو توہین عدالت کی کاروائی ہوگی۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
انیق ناجی 🔥🔥
اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ عمران خان نے اور PTI نے سب کو غلط ثابت کردیا ہے سب کو گھٹنوں پر لے آئے ہیں جس طرح سے خان صاحب نے جیل کاٹی ہے اسکی تو دنیا میں مثال ہی نہیں ہے۔
کوئی ڈیل نہیں کوئی اقتدار نہیں صرف پاگل پن سے ہٹ کر تھوڑا سا نارمل کی طرف ایک قدم اٹھایا گیا ہے اور صرف ہسپتال منتقلی کی خبر پوری دنیا میں بجلی کی طرح دوڑ گئی ہے ۔ خان صاحب اب اتنا بڑا larger than life شخصیت بن گیا ہے یہ سب نوکر جوکر اسکے سامنے "بونے" بن گئے ہیں۔ اب تو "تیرا کیا ہوگا کالیا" کی بات ہے۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ میں ماتم کا سماں یے انہوں نے اتنا گند مارا ہے اتنی بدتمیزہاں کی ہیں اتنے بے اوقاتے ہوگئے تھے "جوکر نوکر" کے انکے تو پلے ہی کچھ نہیں رہا نہ عزت نہ وقعت نہ وقار نہ ووٹر نہ پاپولریٹی ہر طرف انکو پوری دنیا میں گالی پڑ رہی ہے اور عمران خان ایک ھیرو بن کر ہسپتال جا رہا ہے
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
تھوڑی سی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے۔اگر سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ چیک آپ کروا لو تو آپ اسکی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔کس قسم کے اٹارنی جنرل ہیں۔کیسی حکومت ہے اور یہ کیسا وزیراعظم ہے ۔۔جو اٹھ کر مخالفت کر رہا ہے ۔۔
انکی کوئی Self Respect نہیں ہے ۔۔ انکا شرم و حیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔
۔۔مطیع اللہ جان