اکبر بگٹی کے بعد آج ماہ رنگ بلوچ کے حق میں بھی صرف محمود خان اچکزئی نے بات کی۔ محمود خان اچکزئی کی پشتون بلوچ برابری کی بات پر گالیاں نکالنے والے خالد لانگو اور دیگر پارلیمان کے ممبر بلوچ بھائی اس ظلم پر کیوں خاموش یے؟
گوادر میں درج بلوچ راجی مچی کیس کا فیصلہ سامنے آگیا۔ انسدادِ د* ہشت گر* دی عدالت کوئٹہ نے بلو* چ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ جاری کر دیا۔
ذومبیز کے منہ پر تماچہ
عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں زومبی ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے جرنلزم کے طالب علم مشال خان کی بہن صبا اقبال نے کینیڈا کی ٹورانٹو یونیورسٹی سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کر لی
اپنے مرحوم بھائی کے خوابوں کی تکمیل بہن نے کی۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔
محترم مشر محمود خان اچکزئی پر تنقید کرنے والے کسی بھی شخص کی دو کھوڑی کی سیاسی سماجی اور قبائیلی حثیت نہی ھے, سب کے سب دونمبر سیاسی سماجی اور قبائیلی چنڈال ہیں,
آسمان پر تھوکنا ناممکن ھے ,
نوروز خان کو قرآن کے نام پر باہر لایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مگر پھر انہیں بیٹوں و نواسوں سمیت پھانسی دی گئی۔
عطاء اللہ مینگل کے گھر پر چھاپہ مار کر اس کے بچے اسد کو اٹھا لیا گیا، جسے پھر کسی نے نہیں دیکھا ۔ یہ طریقہ پاکستان چلانے کا نہیں ہے۔
جب فاٹا کو ضم کیا گیا، تو اس دن وہ اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا۔ اعلان کر دیا گیا کہ فاٹا کو ضم کر دیا گیا ہے۔ اب جو حالات پیدا ہو چکے ہیں، وہ نہ آپ سے سنبھل رہے ہیں اور نہ ہی ہم سے۔
آئین کے 3 آرٹیکل فاٹا پر لاگو تھے، ہم نے زبردستی 200 آرٹیکل ان کے گلے میں ڈال دیے۔
میرے ایک بیان کو بنیاد بنا کر درجنوں لوگوں سے پتا نہیں کیا کیا کہلوایا گیا۔
بلوچستان کے ساتھ آج بھی وہی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جو ایوب خان کے دور میں نواب نوروز خان کے ساتھ رکھا گیا۔