@ZubairAlikhanUN Lanti bnda tha
Jahanmi
Gustakh e Rasool
Is k sath Imran khan ny stage share krny sy inkar kr diya tha
Apny iman ki hifazat karo
Kisi ki dushmani main apna iman he na zayya kr baitho
غ زہ کے ساحل پر خیموں میں مقیم نبی کریم ﷺ کے عشاق اس سخت آزمائش میں بے گھری بے سامانی کے عالم میں بھی فضا کو طلع البدر علینا کی صداؤں سے مہکا رہے ہیں۔ یہ وہ صدا ہے جو دراصل اُن کے ایمانی جذبات کو مہمیز و طاقت دیتی ہے جو وہ زمین کے تمام جھوٹے خداؤں سے ٹکرائے ہوئے ہیں۔
#shaoorfeed #Gazapeople #nabimuhammadﷺ #shaoornews
Today, Israel killed another child.
Yahya Al-Mallahi, 3 years old, killed by Israel while walking with his father to attend a wedding celebration in Gaza.
📸 Mahmoud Hamda
The world, Europe, and Spain have faced this critical moment before. In 2003, a few irresponsible leaders dragged us into an illegal war in the Middle East that brought nothing but insecurity and pain.
Our response then must be our response now:
NO to violations of international law.
NO to the illusion that we can solve the world’s problems with bombs.
NO to repeating the mistakes of the past.
NO TO WAR.
https://t.co/KpRjBfwY4B
🔴 امریکی سیاسی ماہر نورمن فنکل اسٹائن نے کہا ہے کہ غزہ میں مارے جانے والے فلسطینی بچوں کی تعداد دنیا کے دیگر تمام جنگی علاقوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہے۔
ان کے مطابق اسرائیلی فوج بچوں کو براہِ راست سر اور سینے پر نشانہ بنا رہی ہے۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران جرمن سفیر سے مباحثے میں ایک طالب علم نے پاکستان میں معذور بچوں کے علاج سے متعلق ان کے بیان کی اخلاقیات پر سوال اٹھایا اور ساتھ ہی غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی حمایت کا الزام بھی جرمنی پر لگایا۔ بعد میں طالب علم نعرے لگاتے ہوئے ہال سے نکل گئے۔
دربارِ رسول کے مستری اور عشق کا قافلہ
پاکستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض توہین نہیں، یہ تاریخ کی بدترین اور گھناونی توہین ہے۔
یہ وہ توہین ہے جہاں فحش فلموں، فحش تصاویر اور حیوانی مناظر کو نفوسِ قدسیہ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
جہاں محرم رشتوں کے ساتھ جنسی تعلقات، قبیح افعال اور اخلاقی گراوٹ کو انٹرٹینمنٹ کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ سب کسی غلط فہمی یا لاعلمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک منظم، سوچا سمجھا اور شیطانی منصوبہ ہے - حزبِ شیطان کی فکری یلغار۔
جب اس مکروہ کھیل میں ملوث عناصر بڑی تعداد میں قانون کی گرفت میں آئے تو فوراً ایک مخصوص سیکولر جتھا حرکت میں آیا۔
بیانیہ وہی پرانا تھا کہ پاکستان میں کوئی “منظم گروہ” ہے
جو “معصوم بچوں” کو پکڑ کر ان پر جھوٹے توہین کے مقدمات بنواتا ہے۔
بغیر تحقیق، بغیر ثبوت، ہر اس شخص کو جو اس فحاشی اور توہین کے خلاف کھڑا تھا دجال، انتہا پسند اور فسطائی قرار دے دیا گیا۔
لیکن ایک بنیادی غلطی کر دی گئی۔
یہ سمجھ لیا گیا کہ
یہ محض قانونی جنگ ہے،
یہ محض بیانیوں کا مقابلہ ہے۔
حالانکہ اصل میں یہ عشق اور تقدس پر حملہ تھا۔
اور جب عشق کی دیوار پر حملہ ہو تو دربارِ رسول ﷺ کے مستری خود میدان میں اترتے ہیں۔
یوں ایک شہر سے آواز اٹھی، دوسرے شہر نے اس آواز کو تھام لیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے عشق کا قافلہ شہر در شہر رواں ہو گیا۔
یہ نہ کوئی سیاسی مہم ہے،
نہ کوئی اقتدار کی جدوجہد،
نہ کسی جماعت کا جلسہ۔
یہ ایک فقیدالمثال عوامی آگہی کی تحریک ہے۔
گجرانوالہ،
لاہور،
قصور،
بھیرہ،
رحیم یار خان
بہاولنگر
ہر جگہ ایک ہی منظر ہے:
علماء کرام،
وکلاپروفیسرز،
عوام،
نوجوان اور بزرگ
سب حقائق سن رہے تھے، سب یہ سمجھ رہے تھے کہ اصل معاملہ کیا ہے، اور سب یہ پہچان رہے تھے کہ کس نام پر فحاشی کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔
اور پھر دیگر شہروں میں بھی اسی سلسلے کے پروگرام طے ہیں۔
یہ قافلہ رُکا نہیں،
اور نہ رکے گا۔
کیونکہ یہ کسی فرد کا نہیں،
کسی تنظیم کا نہیں،
یہ ایک اجتماعی شعور کی بیداری ہے۔
جوں جوں یہ قافلہ آگے بڑھ رہا ہے لوگوں کی آنکھیں کھلتی جا رہی ہیں، حق واضح ہوتا جا رہا ہے، اور باطل اپنی جگہ کھوتا جا رہا ہے۔
سیکولر بدمعاشیہ یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کر کے یا حملہ آوروں کو تحفظ دے کر یہ قوم کے دل توڑ دے گی۔
وہ یہ نہیں جانتی کہ یہ وہ امت ہے جس کا دل اگر اس معاملے میں ٹوٹ بھی جائے تو وہ اس ٹوٹے ہوئے دل سے رستے ہوئے خون کو سمیٹتی ہے اور اسی خون سے عشق کی تشنہ تمناؤں کو سیراب کرتی ہے۔
اور جب یہ تمنائیں سیراب ہوتی ہیں تو زبان پر صرف ایک ہی جملہ رہ جاتا ہے:
فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی وَنَفْسِی وَرُوحِی وَأَوْلَادِی یَا رَسُولَ اللّٰہ ﷺ