جسکا 2,3 سال پہلے تک کچھ نہ تھا اور رات و رات ایسے کاروبار کھڑے ہوں، وہ خاک عہدہ چھوڑے، ساری زندگی ایک کرولا گاڑی کے ساتھ گزرے اور اب ایک ایک بیٹا بی ایم ڈبلیو میں گھومے اور 20,30 ہزار ڈالرز کی گھڑی پہنے وہ استعفیٰ کیوں دے گا؟
🚨Emergency Situation
Imran Khan’s life in danger ‼️
Imran Khan’s life in danger ‼️
Imran Khan’s life in danger ‼️
Imran Khan’s life in danger ‼️
#KhanIllegallyJailed3Years
🔥🔥🔥
اگر آج رات تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو کل صبح نو بجے میں اور میری حکومت اٹک پل بند کردیں گے اور یہ احتجاج میں خود لیڈ کروں گا ، سہیل آفریدی
عمران خان کی صحت پر مسلسل الرمنگ آرہیں ہیں ، لیکن کسی طرف سے اس طرح آوازیں نہیں بلند ہورہی جو ہونا چاہیئے ہے سمجھ لو کہ اگر جھوٹ بھی ہے تو کیا ہم سب کو خاموش رہنا چاہیئے ہے ؟؟؟ مجھے نہیں لگتا ہمارا مطالبہ ہونا چاہیئے عمران خان کی بہنوں سے جلدی ملاقات کروائی جائے اور عمران خان صاحب تک انکے ڈاکترز کی رسائی فراہم کی جائے اس کے علاوہ جو کچھ ہے بکواس ہے ان دو باتوں کے علاوہ کوئی حل نہیں خان کی زندگی کی فکر کریں سب ۔۔۔۔۔
#ImranKhanHealthMatters
کیا آپ جانتے ہیں اس جمہوری ارسطو کو جیو نیوز پر نوکری کیسے ملی تھی ؟
جب جیو نیوز کو مشرف نے بند کر دیا تھا تو جنگ گروپ نے مشرف سے مزاکرات کیے تو اس دوران جو شرائط طے پائیں تھیں ان میں سے مشرف نے ایک شرط یہ بھی رکھی تھی کہ آپ کو میرے چار صحافیوں کو جیوز نیوز میں نوکری دینی ہو گی ان چار میں سے ایک صحافی سلیم صافی صاحب بھی تھے جسے فوج نے جیوز نیوز میں ملازمت دلوائی تاکہ جنگ گروپ میں جہموریت پرست اور ڈکٹیٹرشپ کے حمایتیوں کے دروان توازن برقرار رکھا جا سکے
جو الزامات آپ نے شہباز گل پر لگاۓ ان کے ثبوت ہیں آپ کے پاس: صحافی
ثبوت تو نہیں لیکن آپ لوگوں سے پوچھیں: شفیع جان
لیکن آپ نے الزام لگایا ہے ثبوت تو ہونا چاہیں: صحافی
آپ PTI لیڈرشپ سے پوچھ لیں: شفیع جان
آپ الزام لگا رہے ہیں موبائل چوری 2022 میں ہوۓ لیکن جون 2023 میں عمر ایوب انہیں پھر ایڈوائزر لگا رہے ہیں: صحافی
میں جواب نہیں دینا چاہتا: شفیع جان
آپ نے الزامات لگاۓ ہیں جواب تو دینا چاہیے: صحافی
میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا: شفیع جان
ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا ، بھٹو کو پھانسی دی۔ بینظیر ناتجربہ کار تھی۔ کچھ سیاسی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ ایک دن خاموشی سے ملک سے باہر چلی گئی۔ فوجی جرنیل کو طویل حکومت کرنے کے لیے ملک میں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرف نے نواز شریف کو ڈیل آفر کی ، نواز شریف ملک سے چلا گیا۔ مشرف نے آٹھ سات سال لگا لیے۔ باجوہ نے شریف خاندان کو خاموش رہنے کا کہا تو مریم نواز کا سوشل میڈیا چھ مہینے کے لیے بند رہا۔ باہر جانے کی آفر آئی تو نواز شریف خصوصی جہاز میں دوسری دفعہ ملک سے فرار ہوگیا۔
عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بھی یہی کوشش یا توقع تھی کہ عمران خان ملک سے باہر چلا جائے یا خاموش ہوکر بنی گالہ بیٹھ جائے اور یہ سکون سے حکومت کریں۔ کیونکہ جب تک سیاستدان مزاحمت کررہا ہے ، کم یا زیادہ وہ جرنیل کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ عمران خان کی کمیونیکشن بند ہے ، پیغامات نہیں آرہے ، اسکے باجود کبھی کم کبھی زیادہ تحریک انصاف مزاحمت کررہی ہے۔ لانگ مارچ ہوئے ، جلسے اور ریلیاں ہوئیں ، نفرت آمیز تقاریر بھی ہوجاتی ہیں ، سوشل میڈیا ویسے ہی آنچ دھیمی نہیں کرتا۔
عاصم منیر کی بدقسمتی کہ کمزور اور بھی ہے اور بزدل بھی۔ خواہش کے باوجود سامنے آکر اقتدار پر قبضہ نہیں کرپارہا۔ کبھی آئینی ترمیم کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ، کبھی سسٹم کو ناکام ٹھہرا کر اپنے لیے گنجائش کی لابئنگ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی در بدقسمتی کہ بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر میں بھی اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو سب سے زیادہ خوف بھی تحریک انصاف سے ہے۔ بی ایل اے لاہور میں آکر حکومت نہیں کرنا چاہتی۔ کشمیری سینٹ میں مخصوص نشستیں نہیں مانگ رہی۔ عمران خان وہ پیرالل فورس ہے جس کے اقتدار پر عاصم منیر نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔
عاصم منیر کی شدید خواہش ہے کہ عمران خان باہر جائے یا بنی گالہ خاموش ہوکر بیٹھ جائے کہ تحریک انصاف کے مزاحمتی بیانیے کی کمر ٹوٹ جائے۔ بینظیر دو دفعہ جلاوطن ہوگئی ، نواز شریف دو دفعہ چلا گیا۔ جن چیزوں سے یہ دونوں خوفزدہ ہوکر گئے عمران خان اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ موازنہ ایک جیسوں کا بنتا ہے۔ باچا خان یا کسی صوبائی رہنما و علاقائی رہنما یا کسی پھتے ماجھے گامے کی جیل کا عمران خان کی جیل سے کوئی مقابلہ نہیں۔ فوجی جرنیل کو جو سپیس بینظیر اور نواز شریف نے بار بار دی وہ عمران خان مہیا نہیں کررہا۔ بس اتنا سا فرق ہے۔
5 اگست کے جلسے میں پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ کے صوبائی صدر ایم این اے جنید اکبر نے بہت بڑا الزام لگایا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کے نام پر اربوں روپے کمائے جا رہے ہیں، یہ ایک بہت بڑا انکشاف ہے اگر ان کی بات میں سچائی ہے تو جنید اکبر کو چاہئیے کہ ان وزراء یا ایم پی ایز کے نام فی الفور بتائیں جو عمران خان کی رہائی کے نام پر ووٹ لے کر یہ دھندا کر رہے ہیں انہیں فوری طور پر عہدوں سے فارغ کرنا چاہیئے کہ ایک طرف تو ان کا لیڈر پاکستان کی خاطر 3 سال سے جیل میں قید ہے اور بدترین جبر و تشدد برداشت کر رہا ہے لیڈر کی فیملی سخت مشکلات برداشت کر رہی ہے کارکنان جیلوں میں ہیں اور دوسری طرف یہ آستین کے سانپ کون ہیں جو اپنے لیڈر کے نظریے کو چھوڑ کر پیسوں کے لالچ میں آ گئے ہیں، اس معاملے کی لازمی تحقیقات وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کو کرنی چاہیئے، اگر جنید اکبر کے الزامات غلط ثابت ہوئے تو انہیں معافی مانگنی چاہیے۔
#KhanIllegallyJailed3Years
یہ اس ملک کے ایک صوبے کی ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کہہ رہا ہے
میں نے اپنے آپ پر بڑا جبر کیا، اپنے بچوں پر کیا، فیملی پر کیا لیکن آپ کے اس بھائی کو کوئی خرید نہ سکا، پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ابراہیم خان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے اس پر باقاعدہ رپورٹ کیا مگر بجائے اس پر سپریم کورٹ کوئی ایکشن لیتی ان ججز پر ایک ٹاؤٹ مسلط کر دیا اور ان کے تبادلے کر دئے گئے
ایسے ملکوں میں کون انویسٹمنٹ کریگا
یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ جو اپنی ہی نہتی عوام پر گولیاں برساتے رہیں، قوم انہی کے کاروبار کو پروموٹ کرتی رہے۔ کاروبار ان کا کام ہی نہیں ہے۔ قانونی طور پہ سرکاری نوکر کاروبار کر ہی نہیں سکتا۔
لہذا ہر محب وطن پاکستانی، عسکری مصنوعات کا نہ صرف مکمل بائیکاٹ کرے بلکہ ان کا بھی بائیکاٹ کرے جو ان مصنوعات کی خرید و فروخت اور استعمال کرتے ہیں۔
شفیع جیکسن شورے تیرا کیا مقابلہ شہباز گِل سے پہلے اپنی اوقات دیکھ پھر بھونک شہباز گِل کی رجیم چینج کے بعد عمران خان کا مقدمہ لڑنے میں بہت خدمات ہیں اور تُو کسی کرنل کی سفارش پر وزیر بن گیا ہے
@SHABAZGIL@ShafiJanPTI