افغانستان میں $10 ارب مالیت سے 10,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر معاہدہ
کابل (بی این اے) افغانستان میں توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت ہوئی ہے، جہاں اسلامی امارت کے اقتصادی نائب صدر ملا عبدالغنی برادر اخوند کی موجودگی میں وزیر آب و انرجی ملا عبداللطیف منصور اور عزیزی گروپ کے سربراہ میر ویس عزیزی کے درمیان $10 ارب ڈالر کی لاگت سے 10,000 میگاواٹ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے لیے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
سرکاری اطلاعاتی ایجنسی باختر کے مطابق، اس موقع پر کابل میں منعقدہ تقریب میں ملا منصور نے کہا کہ یہ معاہدہ افغانستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے اور اسلامی امارت کی اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت کی دوبارہ حکومت سنبھالنے کے بعد مختلف شعبوں، خاص طور پر توانائی میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔
وزیر آب و انرجی نے یقین دہانی کرائی کہ اسلامی امارت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت دے گی اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
میر ویس عزیزی نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان میں توانائی کے قدرتی ذرائع جیسے گیس، کوئلہ، پانی، ہوا اور سورج کی بھرپور دستیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں عمومی امن قائم ہونے کے بعد اب وقت آ چکا ہے کہ ہم سب مل کر افغانستان کو خود کفیل بنائیں اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔
عزیزی کے مطابق “عزیزی انرجی” کمپنی افغانستان کے مختلف حصوں میں 10,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گی، جس سے ملک اگلے 7 سے 10 سالوں میں توانائی کے شعبے میں خود کفیل بن جائے گا اور یہاں سے بیرون ملک برآمدات بھی ممکن ہوں گی۔
پیدا ہونے والی بجلی میں سے 4,000 میگاواٹ عام شہریوں کے لیے مختص کی جائے گی، جبکہ 6,000 میگاواٹ صنعتی فیکٹریوں کو فراہم کی جائے گی۔
اس سے ہزاروں نئی فیکٹریاں قائم ہوں گی، لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا، اور ملکی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
معاہدے کے مطابق 2 اگست کو وزارت آب و انرجی اور عزیزی انرجی کی تکنیکی ٹیمیں متعلقہ علاقوں کا دورہ کریں گی،
10 دن میں ابتدائی سروے مکمل کیا جائے گا،
6 ماہ میں منصوبے کا ڈیزائن تیار ہوگا،
اور اس کے بعد 2,000 سے 3,000 میگاواٹ بجلی کی پیداواری سرگرمیاں باقاعدہ طور پر شروع کی جائیں گی۔
تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام " اتحاد امت اور پاکستان کی سالمیت" کے عنوان سے ایک ملک گیر مہم کا آغاز کیا جا رھا ھے۔ یہ ملک گیر مہم یکم اگست سے 22 اکست 2025 تک جاری رھے گی۔ امیر تنظیم اسلامی جناب شجاع الدین شیخ صاحب نے آج قرآن اکیڈمی لاھور میں بھرپور میڈیا بریفنگ کے ذریعے اس مہم کا آغاز کیا۔ اھم قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں نے اس میڈیا بریفنگ میں شرکت کی اور مہم کی ضرورت و اھمیت اور دیگر تفصیلات سے آگاہی حاصل کی۔
پاکستانی مشروب کولا NEXT جو اسرائیلی کمپنیوں Pepsi اور Coke کے boycott کے بعد بہترین متبادل کے طور پر سامنے آئی، اس کے مالک زلفقار احمد کو کراچی سے مشہورِ زمانہ نا معلوم افراد بدنام زمانہ ڈبل کیبن (ویگو ڈالے) میں اغوا کر کے لے گئے۔
اسرائیل نوازی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ جو پاکستانی مصنوعات اسرائیلی مصنوعات کے مقابلے میں آئیں، ان کے مالکان کو اغوا کیا جا رہا ہے۔
پولیس جب ایف آئی آر درج نہیں کر رہی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے حکومتی ادارے اس میں ملوث ہیں۔
ذوالفقار احمد کی اہلیہ کی درخواست کے مطابق یہ عام اغوا نہیں بلکہ جبری گمشدگی ہے۔ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ انہیں لاپتہ کرنا۔
کیا next cola کے مالک کی جبری گمشدگی اسرائیلی کمپنیوں کے دباؤ میں تو نہیں ہوئی؟
کیا pepsi اور coke کے تحفظ کیلئے اپنے ملک کی مصنوعات کا قتل تو نہیں ہو رہا؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے شرم کا مقام کے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر سے دن دہاڑے معروف صنعتکار کو اٹھا لیا جاتا ہے اور اس کی ایف آئی آر تین دن تک درج نہیں کی جاتی۔
پاکستان کے عوام اور صنعتکار اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ معروف صنعتکار کو فوری بازیاب کیا جائے۔
@HamidMirPAK@ImranRiazKhan@ARYSabirShakir@FaizullahSwati@javerias
اگرشاہد آفریدی سیاست میں اپنی پارٹی کےساتھ انٹری دیں تو یقین جانیں عمران خان کےسیاسی کیرئیرکاجنازہ نکال کررکھ دینگے۔ اسی لئےیوتھئوں کوڈرہے کہ اگر لالا اگئےتو ہم مفلوج ہوکر رہ جائینگے۔
#Shahidafridi