مبشر زیدی جیسا شخص بھی یہ بات مان رہا ہے تو سوچو ان دو دنوں میں کیا کیا ہوا ہو گا۔۔!!
ایک تنہا شخص 78 سالہ نظام کے سامنے ایسے کھڑا ہوا کہ اصلی مخالف بھی اسکی تعریف کئیے بنا نہیں رہ سکے ۔
عمران خان کی پچھلے دو دن کی جنگ ہی بڑے بڑے سیاستدانوں کی ساری زندگی پر بھاری ہے
کوئی انسان اتنا بہادر کیسے ہو سکتا ہے، وقت کےساتھ جب پچھلے دو دنوں کی کہانی سامنے آۓ گی تو آپ عمران خان کی بہادری پر رشک کریں گے
جس کا نام میڈیا پر لینے پر بھی پابندی ہے، جس کی سیاست پر بھی سرخ لکیر لگا دی گئی تھی، اس کے ہسپتال پہنچنے کا اپڈیٹ جاننے کے لئے پورا پاکستان اور عالمی میڈیا بے چین ہے!
وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
اس موقع پر علیمہ خان کو مت بھولیں جنہوں نے اپنے بھائی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور ہار نہیں مانی۔
مزاحمت کا استعارہ علیمہ خان ہیں۔
اپنے بھائی کی طرح بہادر ہیں علیمہ خان۔
سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق اگر چلا گیا تو جب تک سپریم کورٹ نہیں کہتی عمران خان کو دوبارہ جیل منتقل نہیں کیا جاسکتا یہ بلکل دو توک اور واضح لکھا ہوا ہے
کچھ ذرائع کہہ رہے ہیں خان صاحب کی صحت ٹھیک نہ ہونے کے باوجود وہ شفاء ہسپتال منتقل نہیں ہونا چاہتے تھے مگر بہن اور ڈاکٹرز کے کہنے پر رضا مند ہوئے ان کا کہنا تھا جہاں عام قیدی کا علاج ہوتا ہے وہی میرا بھی ہونا چاہیے اسے کہتے ہیں لیڈر
ایسا حیرت انگیز منظر ہے،
اتنی محبت
اتنا انتظار
اتنی شہرت
اتنا جذبہ
اتنی شدت
اتنی تڑپ
صرف ایک انسان کے لئیے!
کچھ تو خاص ہے۔
کچھ تو ایسا کام ہے جو اللّٰہ نے اس شخص سے اس شخص سے لینا ہے۔
بیشک اللّٰہ جسے چاہے عزت دیتا ہے۔♥️
ماشاءاللہ ہمارے نوجوان، آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، میڈیا پر مجھے بند کر دیا کیس میرے اوپر کر دیئے تاکہ عمران خان کی آواز بند ہو جائے لیکن ماشاءاللہ میرے سوشل میڈیا کے جو ٹائیگر ہیں آج میں آپ سب کو سلام کرتا ہوں۔ عمران احمد خان نیازی
عمران خان صرف گفتار کا غازی نہیں ہے ساری زندگی جن اصولوں کا پرچار کیا آج وہ ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر بنے ہوئے ہیں اور جرنیل حیران ہیں کہ یہ کس مٹی کا بنا ہوا ہے اسے کوئی دنیاوی آسائش کا لالچ نہیں۔۔۔
تین سال سے اس کی تصویر تو کیا جھلک پر پابندی تھی۔
وہ پھر بھی گونج رہا ہے۔
ایک مرد ناداں کو سمجھاتے تھے۔
وہ دل اور دماغ سے نکل کر خون کی گردشوں میں مل جائے گا۔