The shameful and deliberate attempt at labeling PTI supporters in Khyber Pakhtunkhwa as militants by Asim Munir’s regime “leans into an old trope” said @AJEnglish in its report on the media blackout and violent crackdown after the overthrow of the democratically elected government of Imran Khan’s PTI in KP.
“Khyber Pakhtunkhwa is Pakistan’s Pashtun heartland, and Pashtuns have long been stereotyped as militants. It’s a label the state has used to justify its violent and neglectful approach to the region. With reporters kept out and internet shutdown, the official story is what Pakistanis are hearing, even if they don’t believe it.”
#Censorship #YahyaKhanPart2
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں
پاکستان کی عدالتوں کا انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
پاکستان میں ووٹوں کا انتخابات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
پاکستان کی پارلیمنٹ کا جمہوریت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
پاکستانی صحافت کا آزادی اظہار رائے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
حکمرانوں کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
اور
پاکستان کی عوام کا اب ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
PTI representatives and party workers have been subjected to kidnapping, enforced disappearances, custodial torture and have had terrorism cases placed on them, all of which is well documented, independently.
Moreover the courts have been subjugated and used a tool of political victimization making a mockery of the justice system internationally. While our party is enduring the brutality, the world is watching and it will have long term consequences for Pakistan.
“Having worked with anti-terrorism laws and played a role in removing Pakistan from the FATF grey list- I know these laws thoroughly. I know how they are being abused, and how our hard work for this nation is being destroyed.” - @Hammad_Azhar
In his court appearance former federal minister Hammad Azhar explained how this regime’s abuse of anti-terrorism laws and political victimization risks putting Pakistan back on the FATF grey list.
#PakistanUnderFascism
بند کمروں میں مہنگے معدنی سودے اور اربوں ڈالر کے معاہدے ہو رہے ہیں، لیکن اس کی اصل قیمت عام شہری چکاتا ہے۔ جب اشرافیہ اور طاقتور حلقے قیمتی وسائل کی تقسیم میں مصروف ہوں، تو اس کا خمیازہ معصوم خاندان اپنے گھروں کی تباہی کی صورت میں بھگتتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے سودے ہمیشہ عوام کے خون سے لکھے جاتے ہیں۔ دنیا کو زمینی حقائق کا قریب سے جائزہ لینا ہوگا کہ ترقی کے نام پر وسائل کا استحصال کیسے کیا جا رہا ہے۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔