Wants to see Pakistan as the true replica of the state of Madina, free from all sect&ehnic biases.Pol analyst whose passion is only Pakistan&Pakistan Army.
Deeply saddened to hear of the passing of His Royal Highness Prince Muhammad bin Fahad Al Saud. My thoughts and prayers are with His Majesty The King and the entire Royal Family during this difficult time. Their legacy of service and dedication will always be remembered. During this time of grief, we stand in solidarity with Al Saud family and the people of Saudi Arabia.
عمران ریاض خان کو ابتدائی اطلاعات کے مطابق اینٹی کرپشن پنجاب نے گرفتار کیا ھے - اس بار کا تمام مقصد اور پلان سے متعلق کا بھی بہت پہلے سے علم ھے- عمران ریاض خان بھی پہلے سے آگاہ تھا لیکن ڈٹا رھا
یہ ساتواں راؤنڈ ھے دو سال میں، اللہ رب العزت سب کے پردے رکھے- خیر ھوگی- انشاء اللہ
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان ، تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر عمر ایوب خان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن متحدہ وحدت مسلمین کے چیئرمئن علامہ راجہ ناصر عباس اور سنی اتحاد کونسل کے چئیرمین صاحبزادہ حامد رضا کے ہمراہ آج سوا تین بجے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی دفتر میں اہم پریس کانفرنس کرینگے۔
"الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال تھا، ایک بھی نتیجہ اعلان کرنے کا اختیار نہیں تھا، چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہو" مولانا فضل الرحمان
#FazalUrRehman#ECP#ElectionResults#ImranKhan
Link : https://t.co/RnZh2TrUZ4
میرے پاکستانیو!
لامعنی بحثوں میں اُلجھ کر اپنے مقصد سے نظر نہیں ہٹائیں نہ کسی کو آپ کی توجہ بٹانے دیں۔ کون وزیر اعلی بنے گا، کون سپیکر۔ کس کو اپوزیشن لیڈر بنانا چاہئے، کون کونسی وزارت کیسے چلائیگا۔ ان پر بحث اور میمز ہم تب بنا لیں گے جب عمران خان انہیں دیکھ کر اور آپ کی رائے کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ فی الحال قوم نے مینڈیٹ عمران خان کو دیا ہے اور اس بھروسے دیا ہے کہ وہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی جو بھی فیصلہ کریگا ہماری بہتری کے لیے کریگا۔ اِس وقت افواہوں کا بازار گرم ہے، کئی ساتھی نیک نیتی میں ہی سہی، مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یاد رکھیں عمران خان کی ٹیم آپ ہیں۔ آپ کا فوکس آپ کے مینڈیٹ پر رہنا ضروری ہے۔ آپ کی دو دن کی بے توجہی کا فائدہ اٹھا کر جو ورداتیں ڈالی گئی ہیں اُن کی سنگینی کا اندازہ آپ کو آنے والے دنوں میں ہوگا۔
ہم نے ان انتخابات میں دیکھ لیا ہے کہ کیسے پاکستانی قوم نے ذات، زبان، برادری، طبقات سے بالاتر ہو کر عمران خان کے نام پر ووٹ دیاہے۔ کوئ ایک نشان نہ ہونے کے باوجود شہروں سے لے کر دیہاتوں تک ہر بچے، بوڑھے، جوان نے سینکڑوں نشان ازبر کر کے ان کو کامیاب کرایا ہے۔ ہم کہتے تھے کہ عمران خان پاکستان کی بقا کاضامن ہے قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی پاکستانیت کا علمبردار ہے۔ آج اسی خوف سے وہ تمام قوتیں جنہوں نے پاکستان کو تقسیم کرکے اپنی سیاست چمکائ۔ جنہوں نے پاکستان کی عوام کو اُن کے حقوق سے محروم رکھ کر اپنی دولتیں بڑھائیں۔ جنہوں نے پاکستانی قوم کی زندگیوں کا سودا کرکے اپنی ناجائز طاقت کو دوام دیا وہ سب مل کر اگر ایک عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حد تک جا رہی ہیں تو کسی کو کوئ گمان نہیں رہ جانا چاہئیے کہ عمران خان پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ استقامات سے، تحمل سے اپنی نظر منزل پر رکھیں۔ اپنا مینڈیٹ واپس لینا۔ اپنے لیڈر کو آزاد کرانا اِس وقت ہماری بقا کے لیے لازم ہے۔ آر او دفاتر کے باہر اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں۔ دنیا کے توجہ اِس وقت پاکستان پر مرکوز ہے سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو آگاہ کریں کہ آپ کے مستقبل کے ساتھ کس قدر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ کے پی اور پنجاب کی عوام جیسے ڈٹ کر اپنی لیڈرشپ کے ساتھ کھڑی ہے، میں سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی مقبولیت خود دیکھ کر آیا ہوں۔ وہاں کے لوگوں کی اگرچہ مین سٹریم میڈیا تک اس قدر رسائ نہیں ہے تو ہماری لیڈرشپ اور شہری علاقوں کے عوام پر دُگنا ذمہ داری ہے کہ جو ڈاکہ اُن کے مینڈیٹ پر ڈالا گیا ہے وہ اُس کا حساب لیں۔ بیرون ملک پاکستانی ہزاروں کی تعداد میں اپنے خرچ پر پاکستان ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ آپ مہذب معاشروں کا نظام دیکھ چکے ہیں آپ جانتے ہیں اس وقت آپ کے ملک کے ساتھ جو کیا جارہا ہے دنیا کا کوئ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس بدترین دھاندلی اور ڈاکہ زنی کے خلاف متحرک ہوں یہ ملک آپ کی پہچان ہے آپ کی جڑیں گڑی ہیں یہاں۔
یاد رکھیں آج جس مقام پر ہم کھڑے ہیں یہاں تک دوبارہ پہنچنے میں ہمیں اگلی بار ۷۵ سال نہیں لگیں گے۔ ایک مرتبہ ہم نے غلامی تسلیم کرلی تو کوئ گمان نہ رکھیں اگلی بار یہ سفرہمیں ۱۹۴۷ سے دو سو سال پیچھے جاکر شروع کرنا پڑے گا۔
علیم خان گھٹیا شخص پیسے دے کر میرے خلاف ٹرینڈ کرواتا ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کم ظرف اور احسان فراموش شخص تھا ہے اور رہے گا اس کی فطرت نہیں بدلنے والی۔
انصافئینز کا شُکریہ جو میرے ساتھ کھڑے رہے۔#WeStandWithAliIjazButtar
عمران خان دنیا کا واحد لیڈر یے
جس کیلئے انٹرنیشنل میڈیا مسلسل گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز اٹھا رہا
کہ پاکستان میں نتائج تبدیلی کیے گئے عمران خان کو گرانے کیلئے
مگر انہیں کوئی شرم نہیں ارہی دنیا کہ دنیا میں مذاق اڑ رہا ہمارے الیکشن کا
امیر عباس
کچھ اضافہ کرنا چاہوں گا:
جو صحافی بھی خان کے نظریے کیخلاف جاتا ہے، اُسکی صحافت ختم ہو جاتی ہے، جو صحافی خان کے نظریے سے جڑتا ہے، اسکی صحافت چل پڑتی ہے
اسی طرح جو سیاسی جماعت خان کے ساتھ جڑتی ہے، اُس سیاسی جماعت میں جان پڑ جاتی ہے
جو گلوکار، اداکار خان کے نظریے سے جڑتا ہے، عوامی مقبولیت پا لیتا ہے
جو یو ٹیوب چینل اسکے نظریے سے جڑتا ہے، آمدنی کا ذریعہ بن جاتا ہے
دنیا کا کوئ اخبار دو لفظ خان کے بارے اچھے لکھ دے، وہ اخبار اُس دن مقبولیت کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے
خان صرف ایک لیڈر نہیں بلکہ اکسویں صدی کا سب سے بڑا Phenomenon ہے