With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the sagacious gesture and extend deepest gratitude to the leadership of both the countries and invite their delegations to Islamabad on Friday, 10th April 2026, to further negotiate for a conclusive agreement to settle all disputes.
Both parties have displayed remarkable wisdom and understanding and have remained constructively engaged in furthering the cause of peace and stability. We earnestly hope, that the ‘Islamabad Talks’ succeed in achieving sustainable peace and wish to share more good news in coming days!
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
رونگٹے کھڑے کردینے والے لمحات ہیں ایران نے پوری قوت سے امریکہ کولکارا ہے ٹرمپ کے ہر مطالبے کو روند دیا ہے اب صدر ٹرمپ اگر اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو آئندہ چھ گھنٹوں میں دس کروڑ آبادی والا ایران امریکا اور اسرائیل کے موزی شائید ایٹمی ہتھیاروں کی بمباری سے خدانخواستہ مسمار ہوجائے گا ورنہ ٹرمپ کا منہ پوری دنیا کے سامنے کالا ہوجائے گا ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس پر مزید امریکی یا اسرائیلی حملے ہوئے تو وہ خلیجی ریاستوں کے اہم انفرااسٹرکچر، خاص طور پر انرجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ اس صورتحال نے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، جہاں اب یہ تنازع صرف امریکہ، اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ ایران اور عرب دنیا کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔سعودی عرب پر حالیہ میزائل حملوں نے کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، جس پر پاکستان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ پاکستانی قیادت کی جانب سے “اسلام آباد Accord” کے ذریعے امن کی کوششیں جاری ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں سفارتکاری پر غالب آتی جا رہی ہیں۔ ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے، جہاں آنے والے چند گھنٹے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ https://t.co/jSv13e9dWM
دوسری جنگ عظیم میں امریکا نے جاپان کے دو شہروں کو ایٹم بم سے تباہ کیا لیکن پورا ملک تباہ نہیں ہوسکا اب ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر کون سا بم گرائیں گے جو ایک رات میں پورا ملک نہیں پوری تہذیب ختم کر دیگا؟ ٹرمپ کا بیان ایک جنگی جرم ہے جنگ کسی فوج کے خلاف ہوتی ہے تہذیب کے خلاف تو نہیں ہوتی