میڈیا ہائپ بمقابلہ حقیقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دنوں قومی میڈیا پر یہ خبر گرم ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کے اختیارات، استحقاق اور مراعات سے متعلق نئے قانون کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد ارکانِ اسمبلی کے سفری، پروٹوکول اور انتظامی سہولیات کا پنڈورا بکس کھل گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والی شق یہ ہے کہ ارکانِ اسمبلی اور ان کے شریکِ حیات کو تاحیات آفیشل (بلیو) پاسپورٹ جاری کیا جائے گا، جبکہ شریکِ حیات کو خصوصی اسمبلی شناختی کارڈ بھی ملیں گے۔
اس خبر کے سامنے آتے ہی قومی میڈیا اور "سرکاری صحافیوں" نے ایک طوفان کھڑا کیا ہوا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز سے لے کر سوشل میڈیا کے ٹرینڈز تک، سرکاری پروپیگنڈا ٹولز اور درباری اینکرز اس پر خوب واویلہ مچائے ہوئے ہیں۔ اسے غریب عوام کے ساتھ ایک بہت بڑا ظلم اور مذاق قرار دے کر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تحریکِ انصاف (PTI) کے سیاسی کردار اور طرز عمل سے ہزاروں اختلافات اور ان کی گورننس یا اہلیت کا سخت ناقد ہونے کے باوجود، مجھے ایک طالبِ علم کے طور پر یہ پورا بیانیہ عقل سے بالاتر اور مضحکہ خیز لگتا ہے۔
آئیے اس معاملے کی اصل آئینی حقیقت کو چند واضح نکات میں سمجھتے ہیں:
1۔ وفاقی قانون سازی فہرست (Federal Legislative List)
پاکستان کے آئین کے تحت اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے۔ پاسپورٹ، ویزا، شہریت، اور امیگریشن جیسے تمام معاملات خالصتاً وفاقی قانون سازی فہرست (Federal Legislative List) کا حصہ ہیں۔ ان موضوعات پر قانون بنانے، ترمیم کرنے یا کسی بھی قسم کی رعایت دینے کا اختیار صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے پاس ہے۔
2۔ پاسپورٹ ایکٹ 1974 کا دائرہ اختیار
پاکستان میں پاسپورٹس کا اجرا اور ان کی تمام اقسام (آرڈنری، آفیشل، ڈپلومیٹک) کسی صوبائی صوابدید پر نہیں، بلکہ ایک وفاقی قانون "پاسپورٹ ایکٹ 1974" کے تحت مینیج ہوتی ہیں۔ خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کی کسی بھی صوبائی اسمبلی کے پاس سرے سے یہ قانونی اختیار ہی موجود نہیں کہ وہ وفاق کے دائرہ اختیار میں مداخلت کر کے پاسپورٹ جاری کرنے کا کوئی صوبائی قانون پاس کر سکے۔
3۔ قرارداد اور قانون کا زمین آسمان کا فرق
یہاں میڈیا کی سب سے بڑی جہالت یا بدنیتی سامنے آتی ہے۔ ماضی میں بھی مختلف صوبائی اسمبلیاں ایسی قراردادیں (Resolutions) منظور کرتی رہی ہیں جن کے ذریعے وفاقی حکومت سے یہ سفارش کی جاتی ہے کہ ارکان کو مخصوص سفری سہولیات دی جائیں۔ اگر حالیہ عرصے میں کے پی اسمبلی نے بھی ایسی کوئی قرارداد یا بل منظور کی ہے تو وہ محض ایک "سفارش" ہے، اسے نافذ العمل 'قانون' کہنا سراسر گمراہ کن ہے۔
قانون اور قرارداد میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے؛ صوبائی اسمبلی کی قرارداد یا بل وفاق کے لیے بائنڈنگ (لازمی) نہیں ہوتا۔
صوبائی اسمبلی گیس، بجلی، یا پاسپورٹ جیسے وفاقی محکموں پر کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو وفاقی قوانین سے متصادم ہو یا اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہو۔ اگر ایسا کوئی ایکٹ بنایا بھی جائے تو آئین کے تحت وہ خود بخود 'کالعدم' تصور ہوتا ہے۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے قومی میڈیا پر بیٹھنے والے تمام بڑے بڑے دانشور اور تجزیہ کار اس بنیادی آئینی حقیقت سے بالکل جاہل ہیں؟ یا پھر نظریہ ضرورت کے تحت ایک بے بنیاد خبر کو زبردستی چلوایا جا رہا ہے؟
آئینِ پاکستان کی رو سے اس خبر کے سچ ہونے کا ایک فیصد بھی چانس نہیں ہے کہ کے پی اسمبلی نے اپنے بل بوتے پر بلیو پاسپورٹ کا 'قانون' نافذ کر دیا ہو۔ یہ صرف اور صرف عوام کو اصل سیاسی و معاشی مسائل سے دور رکھنے اور سستی سنسنی خیزی پھیلانے کا ایک حربہ دیکھائی دیتا ہے۔
#مہتاب_عزیز #bluepassport #بلیوپاسپورٹ #تحریکانصاف #PTIofficial #KPK
سعادت حسن منٹو لکھتا ھے کہ میں شدید گرمی کے مہینے میں ھیرا منڈی چلا گیا.
جس گھر میں گیا تھا وھاں کی نائیکہ 2 عدد ونڈو ائیر کنڈیشنڈ چلا کر اپنے اوپر رضائی اوڑھ کر سردی سے کپکپا رھی تھی.
میں نے کہا کہ میڈم دو A/C چل رھے ھیں آپ کو سردی بھی لگ رھی ھے آپ ایک بند کر دیں تا کہ آپ کا بل بھی کم آئے گا تو وہ مسکرا کر بولی کہ، "اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".
منٹو کہتے کہ کافی سال گزر گئے اور مجھے گوجرانوالہ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس کسی کام کے لیے جانا پڑ گیا. شدید گرمی کا موسم تھا،
صاحب جی شدید گرمی میں بھی پینٹ کوٹ پہنے بیٹھے ھوئے تھے اور 2 ونڈو ائیر کنڈیشنر فل آب و تاب کے ساتھ چل رھے تھے اور صاحب کو سردی بھی محسوس ھو رھی تھی.
میں نے کہا کہ جناب ایک A/C بند کر دیں تا کہ بل کم آئے گا تو صاحب بہادر بولے،
"اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".
منٹو کہتا کہ میرا ذھن فوراً اسی محلہ کی نائیکہ کی طرف چلا گیا کہ دونوں کے مکالمے اور سوچ ایک ھی جیسی تھی، تب میں پورا معاملہ سمجھ گیا۔یعنی اس ملک کے تمام ادارے ایسی ہی نائیکہ سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔۔۔۔۔!!
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک… ایک ایسا سفر جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا فاصلہ تقریباً 450 کلومیٹر ہے۔ آج اگر کوئی شخص جدید گاڑی میں تقریباً 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے تو یہ مسافت چار سے پانچ گھنٹوں میں طے ہو جاتی ہے۔ سڑکیں ہموار ہیں، گاڑیاں آرام دہ ہیں، ہر چند فاصلے پر سہولیات موجود ہیں اور سفر نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے۔
لیکن ذرا چودہ سو سال پہلے کے اس عظیم سفر کا تصور کیجیے…
وہ تپتا ہوا عرب کا صحرا، جلتی ہوئی ریت، دور دور تک نہ سایہ، نہ پانی کی فراوانی، نہ آرام کی کوئی جگہ۔ ایسے سخت حالات میں اللہ کے محبوب حضرت محمد ﷺ نے اپنے سب سے وفادار ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کا سفر اختیار فرمایا۔
یہ کوئی عام سفر نہیں تھا، یہ تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم سفر تھا جس نے دنیا کی تقدیر بدل دی۔ دشمن ہر طرف تلاش میں تھے، سر پر انعام رکھا جا چکا تھا، مگر پھر بھی رسولِ اکرم ﷺ ثابت قدم رہے۔ کبھی غارِ ثور میں پناہ لی، کبھی رات کی تاریکی میں سفر کیا، کبھی اونٹ پر سوار ہوئے اور کبھی پیدل چلتے رہے۔
سوچیے! وہ ہستی جس کے ایک اشارے پر پہاڑ جھک سکتے تھے، جس کے قدموں کی خاک آنکھوں کا سرمہ ہے، وہی نبی ﷺ اپنے ہاتھوں سے سفر کا سامان اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ مشقت کیوں؟ یہ تکلیف کیوں؟ یہ ہجرت کیوں؟
اس لیے کہ اللہ کا دین دنیا میں غالب ہو…
اس لیے کہ انسان شرک کے اندھیروں سے نکل کر توحید کی روشنی تک پہنچ سکے…
اس لیے کہ قیامت تک آنے والے ہم جیسے گناہگار امتی اسلام کی نعمت سے بہرہ مند ہو سکیں۔
آج ہم آرام دہ گھروں میں بیٹھ کر اسلام کا نام لیتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، اذان سنتے ہیں، مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں، تو یاد رکھیے یہ سب ہمیں آسانی سے نہیں ملا۔ اس کے پیچھے رسول اللہ ﷺ کی بے شمار قربانیاں، تکلیفیں، صبر اور جدوجہد شامل ہے۔
ہم اپنے نبی ﷺ کے اس احسان کا بدلہ تو کبھی نہیں چکا سکتے، لیکن اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ ان پر کثرت سے درود بھیجیں، ان کی سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ان کے لائے ہوئے دین کو مضبوطی سے تھام لیں۔
آئیے دل کی گہرائی سے درود پڑھیں:
صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا ❤️
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بار بار اپنے گھر کی حاضری، حج و عمرہ کی سعادت اور مدینہ منورہ میں حاضری نصیب فرمائے، اور رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔
اب بھی پارٹیوں کو سپورٹ کرنے والے سمجھ لیں اور اگر مہنگائی کا رونا دیکھنا ہے تو
تو انڈیا کا بھی ریکارڈ ریکھ لیں
پاکستانی تاریخ کی زبانی: ۔1947 تا 2026
استحکام کا دور
In 1947 1 USD was 3.31 PKR
In 1948 1 USD was 3.31 PKR
In 1949 1 USD was 3.31 PKR
In 1950 1 USD was 3.31 PKR
In 1951 1 USD was 3.31 PKR
In 1952 1 USD was 3.31 PKR
In 1953 1 USD was 3.31 PKR
In 1954 1 USD was 3.31 PKR
In 1955 1 USD was 3.91 PKR
In 1956 1 USD was 4.76 PKR
In 1960 1 USD was 4.76 PKR
In 1965 1 USD was 4.76 PKR
In 1970 1 USD was 4.76 PKR
In 1971 1 USD was 4.76 PKR
پھر روٹی کپڑا اور مکان شروع ہوا: ذولفقار علی بھٹو
In 1972 1 USD was 11.01 PKR
In 1975 1 USD was 09.99 PKR
In 1980 1 USD = 09.99 PKR
In 1981 1 USD = 09.99 PKR
پھر کلاشنکوف اور ھیروئن کے خلاف جہاد شروع ہوا۔ جنرل ضیاء الحق:
In 1982 1 USD = 11.85 PKR
In 1985 1 USD = 15.93 PKR
In 1988 1 USD = 18.00 PKR
پھر سیاسی شعور بڑھا: (بینظیر ، نواز شریف
In 1989 1 USD = 20.54 PKR
In 1991 1 USD = 23.80 PKR
In 1992 1 USD = 25.08 PKR
پھرموٹر ویز بنانے والے آ گئے۔ (نواز شریف):
In 1993 1 USD = 28.11 PKR
In 1995 1 USD = 31.64 PKR
In 1997 1 USD = 41.11 PKR
پھر پاکستان فرسٹ ، (جنرل مشرف دور):
In 1999 1 USD = 51.90 PKR
In 2001 1 USD = 63.50 PKR
In 2003 1 USD = 57.75 PKR
In 2005 1 USD = 59.79 PKR
In 2007 1 USD = 60.83 PKR
پھر پاکستان کھپنے لگا۔ آصف علی زرداری دور):
In 2008 1 USD = 81.18 PKR
In 2010 1 USD = 85.75 PKR
In 2012 1 USD = 96.50 PKR
پھر پاکستان کو ترقی دینے والے (نواز شریف)
In 2013 1 USD = 107.29 PKR
In 2015 1 USD = 105.20 PKR
In 2017 1 USD = 110.01 PKR
پھر “نیا پاکستان” بنانے والے آگئے(عمران خان:
In 2018 1 USD = 139.21 PKR
In 2019 1 USD = 163.75 PKR
In 2021 1 USD = 179.16 PKR
اور پھر پُراناپاکستان بنا اور 13 پارٹیوں کا اتحاد شروع ہوا:
In 2022 1 USD = 240.00 PKR
In 2023 1 USD = 286.00 PKR
In 2024 1 USD = 277.00 PKR
اور اب معاشی استحکام کی کوششیں جاری ہیں:
In 2025 1 USD = 282.00 PKR
In 2026 1 USD = 295.00 PKR
پاکستانی کرنسی کی گراوٹ کے حقائق
پاکستان کی معاشی گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ "درآمدات پر انحصار" اور "برآمدات کی کمی" ہے۔
جب ہم اپنی ضرورت کی ہر چیز باہر سے منگواتے ہیں تو ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے اور روپے کی قدر گر جاتی ہے۔
سیاسی عدم استحکام نے اس آگ پر تیل کا کام کیا، کیونکہ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ بھاری غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے جب ہم مزید ڈالر مانگتے ہیں تو IMF اور عالمی اداروں کی شرائط روپے کو مزید بے قدر کر دیتی ہیں۔
جب تک ہم اپنی پیداوار نہیں بڑھائیں گے اور سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہوں گے، ڈالر کا یہ جن بے قابو ہی رہے گا۔
منتخب
امریکی صدر ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد دنیا بھر میں رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ کارٹون میم بھی سیاسی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
مگر یہ جس تیزی سے مقبول ہو رہی ہے وہ اہم ہے۔
اس وڈیو میں کئی اہم سیاسی بیانات پوشیدہ ہیں۔
#shaoorfeed#trumpmeme#trumpttack#politicalpropaganda #shaoornews
درویش کے دربار میں ۔1
جب محترم عرفان الحق صاحب سے سوال کیا گیا کہ اللہ کو نیکی پسند ہے یا پرہیز گاری ۔۔۔تو اس کا جواب دیتے ہوئے محترم نے فرمایا کہ نیکی کرنے سے انسان کو معاشرے میں عزت ، شہرت اور پذیرائی ملتی ہے، اس لیے ہم نیکیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ جبکہ پرہیزگاری چیزوں کو چھوڑنے کا نام ہے۔اللہ کے احکامات دو ہی قسم کے ہیں :کچھ کرنے کے ہیں اور کچھ نہیں کرنے کے ہیں ۔کرنے کے احکامات نیکی کہلاتے ہیں اور نہ کرنے کے احکامات پرہیزگاری کہلاتے ہیں ۔پرہیزگاری میں معاشرے کو پتا نہیں لگتا کہ آپ حرام سے بچ رہے ہیں، آپ جھوٹ سے بچ رہے ہیں، آپ غیبت سے بچ رہے ہیں، آپ زنا سے بچ رہے ہیں ، آپ بد نظری سے بچ رہے ہیں ۔ یہ کسی کو نظر نہیں آ رہا مگر اللہ کو نظر آ رہا ہے۔ یہ سب آپ اللہ کی خاطر کرتے ہیں ، اس لیے پرہیزگاری اللہ کا پسندیدہ ترین عمل ہے اور پرہیزگاروں کو اللہ اپنے قریب رکھتا ہے ۔
نظر سے کیا مراد ہے ، اس کا جواب دیتے ہوئے محترم نے فرمایا کہ نظر کیمیا ہوتی ہے جیسا کہ اقبال نے فرمایا
تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
جب آپ کسی ایسے بندے کے ساتھ بیٹھتے ہیں جو اللہ سے جُڑا ہوا ہے تو وہ آپ کےلیے توجہ کرتا ہے ۔۔۔توجہ سے مراد یہ ہے کہ آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے لیے دعا کرتا ہے اور عین ممکن ہے کہ آپ کی وہ منزلیں طے ہو جائیں جو عبادت سے طے نہیں ہوتیں ۔ہمارے سامنے ایک تاریخی واقعہ مولانا روم کا ہے کہ جب وہ شمس تبریز سے ملے تو ان کی سوچ اور اپروچ بدل گئی ، ریاضت کے انداز بدل گئے ۔ریاضت کسی چیز کی بار بار پریکٹس کرنے کو کہتے ہیں ۔صوفیا کے ہاں بھی ریاضت کروائی جاتی ہے کہ اللہ کی یاد اتنی زیادہ ہو کہ انسان میں سے باقی چیزوں کی یاد نکل جائے ۔اللہ ہی تمھارا اوڑھنا بچھونابن جائے ، وہی تمھاری پریکٹس بن جائے ۔
کتاب اخوت کا دسواں موضوع سادگی اور بچت ہے ۔صاحب گفتگو کا کہنا ہے کہ سادگی بھی رسول اللہ کی سنت ہے جس کو فی زمانہ ہم نے چھوڑ دیا ہے ۔ ہم سب عاشق رسول کہلانا پسند کرتے ہیں ، نعرے مارتے ہیں ۔۔۔مگر اپنی زندگی میں طریقہ رسول کو لاگو کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں !
جب فارس فتح ہوا تو بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا جس کو مسجد نبوی کے ساتھ والے میدان میں لا کر رکھا گیا تو خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں کہ اس مال کے ساتھ جُڑے ہوئے فتنے مجھے نظر آ رہے ہیں ۔ آج دیکھیں کہ ہم سب مال کے چکر میں ہیں ، فتنوں نے ہمیں گھیر لیا ہے ۔اگر ہم مال کے چکر سے نکل جائیں تو ہمیں اپنے گھروں میں پھر سے سکون مل جائے گا ، پیار ملے گا ، توقیر ملے گی ۔صوفیوں کی تعلیم بھی یہی رہی کہ مال سے محبت چھوڑو ، انسان سے محبت کرو ، رشتہ داروں سے پیار کرو ۔
سکون اور آرام میں فرق ہے ۔آرام جسم کی ضرورت ہے جس کے لیے سامان درکار ہے اور سکون روح کی ضرورت ہے جس کے لیے قربانی چاہیئے ۔تو آج کے انسان نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آرام کا متلاشی ہے یا سکون کا ؟
جہاں تک سادگی کی بات ہے تو گفتگو میں بھی سادگی اختیار کریں، لچھے دار گفتگو سے پرہیز کریں ۔ ہم بڑے بڑے اور خوبصورت گھر بنا کر سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہم بڑے ہو جائیں گے ۔۔۔مگرجو کائنات کے سب سے بڑے ہیں ، ان کے گھر سب سے سادہ ہیں ۔ آپ لوگوں کو پتا ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ کے گھر میں کتنا سامان تھا ؟
رسول اللہ کی سیرت چسکے کے لیے نہیں ہے ، فالوئنگ کے لیے ہے ۔ یہی اصل اسلام ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر لمحہ اسلام ہے ۔ اللہ کے حبیب کے ہر لمحے کو اپنے اندر پرو لینا اسلام ہے ۔
آج ہماری خواتین لباس کے معاملے میں بے پناہ اسراف کرتی ہیں ۔ کوئی فنکشن ہو تو کہتی ہیں کہ کپڑے ہی نہیں ہیں ، جبکہ الماریاں کپڑوں اور جوتوں سے بھری ہوتی ہیں ۔ شوہر کو چاہے رشوت لینی پڑے ، دو نمبر مال بیچنا پڑے ، چیزوں میں ملاوٹ کرنی پڑے ، ایکسپائر دوائیاں بیچنی پڑیں، بیوی کو تو ہر فنکشن کے لیے الگ الگ جوڑے چاہئیں !
رسول اللہ کا فرمان ہے کہ تمھاری عورتیں تمھیں گھسیٹتی ہوئی دوزخ میں لے جائیں گی ۔تو یہ دوزخ کا ہی بندوبست ہے ۔لوگوں کے گھروں میں جاؤ تو پتا چلتا ہے کہ بیڈز کے نیچے تیس تیس جوڑے جوتے پڑے ہوتے ہیں ۔یہ سرمایہ ہی ضائع ہو رہا ہے ۔ کیا ہر جگہ ایسا ہی نہیں ؟
ہم تقریبات میں یا دعوتوں میں بے تحاشا کھانا ضائع کرتے ہیں ، کیا یہ سب طریقہ رسول ہے ؟رسول اللہ پر کوئی دن ایسا طلوع نہیں ہوا جب انھوں نے ایک دن میں دو طرح کا کھانا کھایا ہو ۔سائنس بھی آج بتا رہی ہے کہ طرح طرح کے کھانے سے معدے کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے ، کیوں کہ ہر چیز کے ہضم ہونے کی ٹائمنگ مختلف ہے ۔ ایسے لوگ زیادہ صحت کے مسائل کا شکار رہتے ہیں جو زیادہ آئٹمز کھاتے ہیں ۔
جہاں تک بچت کا تعلق ہے تو دانش وروں کا کہنا ہے کہ جو امیر ہوا ، بچا کر ہوا ۔آج ہم بحیثیت قوم اتنے مقروض ہیں۔ جاری
اخلاقیات۔
🌹ان چند باتوں پر عمل کر کے آپ بہت خوب صورت شخصیت بن سکتے ہیں 🌹
گرمیوں میں کپڑوں کے نیچے ویسٹ یا بنیان پہنیں , اور خدارا deodorant کا استعمال کریں. دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنا مذہب اور اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے.
● اگر آپ کے منہ سے بدبو آتی ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تو اچھا سا ماوتھ واش اپنے پاس رکھیں اور جب لوگوں کے قریب بیٹھ کر گفتگو کرنا پڑے تو انہیں امتحان میں مت ڈالیں.
● کان اور ناک کے بال صاف کریں اور ناک کے بال اکھاڑنے کیلئے عوامی مقامات مناسب جگہہ نہیں برائے مہربانی یہ فریضہ گھر پر انجام دیں. دوسرے لوگوں کو اس فعل سے گھن آتی ہے جس کا آپ کو احساس نہیں ہوتا.
● اسی طرح عوامی مقامات پہ ناک اور کان میں انگلی گھما کر صفائی کا اہتمام کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے, مزید ایسی حرکات کرنے کے بعد آپ دوسرے لوگوں سے انتہائی جوش خروش سے مصافحہ کا شوق بھی رکھتے ہیں تو آپ دوستوں کو انتہائی آکورڈ صورتحال میں مبتلا کررہے ہوتے ہیں.
●کرنسی نوٹ گنتے ہویے اپنے لعاب دہن کا بے دریغ استعمال فرمانا بند کریں اور اپنا saliva مع اپنے خوردونوش کے اجزاء اپنے معدے تک پہنچائیں لوگوں کے ہاتھوں پر نہیں. اگر ضرورت ہوتو پانی کا استعمال کریں.
●گاڑی چلاتے وقت بائیں جانب سے بغیر انڈئکیٹر اور دوسری ٹریفک کو مطلع کیئے اوورٹیک سے اجتناب کریں.
● گاڑی پارک کرتے وقت اتنا خیال رکھیں کے دوسرے لوگ اس سے اذیت میں مبتلا نہ ہوں اور بلاوجہ اس طرح پارک نہ کریں کے دو گاڑیوں کی جگہہ گھیر کر کھڑے ہوجائیں.
●اپنے والد, بھائی یا کسی عزیز کے عہدے کی وجہ سے بلا ضرورت privileges لینے سے باز رہیں اور پبلک سروس کے محکموں میں دوسروں کو کیڑے مکوڑے اور حقیر ہونے کا احساس نہ دلائیں.
●زیادہ نمازیں روزے وغیرہ کا تعلق آپ کے اور آپ کے معبود کے درمیان ہے اپنے زعم تقوی میں دوسروں کے ساتھ حقارت سے پیش نہ آئیں اور نہ ہی ان سے ان کی عبادات کے متعلق بے جا سوالات کریں کہ لوگوں کے اعمال کا حساب رکھنے کا فریضہ آپ کو تفویض نہیں ہوا.
●لوگوں کی ذاتی و نجی زندگی سے متعلق سوالات کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی ان کی آمدنی جاننے کا اختیار. ایسے سوالات لوگوں کو un comfortable کرسکتے ہیں. مثلا ابھی تک آپ کے بچے کیوں نہیں ? آپ کے بچے فلاں سکول میں کیوں نہیں پڑھتے, آپکی تنخواہ کتنی ہے وغیرہ .
● جگہہ جگہہ تھوکنے, کھانے پینے کی چیزوں کے خالی ریپرز, چھلکے, سڑک پر پھینکنے اور عوامی مقامات پر پھینکنے سے اجتناب کریں. گاڑی میں ایک بڑا شاپنگ بیگ رکھ لیں اور چیزیں اس میں اکھٹی کرتے رہیں اور مناسب جگہہ پر ڈمپ کریں.
● پبلک ٹوائلٹس کو اس طرح سے استعمال کریں اور اس حالت میں چھوڑیں جیسے آپ اپنے لئیے پسند کرتے ہیں. اپنے کئیے کرائے پر خود پانی ڈالیں.
●پبلک ٹوائلٹس کسی بھی قوم کی اجتماعی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں. وہاں پر صفائی کا مناسب انتظام رکھیں, اس میں اپنی خطاطی, ادبی ذوق , سیاسی و مذہبی منافرت , سابقہ گرل فرینڈ کا نمبر بطور پراسٹیٹیوٹ, اعضائے رئیسہ و ضعیفہ کی تصویر کشی, یا 18+ پینٹنگز کے نمونے مت چھوڑیں. اپنے فنون کا اظہار مناسب فورم پر کریں.
●بلاجواز یا عادتا خارش کرنے سے پرہیز کریں بالخصوص عوامی مقامات پر.
●اپنے ناخن مناسب وقت پر کاٹیں اور ان میں پھنسی ہوئی میل کچیل نکالتے رہیں یہ نہ صرف حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق آپکے اپنے لئیے بہتر ہے بلکہ دوسرے لوگوں پر اچھا تاثر چھوڑتا ہے. ورنہ میل کچیل سے گھن آتی ہے.
ابھی اور بہت سی باتیں شاید رہ گئی ہیں. پبلک ڈیلنگ اور لوگوں کے میل ملاپ,,رابطوں کے دوران جو باتیں آبزرو کیں وہ بیان کردیں. کوشش کریں اس پر عمل درآمد کریں اور ہوسکے تو ان بنیادی ethics and etiquette کو پبلک کریں. عوامی شعور کی بہتری مقصود ہے. ویسے منبر و مسجد والوں کا بھی فرض ہے کہ یہ آداب لوگوں کو سکھائیں.
علامہ اقبال کو جو لوگ صرف مفکر پاکستان کے عنوان سے جانتے ہیں وہ علامہ محمد اقبال کی شخصیت و کام کو محدود کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال کا فکری کلام شرق و غرب میں اپنے گہرے اثرات رکھتا ہے۔
آپ کا اردو ہی نہیں فارسی کلام اتنی گہرائی و وسعت رکھتا ہے کہ پاکستان سے باہر بھی آپ کے کلام کی صورت آج بھی تصور امت، غلبہ اسلام ، عشق رسالت ﷺ ، ناموس رسالت ﷺ ، مغربی فلسفوں کے رد کے ٹھوس دلائل زندہ ہیں۔ پوری امت کی فکری ترجمانی اور لائحہ عمل تک کا سفر ہے جو آپ کے کلام میں موجود ہے۔
اگر امت نے سنجیدگی سے علامہ اقبال کے اشعار سے اپنی نئی نسل کو جوڑ دیا تو کم از کم فہم دین کی کئی گرہیں کھل سکیں گی خصوصاً دور جدید کے پیدا کردہ شبہات ختم ہوسکیں گے۔
#shaoorfeed #allamaiqbal #ShairEMashriq #persianpoetry #shaoornews
اتوار گزر گیا،
آپ کا بھی اور دنیا بھر میں بھی ۔ پاکستان میں قاتل پی ایس ایل کا شور تھا جبکہ آسٹریلیا میں کیا ہورہا تھا؟
سمندر کے پانیوں میں کیا چل رہا تھا؟
یہ ضرور جان لیں
پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی
ایسے اتوار گزرتے چلے جائیں گے
#shaoorfeed#SundayProtest#PSL2026 #Australiaprotest #freepalesti̇ne #shaoornews
سرمایہ دارانہ سودی قرضوں کی دلدل میں دھنستے پاکستان کی چیخ بھی اب سنائی نہیں دیتی۔ 2024 الیکشن کے بعد بڑے عوامی دعوؤں سے بننے والی حکومت نے اپنے پہلے 2سالوں میں پندرہ ہزار بہترارب روپےکے تاریخی قرض کا اضافہ کیا ہے۔
موجودہ حکومت کےقرضوں میں یہ اضافہ مارچ 2024 سےلیکرفروری 2026 کےدوران ہواہے۔مجموعی رقم کو تقسیم کریں تو یہ اوسط تقریبا 21 ارب روپےکا قرضہ روزانہ کا بنتاہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات میں اس سارے قرضوں کی تفصیلات سامنےآگئی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کی بنیادپرمارچ 2024سےلیکرفروری2026 کے2سال کےدوران وفاقی حکومت کےمقامی قرضوں میں14ہزار4ارب روپےاوروفاقی حکومت کےبیرونی قرضوں میں ایک ہزار68ارب روپےکااضافہ ہواجس کے بعد وفاقی حکومت کاقرضہ فروری2026تک بڑھ کر79ہزار 882ارب روپےہواجبکہ نگران حکومت کے آخری مہینےفروری2024 تک وفاقی حکومت کےقرضوں کا حجم 64ہزار810ارب روپے تھا۔
سرمایہ دارانہ نظم سے نکلنے کے بجائے حکومت 25 کروڑ عوام کو جس دلدل میں دھکیل رہی ہے وہاں سے کوئی چیخ بھی باہر نہیں آپاتی۔ عوام پر مہنگائی کا الگ بوجھ ہے، یہ نقد میں لی جانے والی بھاری ٹیکسوں کی رقم کا ہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کہاں جا رہی ہے اوپر سے یہ قرضے بھی مسلط ہو رہے ہیں۔
ظالمانہ نظام کی جکڑ بندی یوں گہری ہوتی چلی جاتی ہے جب سب کو فکر معاش فکر آخرت سے کاٹ دیتی ہے۔
#shaoorfeed #EconomicCrisis #debtpakistan #TaxBurden #InflationPakistan #shaoornews
" کیا تم نے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کا آباد کرنا اس کے برابر کر دیا جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں لڑا، اللہ کہ ہاں یہ برابر نہیں ہیں، اور اللہ ظالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھاتا "
سورہ توبہ آیت 19
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
جمعہ کے دن عصر کے بعد 80 مرتبہ درود شریف
(https://t.co/7aJQzya7jW)
حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھے تو اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے اور 80 سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا۔
(القول البدیع : ۱۸۸)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِه وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً
حضرت سہل بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد یہ درود شریف 80 مرتبہ پڑھے گا اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آله وَسَلِّمْ
(القول البدیع : ۱۸۹)
فائدہ: اس دوسری حدیث میں اسی جگہ بیٹھ کر جس جگہ نماز پڑھی ہے قید نہیں ہے، اس حدیث کے اطلاق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کسی وجہ سے متصلاً اُسی وقت اُسی جگہ نہ پڑھ سکے تو مغرب سے قبل جب بھی جہاں بھی موقعہ ملے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھ لے گا تو اس فضیلت کا حامل اور حاصل کرنے والا ہو جائے گا۔
------------------------------------
جمعہ کے دن عصر کے بعد اسی(۸۰) مرتبہ پڑھا جانے والا درود شریف (ثبوت و تحقیق)
سوال:
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد 80 مرتبہ جو درودشریف پڑھا جاتا ہے کیا یہ پڑھنا صحیح ہے؟ اس درودشریف کو عام دن میں چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہے؟ اور کوئی درودشریف بتادیں جو چلتے پھرتے پڑھ سکوں۔
جواب:
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یہ درود شریف
’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ‘‘
اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھنا ثابت ہے، اس عمل کی فضیلت اور اس کے ثبوت کے دلائل آگے ذکر کیے جارہے ہیں، اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں، سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے، اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف مثلاً ’’ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد‘‘اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف کی فضیلت اور ثبوت:
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربارِ خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جن کا احادیثِ مبارکہ میں ذکر ملتا ہے، اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ درج ذیل درود شریف اکابر علماءِ کرام اور مشائِخ عظام کے معمول میں سے ہے، جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘ میں نقل کیا ہے اور اکثر اسی کتاب کے حوالے سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔حدیث مبارک ہے:
’’من صلّٰی صلاةَ العصر من یوم الجمعة فقال قبل أن یقوم من مکانه : أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عامًا، وکتبت له عبادة ثمانین سنةً.‘‘ (القول البدیع، ص:۳۹۹، ط:دارالیسر)
’’جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی(۸۰)مرتبہ پڑھے:
’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً‘‘.
اس کے اَسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں اور اَسی (۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘
ذیل میں اس حدیث کی علمی و فنی تحقیق پیش کی جاتی ہے۔ ہماری زیرِ بحث حدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد خاص درود شریف پڑھنے پر۸۰؍ سا ل کے گناہ کی معافی اور۸۰؍ سال کی عبادت کی بشارت ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس قسم کی دو موقوف روایات ملتی ہیں:
پہلی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جوابھی ذکر کی گئی۔ دوسری روایت حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں:
’’وعن سهل بن عبداللّٰه ؓ قال:من قال في یوم الجمعة بعد العصر: ’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي و علی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً.‘‘
ان دو روایات میں تین فرق ہیں:
۱:۔۔۔۔۔ پہلی روایت میںـ’’قبل أن یقوم من مکانہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں، جب کہ دوسری اس سے خالی ہے۔
۲:۔۔۔۔۔ اسی طرح پہلی میں ’’وسلم تسلیما‘‘ ہے، جب کہ دوسری روایت میں ’’تسلیما‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔
۳:۔۔۔۔۔ پہلی میں ’’کتبت لہٗ عبادۃُ ثمانین سنۃً‘‘کے الفاظ بھی ہیں، جب کہ دوسری میں صرف
’’غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
بہر حال ہر دو حدیث کا مضمون دوسرے کی تائید کرتا ہے۔
فتوی نمبر : 144003200476
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن