پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے،
بے شرمی اور غلامی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،غزہ کے جینوسائیڈ کے سرپرست، فنانسر،جس کے ہاتھ سے اہلیان غزہ کا خون ٹپک رہا ہے کی یہ تعریفیں؟؟؟آج قائد کی روح کیساتھ شہداء غزہ کے روحیں بھی تڑپی ہوگی۔
@CMShehbaz آپکی فوجى حکومت اﺯرائيل کا دوست نے انہیں ہمیشہ فراموش کیا کبھی انکے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے اور آج وہ مجاہدین جب پوری قوم کا فخر بن گیا تو آپ کی ہمدردی بھی سامنے آگئی۔
بے شرمو فلسطین کی بچوں کے قاتلوں
ڈالر کیلئے مسلمانوں کو مزید کتنا برباد کرو گے
اس کو کہتے ہیں انڈیا کو بے نقاب کرنا 👏
انڈیا اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے انڈیا کے اصلیت یہ ہے کے یہ سب سے بڑی جھوٹ کی فیکٹری ہے ، انڈیا دھشتگردی کو استعمال کرتا ہے پاکستان میں BLA جیسی دھشتگرد تنظیم کو فنڈ کرتا ہے جو معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں
ایک اوورسیز ٹرک ڈرائور اور ایک اوورسیز ٹیکسی ڈرائیور نے سوشل میڈیا سے پاکستان کی پہلی purely عوامی تحریک کھڑی کردی
عمران خان کا دل ہلکا کردے گی یہ بات، کیونکہ وہ نکلا ہی قوم بنانے تھا! کوئی بتائے گا جاکے؟ @salmanAraja؟ @BrSalmanSafdar؟
#مشن_نور_ابتدائے_انقلاب
Celebrating a defence partnership. This is a unique song which says that Pakistan and Saudi Arabia are brothers in faith. This song is dedicated to the mutual strategic defence agreement between the two countries.
قائداعظم کی آخری گھڑیاں سانحہ زیارت میں گزر گئیں، ایمبولینس کا پٹرول ختم، گھنٹوں سڑک پر بے یارو مددگار، نہ ہسپتال نہ ایندھن۔ کیا یہ محض حادثہ تھا یا اُس وقت کی حکومت و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی دانستہ غفلت؟
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2