The restoration of Punjab’s barren lands under the Plant for Pakistan Spring Tree Plantation Campaign 2025 marks a historic milestone for our province.
From October 2024 to June 2025, we transformed thousands of acres of barren land into thriving green landscapes, Alhamdulillah.
🌳 Ghazi Ghat, Muzaffargarh: 1.815 million plants on 1,500 acres
🌳 Thul Maghraj, Rajanpur: 559,000 plants on 2,091 acres
🌳 Khanani & Rakh Murghai, Muzaffargarh: 708,000 plants on 1,470 acres
🌳 Pakhowal, Gujrat: 242,000 plants on 200 acres
🌳 Restoration efforts also expanded to Jhok Reserve Forest, Lal Suhanra, Mianwali, Gujranwala and Murree.
Land that lay barren for generations now stands green within months. This achievement reflects our resolve, dedication and commitment to a greener, healthier Punjab for future generations.
Today’s plantation is tomorrow’s inheritance. Plant a tree today and be part of Punjab’s green future.
#GreenPunjab #PlantForPakistan #PlantATree #Punjab
محسن نقوی صاحب سے بطور وزیر داخلہ ابصار عالم نے بہت اہم سوال کیے ہیں کہ کرکٹ کا ستیاناس ہو چکا بلوچستان کا تباہ ہے خیبر پختون خواہ میں آگ لگی ہے اور اب آزاد کشمیر کا حال دیکھ لیں اس سب کے بعد ان سے کچھ پوچھا کیوں نہیں جاتا؟
شہباز صاحب انکو کیوں رکھا؟
ہندوستان ایکشن کمیٹی کے یوٹیومر ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ کشمیر میں “ تمبر “ کا ڈنڈا لہرا رہا ہے اور باقی سیاسی جماعتوں پر عوام گندے انڈے پھینک رہی ہے جبکہ دھیر کوٹ میں سردار عتیق کا استقبالیہ ہمیں کچھ اور ہی منظر پیش کررہا ہے
اور ناظرین شفیع جان جس بل کے پاس ہونے سے مُکر گیا تھا آج سہیل آفریدی نے ان نکات کو نکالنے کیلئے تمام پارلیمانی لیڈران کو مدعو کرلیا چلیں شکر ہے بلیو پاسپورٹ اور تاحیات مراعات کے گورکھ دھندہ کو تسلیم تو کرلیا
عشق عمران میں نیلا پاسپورٹ ضروری ہے صنم
🚨خیبر پختونخواہ میں لاتعداد مراعات کا بل پیش کرنے کی ویڈیو
یہ چیک کریں پی ٹی آئی بل پیش کر رہی جبکہ شفیع جان مکر گیا ہے اس بل کی ایک شق یہ کہ کے پی اسمبلی کے ممبر کسی بھی عدالت سپریم کورٹ تک میں پیش نہی ہوں گے سب کو استشنی ہو گا
آٹھ کلاشنکوف لائسنس ملیں گے ۔بجلی گیس کے بل نہی دیں گے ٹیکس نہی دیں گے مگر پاکستان میں موجود ہر مفت سہولت کے ریسٹ ہاوس استعمال کر سکیں گے
یہ تبدیلی کے دعوے والوں کا حال ہے
میں نے دوست سمجھ کر گھر بُلایا تھا لیکن اسی دوست نے میری 28 سالہ ازدواجی زندگی کو تباہ کرکے میری بیوی جو کہ پانچ بچوں کی مما تھی اور دوترے پوترے بھی تھے عدت میں دوڑا کر لے گیا
اور ایسے زنائی کے پیروکار آج انصاف مانگ رہے ہیں
کیسے کر لیتے ہو بھائی
For the past 24+ hours, a UK-based gang lead by an individual claiming to be a UK councillor and JAAC leader/fund collector, has been leading a sustained campaign of abuse, intimidation, harassment, and threats.
My fault?
My work and commentary on the Kashmir issue and my criticism of few leaders of the Joint Awami Action Committee for their anti-Pakistan, provocative and harmful-to-the-Kashmir-cause violent campaign.
That person’s conduct has also included attempts to provoke hostility and create divisions between Pakistanis and Kashmiris.
Other than adapting a legal course in the UK and Pakistan against that hate monger, I am placing this on record so the public can judge for themselves how some who claim to represent a peaceful cause are actually violent and vile inside.
Masking as peaceful activists, they respond with abuse and threats of violence to criticism and dissenting voices.
This is neither the first time nor, I suspect, the last that I have been targeted for expressing my views. But it did not silence me before, and it will not silence me now.
For full details, including voice notes, and other evidence of the person, head to my YouTube for the latest vlog.
گروپ کیپٹن عاصم شہید نے جس طرح شاہین چوک اسلام آباد میں ایک اجنبی لڑکی کی مدد کرتے کرتے اپنی جان دے دی وہ اپنی جگہ بہادری اور زندہ ضمیر کی نشانی ہے جس نے کسی کی بیٹی کو مشکل میں پا کر مدد کرنے کی کوشش کی۔
ان کا یہ جذبہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لوگ ان مواقع پر نہیں رکتے کہ کسی مسلے میں نہ پھنس جائیں۔
شاید انہوں نے اس بچی میں اپنی بیٹی دیکھی ہوگی۔ بہت کم لوگ دوسرے کے بچوں کو اپنا سمجھ کر مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں چاہے جان سے ہاتھ کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
ویسے آپ اندازہ کریں کہ اسلام آباد میں ایک عام سے موٹر سائیکل سوار کے پاس جیب میں پستول ہے جو اس نے خریدا اور اپنے ساتھ گولیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس موٹر سائیکل سوار میں کسی بھی اجنبی پر فائر کرنے کی ہمت بھی ہے اور وہ پورا گھرانہ تباہ بھی کرسکتا ہے۔
مانیں یا نہ مانیں اسلام آباد اس وقت جس بدترین بدانتظامی اور لاء اینڈ آڈر کا شکار ہے اس میں اس شہر کو تین چار اطراف سے لگنے والی موٹر وے سڑکوں کا بڑا ہاتھ ہے۔۔ آپ کو عجیب بات لگے گی لیکن مجھے اسلام آباد کے ایک سینر افسر نے شہر میں جرائم بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی تھی۔
آپ اپنے علاقے سے گپ شپ کرتے کرتے چلیں بلکہ بعض کیسز میں کڑاہی کھاتے کھاتے پلان بنا اور موٹروے سے اسلام آباد چلے، اسلام آباد میں ایف سکس سیکٹر سے بندہ اٹھا کر لے جائیں اور اسے موٹر وے پر لے جا کر مار ڈالیں، اسلام آباد کے کسی مصروف چوک پر بڑے آرام سے بندہ ماریں، اسلام آباد شہر میں گھر لوٹیں، ایف سکس میں گن پوائنٹ پر چھ وارداتوں میں فون چھینیں اور بڑے آرام سے موٹروے شہر سے نکل جائیں۔۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا نہ روکا جائے گا۔
میں اس بات پر شاک میں ہوں کہ اسلام آباد جیسے شہر میں موٹر سائیکل سواروں کے پاس پستول ہیں جو گولیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور وہ کسی لڑکی کو مجبور کرنے سے روکے جانے پر چوک میں چلا کر بندہ مارنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں۔
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@ICT_Police@RajakhurramNA48@PalwashaKhan18@AyazSadiq122
ایک اچھی خبر یہ کہ بلڈ کینسر کے علاج کے لیے بڑا بریک تھرو کیا ہے اور یہ پاکستان آرمی کے میڈیکل کور نے آرمی بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر نے کیا ہے پاکستان میں پہلی CAR T-cell therapy کا کامیاب تجربہ کیا ہے یہ بلڈ کینسر کا جدید ترین علاج جس میں خون کے وائٹ بلڈ سیل میں سے ٹی سیل لے کر ان کو جینٹیکلی انجئینریر کر کے جسم میں داخل کرتے اور وہ کینسر کے سیل کو تباہ کر دیتے اس کو living drug کہتے اور یہ بلڈ کینسر کے مریضوں کے لئے بہت بڑی خبر ہے
گروپ کیپٹن عاصم شہید
گروپ کیپٹن کوئی نیا نوجوان نہیں بلکہ ایک سینئر رینک ہے جو کرنل کے برابر ہوتا ہے لیکن سلام ہو قوم کے جری بیٹے کی جرات پر جس نے جان دیکر ایک بیٹی کی عزت بچائی۔
سیلوٹ سر !
ان کشمیری بھائیوں کو دھوکہ دے کر حقوق کے نام پر لندن اختجاج میں بلایا گیا
لیکن جیسے ہی ان بھائیوں نے اختجاج میں تحریک انصاف کے یوتھی یوتھیوبرز عمران ریاض اور صابر شاکر کو دیکھا تو اسی وقت واپس جانے لگے کہ ہم سیاسی پراکسی نہیں
لندن سے لائیو مناظر
ان تمام بھائی بہنوں کو سلام
خواجہ آصف کے انٹرویو کے بعد میرے خلاف ایک منظم اور دھمکی آمیز کیمپین شروع کی گئی ہے جس کی ایک مثال یہ وائس نوٹ برطانیہ سے آیا ہے۔ زُبان چیک کریں اس پاکستان مُُخالف مُہم کے لیڈر کی۔ کیا اس پر برطانیہ کا قانون لاگو ہوتا ہے؟
*ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید*
*ابتدائی اطلاعات کے مطابق* :
گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایوینیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سے ایک خاتون کو اترے ہوئے دیکھا جس کا ہاتھ موٹرسائیکل سوار کھینچ رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب رکے جس پر لڑکی گاڑی کی دوسری طرف بھاگ آئی
اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ بدکلامی شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں ان پر فائر کھول دیا
گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا
*پولیس کے مطابق* :
خاتون نے بتایا ہے کہ ملزم اس کا دفتر مے کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی
تاہم راستہ تبدیل کر کے اسے کہیں اور لے جانا چاہتا تھا جس پر وہ اس سے زور آزما رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم نے بر وقت مداخلت کرتے ہوئے مجھے محفوظ کیا- خاتون
اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں
گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے
گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی کو ملک بھر میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے
قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے
*گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاک فوج کے سپاہی صرف سرحدوں ہی نہیں عزت کے بھی رکھوالے ہیں*
حکومت جا رہی ہے
۔
ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے، گہرے ہوتے سائے، اسلام آباد کی دیواروں کی سرگوشیاں اور اس جیسے کتنے ہیں جملے پاکستان کے شدید باخبر صحافیوں نے گھڑ رکھے ہیں۔
اللہ کریم کا کرم کہ پاکستان کے سب سے معتبر سیاستدان کے گھر آنکھ کھولی تو سیاست اور صحافت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ آج سے تیس سال قبل بھی اور اج بھی یہ صحافت کے یہ جملے نہیں بدلے اج کم از کم چالیس سال کے صحافت کے مطالعے کے بعد پورے یقین سے یہ کہ سکتا ہوں کہ جو بھی یہ الفاظ استعمال کرتا ہے اصل میں اس باخبر صحافی کے پلے نوے فیصد کیسز میں کچھ نہیں ہوتا۔
طریقہ واردات بڑا سادہ ہے ہر کچھ عرصے بعد ایسی کوئی پھلجڑی چھوڑ دو ایک تو یہ چورن ہمیشہ اچھا بکتا ہے دنیا کی ہر حکومت سے نالاں افراد ہوتے ہی ہیں وہ اس پر امید باندھ کر آپ کے اچھے گاہک بن جاتے ہیں۔ دوسرا پچاس بار یہ دعوی کریں انچاس بار جھوٹا ثابت ہو گا ایک بار تُکہ لگ جائے گا تو عمر بھر یہ خبر بیچو کہ دیکھو میں نے فلاں وقت یہ خبر دی تھی اور اگلے ہفتے حکومت چلی گئی۔ کچھ بہت شاطر بڈھے صحافی کسی کمشنر کسی پولیس افسر کسی فوجی تقرر تبادلے پر یہ تُکہ نکال کر بیٹھ جاتے ہیں دیکھا میں نے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ چل چلائو کا وقت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا آنے کے بعد رہی سہی صحافت کا جنازہ نکل چُکا ہے ہر صحافی کو خبر نکالنی ہی نہیں خبر بیچنی بھی ہے گھر کی روٹی بچوں کی فیس محبوبہ کے نخرے یا ولایتی شراب کی بوتل کا خرچہ خبر کی سچائی سے پورا نہیں ہو سکتا سو کمزور اذہان کو جھوٹ بیچو جھوٹی امید بیچو۔ اگر پھر بھی بات نہ بنے تو دلیری کا اسٹنٹ مار کر مخالفوں کو راتب خور لفافہ اور خود ک بطل حریت کہ لو حلانکہ صحافت کا تعلق تو خبر کی سچائی سے ہے ایکٹوزم سے نہیں۔
میں سیاستدان ہوں میری دیانت کا تقاضہ یہ کہ میں اپنے نظریے اپنے سیاسی گروہ اپنے اتحادیوں کے لیے جانبدار رہوں لیکن پاکستان میں سیاستدان سے مطالبہ ہے کہ وہ غیر جانبدار ہو جائے۔ جبکہ پاکستان میں گندگی پر کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے چرب زبان جس کے پاس چار فالوور ہیں وہ صحافی کہلوانے پر بھی بضد ہے اور اس کی دیانتداری یہ ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے۔
میری بات بہت تلخ لگے گی لیکن پاکستان میں حقیقی صحافیوں کی تعداد اب دو ہاتھوں کی اگلیوں سے بھی کم ہے باقی کوئی بھی صحافی نہیں بلکہ سب کسی نہ کسی قوت کے میڈیا مینیجر اور سپوکس پرسن ہیں۔ ہر وہ فرد جو گلا پھاڑ بھاڑ کر کسی دوسرے فرد کو راتب خور کہ رہا ہوتا ہے اس کی دو جملے کی تحریر بتا دیتی ہے کہ موصوف کو راتب کہاں سے ملتا ہے۔
پاکستان کو اگر ترقی کرنا ہے تو اس سارے میڈیائی ہیجان کو فوری لپیٹنا ہو گا چاہے اس میں لپیٹنے والوں کے اپنے راتب خور بھی بے روزگار ہو جائیں۔ کیونکہ ان کی خبر سازی سچ نہیں پیسے سے جڑی ہے وہ پیسہ کمانے کے لیے کبھی کشمیر میں سیکڑوں افراد ہلاک کرنے کی خبر چلائیں گے کبھی پنجاب کالج میں بچی کے ریپ کی خبر۔ کبھی ہر خاتون سیاستدان کے ناجائز تعلقات کی خبر۔ کچھ نہیں ملے گا تو خاکم بدہن پاکستان پر ایٹم بم گرنے کی خبر۔ روک لیں ان جھوٹ کی فیکٹریوں اور راتب خور انقلابیوں کو ورنہ پھر سال کے تین سو پینسٹھ دن یہی چورن بکے گا کہ
حکومت جا رہی ہے
جو پاکستانی ترانے کے میوزک کو غیر شرعی کہہ کر احتراما کھڑے نہیں ہوئے تھے وہ اج ایرانی بینڈ کے میوزک پر با ادب پاؤں سے پاؤں ملائے تھرک رہے ہیں _
یہ پڑی امارات غیر اسلامی کی مرضی کی شریعت جو صرف دوسروں کیلئے ہے لیکن ان پر حرام ہے _
فرق جان کر جئیو 👇
جب تحریک انصاف کے وزیراعلی کو بلایا گیا بتاؤ کے تم نے اپنے صوبہ میں جیل ریفارمز کیا کیے ہیں تو اس نے ایک پرچی پڑھ کر سنا دی ۔
اور جب ہماری وزیراعلی کو بلایا گیا تو انہوں نے اپنے تاریخی جیل ریفارمز کی ویڈو چلائی اور دیکھائی کے یہ کام ہم کر رہے ہیں
اس وقت تحریک کذاب اور کن کترے ملکر آزاد کشمیر کے متعلق جعلی ویڈیوز شئیر کرنے میں مصروف ہیں!
یہ ابھی آج شام کی ویڈیو ہے جس میں آئی جی کشمیر مظفرآباد کے بازاروں میں گھوم پھر رہے ہیں۔
کن کتروں اور یوتھی بھائیوں کبھی سچ بھی دیکھا کرو۔
شاید کچھ شرم آجائے تمہیں