اسلامی تاریخ کے لازوال ہیرے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بنو امیہ کے ایک خوش حال اور لاڈلے شہزادے اور مدینہ کے گورنر تھے۔ نفیس لباس، عمدہ خوشبو، بہترین سواری اور پُرتکلف طرزِ زندگی ان کی شخصیت کی پہچان تھے۔ ان کے لباس، وضع قطع اور چال ڈھال کی نفاست کا پورے مدینہ میں چرچا تھا۔
لیکن جب خلافت کی امانت ان کے کندھوں پر آئی تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
جس شخص کو کبھی شاہانہ لباس اور خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، اس نے خلافت سنبھالتے ہی شاہی سواریاں، قیمتی سامان اور آسائشیں بیت المال کے حوالے کر دیں۔ لباس سادہ ہوگیا، خوراک معمولی ہوگئی اور ذاتی زندگی سے تکلف رخصت ہوگیا۔ انہوں نے اپنے گھر سے بھی قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کرائے اور اپنے اہلِ خانہ کو سمجھایا کہ امت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد حکمران کا معیارِ زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
یہ تبدیلی محرومی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے اخلاقی تقاضوں کا شعوری انتخاب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو آسائش ایک عام شہری کے لیے محض ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے، وہی اہلِ اقتدار کے لیے عوامی اعتماد، احساس اور جواب دہی کا سوال بن جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لئے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، مگر اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں، عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں، اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روایات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین!
میں یقین کرتا ہوں کہ یہ تمام اخراجات مریم نواز شریف نے خود ادا کیے ہیں جوکہ سوا کروڑ بنتے ہیں۔ آپنے خرچوں پر بحث نہیں کی صرف کہہ دیا کہ جیب سے دیے۔
یہ سوا کروڑ خرچہ صرف تین دن کے دورے کا تھا۔
عوام میں اور ان کے لیڈر میں اتنا بڑا خلیج ہے کہ دو سو یونٹ سے اوپر نہ ہو جائیں تو رات کو پنکھا ہی بند کر دیتے ہیں۔۔۔ یہاں تین دن کا سوا کروڑ ( خرچوں کے دعوے کو آپ نے جھٹلایا نہیں)
عوامی لیڈر ایسے نہیں ہوتے۔۔
میں نے صرف اپنے لاپتا پالتو جانور کی واپسی کی اپیل کی تھی اور کمیونٹی نے مدد کی۔ اس پر بھی سیاست چمکانا تمہاری گرتی ہوئی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ویسے Max تم سے ہزار گنا بہتر ہے، کیونکہ وہ نہ تو جعلی انگوٹھے لگا کر جیل جاتا ہے اور نہ ہی عوام کا پیسہ لوٹ کر ملک سے فرار ہوتا ہے۔ #میکس_گھر_آگیا_اب_تم_بھی_آجاو
راولاکوٹ کے پاس حویلی میں کن کترا کمیٹی کے اکھٹ سے تین گنا بڑا اجتماع نعرے لگا رہا ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے.
اور جناب الجزیرہ کہتا اس الیکشن میں عوام شریک نہیں...!
یہ وہ سیاسی جماعت ہے جو دوسروں کو انپڑھ ہونے کا طعنہ مارتی تھی
یہ وہ سیاسی جماعت ہے جو کہتی تھی کہ ہم پڑھے لکھے لوگوں کو آگے لائیں گے
یہ وہ سیاسی جماعت تھی جو کہتی تھی کہ بوسیدہ نظام ہم تعلیم سے ٹھیک کریں گے
پورے 14 سال حکومت کے بعد یہ ہیرا آج خیبر پختونخواہ کا وزیر تعلیم ہے
نقوی صاحب سسٹم ھر وقت evolve ھو رہے ھوتے ھیں اور ھونے چاہییں ۔ نمونے کے طور پہ PCB میں کوئی انقلاب لائیں کرکٹ کے شائقین PCB کی پرفارمنس سے کوئ اتنے مطمئن نہیں۔ PCB میں تو اقتدار کل آپ کے پاس ھے نہ وزیر اعظم ھے نہ پارلیمنٹ ھے نہ کوئ فرسودہ سیاسی نظام رکاوٹ ھے۔
میر واعظ عمر فاروق نے JAAC کو آئینہ دکھا دیا!
کوئی عوامی تحریک اخلاقی برتری نہیں رکھ سکتی جب تک وہ مہاجرینِ کشمیر کے آئینی حقوق نظرانداز کرے۔
پاکستان میں لاکھوں مہاجرین کا حقِ رائے دہی اور 12 آئینی نشستیں ان کا مسلمہ حق ہیں۔
مساوات، انصاف اور باہمی احترام کے بغیر کوئی جدوجہد کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اچھا واقعی تبھی سندھ بٹا تھا چوتھی مرتبہ بلیک میل کرکے ہیں نا؟
تب قیامت نہیں آئ جب گھر کی سیٹ کے لئے مخالف امیدوار غائب کیے یا جب بلدیاتی انتخابات چوری کئے اور ہمیشہ “قومی مفاد” میں بلیک میلینگ سے 18 سال سے سندھ پہ قبضہ کرکے بیٹھے ہیں،وڈے انقلابی،جعلی جمہوری
تاریخ ہمیشہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا نام سنہری حروف میں لکھے گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں واحد جج اور واحد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ہی آئے ہیں جنہوں نے سیاسی اور غیر سیاسی دبائو کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دلیری کے ساتھ 100 فیصد آئین و قانون کے مطابق فیصلے دیئے، ایسی بزدلی بھی نہیں دکھائی کہ اہم مقدمات کو التواء میں ڈال کر فائلیں دبا دیں اور ثاقب نثار اور کھوسہ وغیرہ کی طرح بطور ٹائوٹ جج کام کرنے سے انکار کیا۔
دلیری اور آئین و قانون کی بالادستی ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کا فخر ہے۔
ایک فیشن بن گیا جس کو حکومت لفٹ نہیں کرارہی ہوتی وہ نعرہ لگادیتا ہے کہ حکومت کا بیانیہ فیل ہوگیا ہے۔
آئیں فیل بیانیے کی کہانی سُناتے ہیں پھر آپ بتائیے گا کہ کون جیتا کون ہارا۔۔
کہانی شروع ہوئ اگر مجھے نکالا تو میں بہت خطرناک ہوجاؤں گا سے اور پھر ہیلی کاپٹر والی ویڈیو اور آوازیں سب دیکھا ہوگا آپ نے۔۔
پھر خط لہراکر کہا یورپین یونین پابندی لگادے مگر وہ یونین تو اور قریب ہوگئ پاکستان سے۔۔۔
پھر سائفر لہرایا اور پھر خود ہی سینیٹرز کو گھر بلاکر امریکہ کی گود میں جاکر بیٹھ گۓ ۔۔
پھر باجوہ کو میر جعفر کہا اور پھر خود ہی تاحیات چیف بنانے کی لالچ دی۔۔
پھر پچیس مئ 2022 کو اسلام آباد چڑھائ کرنے کی کوشش کی اور پھر خود ہی علی الصباح سب کو گھر جانے کو کہہ دیا ۔۔۔
پھر آئ ایم ایف کو خط لکھتے رہے مگر ائ ایم ایف پہلے سے زیادہ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
پھر نومبر 2022 میں ایک تحریک چلائ کے جی ایچ کیو کو گھیریں گے اور پھر خود عمران اسمعیل کی شلوار میں چار گولیوں کی کہانی سُناکر بھاگ لیے ۔۔
پھر نو مئ کیا اور جب کامیاب نہیں ہوۓ تو کہا یہ ہم تھوڑی تھے۔۔۔
پھر لندن نیویارک واشنگٹن کی سڑکوں پر فوج اور پاکستان کے خلاف کمپین چلائ اور پھر خود ہی مُکر گۓ کہ یہ ہم نہیں تھے۔۔
پھر امریکی کانگریس اور سینیٹ میں گۓ آرمی چیف کے خلاف اور جب کچھ نہ ملا تو کہا اچھا پھر ہماری دوستی کرادو فوج سے مگر فوج تیار نہیں ہوئ۔۔۔
پھر الیکشن کے نتائج آنے سے گھنٹہ پہلے ہی اعلان کردیا ہم جیت گۓ اور جب حقیقی نتائج آۓ توماننے سے انکار کردیا۔۔۔
پھر کہنے لگے بس ٹرمپ کو آنے دو پھر دیکھنا اور سب نے واقعی دیکھ لیا۔۔۔
پھر اسلام آباد پر چڑھائ کی اور پھر بھاگ نکلے ۔۔۔
پھر چیف جسٹس منصور کے لیے ہر منفی حربہ استعمال کیا مگر وہاں بھی کامیاب نہ ہوسکے ۔۔
پھر جب پہلگام فالس فلیگ ہوا تو سارے پاکستان کے خلاف بولنے لگے کہ اب مودی نہیں چھوڑے گا مگر جب مودی کو دھول چٹائ تو کہنے لگے ہم تو پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔
پھر ایران امریکہ جنگ میں پہلے تو یہ پاکستانیوں کو بھڑکاتے رہے کہ پاکستان ایران کے خلاف ہے جب پاکستان نے ایران کو حملے سے بچایا تو کہا دیکھنا ٹرمپ حملہ ضرور کرے گا پھر پاکستان ذلیل ہوگا مگر ان کی کوئ بھی خواہش پوری نہ ہوسکی۔۔۔۔
ہر ہفتے دھمکیاں دیتے ہیں اڈیالہ گھیرنے کی مگر ہر دفعہ ایک دوسرے پر الزام لگاکر سب کے سب پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں ۔۔۔
اب بتائیں گے کس کا بیانیہ جیت رہاہے ۔۔
ہاں گالم گلوچ بے انتہا جھوٹ جعلی ویڈیوز کو اگر بیانیہ کہتے ہیں تو خدا کرے آپ ہی ہمیشہ جیتیں ہم اپنے معاشرہ کو ایسی راہ پر نہیں ڈال سکتے ۔۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also endorsed by me as the mediator. The signing of this agreement at the highest level of the respective governments demonstrates the commitment of both sides to a diplomatic resolution of the conflict. Islamabad MoU shall enter into force with immediate effect and as a first step, Islamic Republic of Iran will instantly reopen the Strait of Hormuz and the United States of America will immediately lift the naval blockade.
I offer my heartfelt congratulations and sincere appreciation to the President of the United States, Donald J. Trump whose steadfast commitment to diplomacy and preference for peaceful resolution have once again helped end a conflict that could have led to devastating consequences for the region and beyond. I also commend the dedication and tireless efforts of the United States negotiating team, including J.D. Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner, for their invaluable contributions to this achievement.
I express my profound respect and appreciation to His Eminence Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei, the Supreme Leader of Islamic Republic of Iran and President Masoud Pezeshkian for their wisdom, foresight and statesmanship in embracing the cause of peace. I also wish to recognize the efforts of the Iranian negotiating team, including Mohammad Bagher Ghalibaf, Abbas Araghchi and Eskandar Momeni, whose patience, perseverance and commitment to constructive engagement were instrumental in bringing this agreement to fruition.
I would especially like to acknowledge the sincere efforts and constructive engagement of the leadership of the State of Qatar in helping reach this point. I also highly commend the leadership of the Kingdom of Saudi Arabia, the Republic of Türkiye and the Arab Republic of Egypt for their indispensable role and invaluable contributions in this regard.
I would also like to make special mention of Field Marshal Syed Asim Munir, whose tireless efforts, selfless dedication and instrumental role were critical in facilitating this breakthrough and advancing the cause of peace and regional stability.
May this Memorandum of Understanding serve as an enduring foundation for greater understanding, mutual respect and shared prosperity for the complete region.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in Lebanon.
The official signing ceremony will be on Friday, 19 June in Switzerland.
We would like to thank the United States of America and the Islamic Republic of Iran for their commitment to finding a diplomatic solution to the conflict. We would also like to extend our sincere appreciation to our brothers in this mediation effort, the great leadership of State of Qatar, for their support in reaching this agreement. I would also especially thank the visionary leadership of Kingdom of Saudi Arabia and Republic of Türkiye for their immense contributions in this regard.
With the agreement now in place, mediators will facilitate a series of meetings this week. These pre-implementation discussions will lay the foundation for the technical talks and the official signing ceremony.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
آزاد کشمیر کی اپنی سالانہ آمدن صرف 60 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 300 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ 240 ارب روپے کا بوجھ وفاق اٹھا رہا ہے ایسے میں ٹیکسوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ معاشی حقائق سے چشم پوشی اور مالی نظام کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے مطالبات کس کے اشارے پر ہو رہے ہیں ؟؟؟؟؟
اعزاز صاحب کوئ کسی کو غدار نہیں کہہ رہا۔ سیدھی سادی بات ھے مہاجر سیٹوں کا مسئلہ انتخابات کا ایشو بن سکتا ھے اور جمہوری عمل میں ایشو بیلٹ کے ذریعے یا مذاکراتی عمل کے ذریعے طے پاتے ھیں۔ متشدد سوچ اور بے لچک رویے سے نہیں ۔ کشمیر کے لئے کشمیریوں اور پاکستانیوں نے بے پناہ قربانیاں دی ھیں اور سب سے زیادہ مہاجروں نے، تاریخ گواہ ھے بھارت کے ساتھ جب بھی جنگ ھوئ کشمیر ایشو رہا ھے اور ھے۔ ھماری فوج سیاچین سے لیکر سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری تک78سال سے دن رات اپنی شاہ رگ کی حفاظت کررہی ھے اور یہ قائد اعظم کا کشمیریوں سے وعدہ ھے۔ ھم کشمیر کو سیاست کی نذر کرنا afford نہیں کر سکتے ۔ ھر مسئلے کا حل موجود ھوتا ھے اپروچ میں خلوص کی ضرورت ھے۔ شہیدوں کا خون لٹی ھوئی عصمتیں ہجرت کرنے والے مہاجر ھم سے دیانتداری اور کمٹمنٹ مانگ رہے ہیں سیاست نہیں ۔۔
I'm trying to imagine Muslim kids chanting something similar about the Jewish or Christian faiths at a rally in London. The Prevent folks, counter-terrorism police, the entire British media would be all over the story, asking why Muslims are so extreme & brainwashing their kids.
آپ اس یہ کیوں نہیں نتیجہ اخذ کرتے کے کہ ھماری سڑکوں کواستعمال کرنے والے شہری ٹریفک قانون کی پابندی کرنا اپنی توھین سمجھتے ھیں_ کسی بھی مصروف سڑک پہ کھڑے ھو کر مشاھدہ کریں کہ کتنے لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ھیں_ غیر مصروف سڑک پہ تو قانون کی پابندی کرنے کا سوال ھی نہیں پیدا ھوتا- چنگ چی ایک پاپولر سواری ھے، 80% سڑکوں پہ بغیر رجسٹریشن کے چل رہی ھے یہ حال ٹریکٹر ٹرالی کا ھے_ یہ صرف ایک مثال ھے_ کسی نے ٹھیک کہا کسی ملک میں نظم ضبط اور قانون کے احترام کا اندازہ لگانا ھو تو اسکی سڑکوں پہ عوام کا طرز عمل دیکھیں_ پرانی خراب عادتیں لاڈ پیار سے ٹھیک نہیں ھوتیں قانون کے رٹ نافذ کرنے سے ھوتی ھیں _ ھیلمٹ کتنے فیصد لوگ پہنتے ھیں ؟ کتنے فیصد لوگوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ھے_ میرے ویر اے پاکستان اے ڈنمارک نہیں -