After northern Gaza, Israel has, with unmatched brutality, violated all humanitarian, ethical and public opinion standards in Rafah. Men, women, and children have been burnt alive. Now, it has reached a point where Pakistan either needs to take practical action itself or immediately convene an OIC session to compel Israel to cease bombing through joint motion. Will the blood of thirty thousand martyrs not fruition, even after all of this?
‼️‼️‼️ایک بھی صہیونی نہیں مارا گیا پلانٹڈ فیس سوینگ دو ہفتے روتا رہا مجوسی اسرائیل امریکہ کچھ سیٹلمنٹ کرو میں حملہ کروں چ بناوں کھٹملوں کو پھر سیٹلمنٹ ہوگئ ڈرون ٹھس ہوگے
۔ ایران میں مقیم مسلمان خمینی کی قبر پر جا کر پیشاب کر آئیں شکریہ
اور حق نواز جھنگوی کی قبر پر میری طرف طرف سے ایک من پھول ڈال آئیں میں پے کرونگی انکا کہا آج بھی سچ ہے 🙏🏻���🏻
دو دجالی ریاستوں(ایران و اسرائیل) کے مابین جنگ کا ماحول کری ایٹ کیا گیا ہے۔ ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ دجال اکبر ابھی حملہ کرنے والا ہے اپنے برادر اصغر پہ۔ کل شام کو بالکل ��قین دلایا جارہا تھا کہ آج رات یقینا کچھ ہونے والا ہے۔ مگر اب ہر طرف شانتی است۔ یقین مانیں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ البتہ فیس سیونگ بلکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور عربوں کو مزید چ بنانے کیلئے ایسی ہی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے جس میں اپنے ایک مشہور جرنیل کا انتقام لینے کے لیے امریکی ٹھکانوں پہ میزائل برسائے گئے تھے اور خدا بھلا کرے ٹرمپ صیب کا، منہ پھٹ آدمی ہیں، کوئی راز کی بات دل میں چھپا کے نہیں رکھ سکتے۔ چند ماہ قبل بھرے جلسے میں سارا پول کھول دیا کہ میزائل حملے سے پہلے مجھ سے باقاعدہ درخواست کی گئی تھی کہ چھاؤنی خالی کرو، ہم حملہ کرکے اپنا بھرم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے بھی اگلے کی عزت بچانے کے لیے اس پہ عمل کیا۔ اب بھ�� اگر کچھ ہوا تو یقیناً نتن یاہو کے مشورے سے ہی ہوگا۔ لہٰذا کسی غیر معمولی "انتقام سخت" کی امید رکھنے کی جرورت نیست۔
ضیاء چترالی
اناللہ وانا الیہ راجعون
چیف جسٹس فائز عیسی کی طرف سے 1 مقدمہ میں قادیانی قرآن ناشر کورہا کردیا گیاہے ساتھ ہی اس کےمقدمے میں سےدفعہ قرآن کریم توہین295بی اورقادیانی قرآن چھاپنےپرپابندی1973وال�� دفعہ بھی ختم کردی ہے۔
چیف جسٹس کے اس فیصلے کو ہم مسترد کرتے ہیں۔
میرے دوست اور کولیگ نعمان مسعود کی زبانی!!!
———————————————
یہ واقعہ کل پیش آیا میں “نعمان مسعود کا کھابہ” کے نام سے ایک ریسٹورنٹ کا مالک ہوں۔ اور میری بحریہ ٹاؤن برانچ کو ایک ہولناک واقعہ کا سامنا کرنا پڑا۔
ہم نے وہیل چیئر والے معذور افراد کے لیے جگہ مختص کر رکھی ہے اور آج ایک گاڑی جس پر ڈرائیور کے ساتھ گارڈز بھی تھے، اپنی گاڑی یہاں کھڑی کرنا چاہتے تھے اور میرے لڑکے نے اسے بتایا کہ معذرت جناب یہ معذور افراد کے لیے ہے لیکن وہ بدمعاشی اور لڑائی پر اتر آئے اور میرے ریسٹورینٹ کے لڑکوں پر حملہ آور ہو گئے جس میں میرے CFO بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسے اس بری طرح سے مارا کہ ہم سب ابھی تک صدمے میں ہیں کہ ہم سب پتھر کے زمانے کی طرف واپس کہاں جارہے ہیں۔
براہ کرم میں کچھ ایکشن لینے کی درخواست کروں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ لوگ دوسروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کریں جیسے میرے CFO کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے سر کے 3 انچ حصے کے ٹانکے لگے ہیں اور اس کی حالت خراب ہے، اور اس سے اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔
باقی آپ لوگ میری فراہم کردہ فوٹیج سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
غزہ میں لرزہ خیز اسرائیلی مظالم بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ہمارے ہاں اس کا تذکرہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ اب ہمیں سب کچھ معمول کے مطابق لگنا شروع ہو گیا ہے ۔۔ گزشتہ روز جبالا کیمپ میں معصوم بچوں اور عورتوں پر ہونے والی تباہ کن بمباری نے ہسپتال والی بمباری بھلا دی ہے ۔۔ ملبوں میں دبے لاتعداد شہداء ہیں اور زخمی ہسپتالوں کے فرشوں پر بے یار و مددگار پڑے تڑپ رہے ہیں ۔۔
ان دنوں غزہ کی حددرجہ قیامت خیز صورتحال سے لاعلم رہنا مجرمانہ غفلت و بے حسی کی انتہا ہوگی۔۔۔ ہم اگر وہاں پہنچ نہیں سکتے تو کیا چیخ بھی نہیں سکتے ؟؟؟ آہ و پکار اور واویلا بھی نہیں کر سکتے ؟؟؟ مدد مدد کی آوازیں بھی بلند نہیں کر سکتے ؟؟؟
خدارا چیخیے !!! شور مچائیے !!! دہائیاں دیں !!! آہ و فغاں کریں !!! جتنا اونچی آواز میں فریاد کر سکتے ہیں کم از کم اس میں کوتاہی تو نہ کریں !!! واللہ یہ دن روزمرہ کی باتوں کے نہیں ہیں ۔۔ چھوڑ دیں تمام موضوعات اور غزہ کو فوکس کیجئیے ۔۔۔ صرف اور صرف غزہ کو ۔۔ وہاں قیامت صغری برپا ہے۔
BEST QUOTE BY A PALESTINIAN IN GAZA:
“I ALWAYS THOUGHT THAT ISRAEL CONTROLS GAZA, BUT TODAY I REALISE ISRAEL CONTROLS ALL THE MUSLIM COUNTRIES EXCEPT GAZA"
حماس کے جانباز مجاہدین تاریخ کا منفرد معرکہ سر کررہے ہیں اور اسرائیل کی طرف سے غزہ کی شہری آبادیوں پر وحشیانہ بمباری ہورہی ہے یہ ایسا موقع ہے جس میں عالم اسلام کا فرض بنتا ہے کہ وہ متحد ہوکر مظلوم فلسطینیوں کوہرقسم کی مدد پہنچائیں تاکہ فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے انصاف کے ساتھ حل ہو