روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار اور عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتحادی حکومت پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بجائے پٹرول پر 120 روپے کے ٹیکسز کا خاتمہ کیوں نہیں کرتی جس کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔ لیوی کے نام پر بھتہ خوری کیوں ختم نہیں کرتی۔ ناکام حکومت اپنی ناکامی کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈال رہی ہے
پٹرول کی قیمت میں 22 روپے نہیں فوری طور پر 122 روپے کمی کی ضرورت ہے ، عالمی مارکیٹ میں قیمت گر رہی ہے، جبکہ لیوی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر حکومت 250 روپے فی لیٹر پٹرول کی سطح کو بحال کرے اور اس قیمت کوکم ازکم دو سال کے لیے زیادہ سے زیادہ قیمت ڈیکلئیر کردے تو معیشت میں تیزی بھی آئے گی اور خود ہی آمدن کے اہداف پورے ہونے لگیں گے۔ ٹیکس جمع کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کا استعمال عوام کی جیب پر ڈاکا بھی ہےاور معیشت کی بربادی کا سامان بھی ہے ۔ آئی ایم ایف کو واضح انکار کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
پاکستان کا پہلا تعلیم کارڈ جاری کرنے پر کراچی کے گلبرگ ٹاؤن میں جماعت اسلامی کی منتخب بلدیاتی قیادت کو مبارک پیش کرتا ہوں، ایک ایسے وقت جب حکومت عوام پر ہر ہفتے پٹرول بم گرا رہی ہے گلبرگ ٹاؤن نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہزاروں طلبا کو کورس و تعلیمی اشیاء کی خریداری کے لئے وظائف جاری کیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب بقیہ 8 ٹاؤنز میں بھی ان شاءاللہ تعلیم کارڈ جلد جاری ہوگا۔
بجلی، گیس کے بحران کے ساتھ پانی کی قلت قصداً پیدا کی جارہی ہے ٹیوب ویل والی سائیڈ کی بجلی آتی ہے تو ارد گرد کے علاقوں کے فیڈر بند تاکہ لوگ موٹر چلا کر پانی سٹور نہ کر سکیں ۔جونہی دوسرے علاقوں کی بجلی آتی ہے ٹیوب ویل والی سائیڈ کی بتی گل۔
گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے
ایران ہرمز کوریڈور سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا ماضی میں ایران پر عائد پابندیاں ختم یا کافی کم ہو سکتی ہیں لیکن صیہونیوں کے پاس کوئی لمبا پلان ضرور ہوگا اگر مسلم دنیا کا تاقیامت جوتے نہیں کھانے کا ارادہ نہیں تو مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرکے امریکی اثرورسوخ سے نکلنا ہوگا ۔