Alarming reports coming in about Imran Khan’s deteriorating health, nobody's speaking up and all they’re busy with is PR, lame jalsas and street movement stunts at home just to cling to power.
"میں رکشہ ڈرائیور ہوں، خدا کی قسم میرے بچے ایک ٹائم کھاتے ہیں، دو ٹائم نہیں کھاتے، بیگم خالی دیگچی میں پانی چڑھا دیتی ہے، بچے اسی انتظار میں سوجاتے ہیں تو گھر جاتا ہوں، خود تین تین دن بھوکے رہے، لیکن بچوں کو کہیں نہ کہیں سے کچھ لاکر دیتے ہیں، کبھی داتاصاحب سے لاکر دیتے ہیں، کبھی کہیں اور سے"۔ لاہور کے شہری کی گفتگو
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
The biggest youth movement in Pakistan was the one that won the 2024 elections despite the military's and judiciary's efforts to rig them.
Those who keep trying to talk around that or erase this fact only reveal themselves for the biased idiots they are.
In July alone, 42 security personnel were martyred in Balochistan. It is deeply tragic and raises serious concerns. None of the state’s policies seem to be working in Balochistan, while its focus appears to be on sidelining Imran Khan and promoting Bilawal and Maryam Nawaz instead.
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
Pakistan did not leave him. 100’s have been killed so far, 10’s of thousands put in jail, people have lost their home, businesses livelihoods. This post might give you reach on X but it’s not truth.
People are trying to figure out how to counter lead.
”میرے اور میری اہلیہ بشریٰ بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ہمیں عام قیدی کی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے،“- سابق وزیر اعظم عمران خان
#LetTheWorldSeeImranKhan
اُف!!!!!
ابھی آج کا سہراب کا روڈ شو دیکھا... لوگوں کے حالات انتہا کو پہنچ چکے ہیں!!
ہر شخص کی زبان پر "خود---ک ش ی" جیسے الفاظ ہیں۔
کئی لوگ تو یہ کہنے لگے ہیں: "اٹھا کر جیل میں ہی بند کر دو، کم از کم دو وقت کی روٹی تو مل جائے گی۔"
بہت ہی برے حالات ہو گئے ہیں لوگوں کے!
2 دسمبر کو جب ڈاکٹر عظمی کی عمران خان سے 20 منٹ کی آخری ملاقات ہوئی تھی تو تب عمران خان کا یہ پیغام باہر آیا تھا
اور اس پیغام کے بعد نظام اس قدر خوفزدہ ہوگیا کہ آج تک انھوں نے عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی اور عمران خان اب بھی مسلسل قید تنہائی میں ہیں
کون جانتا ہے کہ مقدر لکھنے والوں کا اپنا مقدر قدرت نے کیا لکھ رکھا ہے۔ کاتب تقدیر صرف وہ ہے جو سب سے با اختیار ہے۔ یہ صفت بندے اپنے ہاتھ میں نہ لیں تو بہتر ہے
How could Pakistan ever forget this episode, along with the tactics of the ECP and the Government to defy the Provincial Assembly elections on the 14th of May?
For the first time in Pakistan's history, a definitive mandate by a Supreme Court bench was completely trampled without a single legal consequence.
On top of that, these guys in the video were let loose on the Supreme Court building, thrashing Section 144 while security forces looked on—leaving the highest court in the land utterly defenceless. Alas."
#Pakistan #RuleOfLaw
"اگر کوئی سیاسی جماعت آپ کو پسند نہیں تو آپ اسے دشمنوں کیساتھ نتھی کر دیتے ہیں، جس عمل میں آپ کے عوام شامل نہ ہوں وہ سونے کا بھی بنا ہو تو بالآخر ناکام ہو جاتا ہے۔کیا ایوب، ضیا اور مشرف ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں؟ جن کے ہاتھ میں معاملات ہیں وہ جو بھی کرنا چاہتے ہیں خدارا جلدی سے کر لیں تاکہ انہیں جلد احساس ہو جائے کہ یہ سب ناکام کیسے ہوتا ہے، اگر لگام کسی کے بھی ہاتھ میں نہ ہو تو گھوڑا اپنی مرضی سے چلتا رہے اور اسے بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ غلط راستے پر ہے اور آگے تو کوئی راستہ ہی نہیں ہے"۔جنرل (ر) نعیم لودھی
@ameerabbas84
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
اپنی جماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ پوری قوم جانتی ہے کہ ہماری قیادت پر ایسے حملے کون کروا رہا ہے۔ یہ وہی قوّتیں ہیں جو پردوں کے پیچھے چھُپ کر وار کرتی،اپنے ٹاؤٹوں، اپنے مہروں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلاتی، ججوں کو دھمکاتی اور پوری ڈھٹائی سے انتخابی نتائج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے پورے انتخابی عمل کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیتی ہیں۔
کان کھول کر ہماری بات سُن لیں کہ پاکستان تحریک انصاف ان مکروہ ہتھکنڈوں اور پُرتشدد کارروائیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوگی جن سے اس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا کہ شرپسند قوم کے سامنے مزید بےنقاب ہوتے ہیں۔