بہت افسوس ہوا حامد میر جیسے سینئر صحافی کو قومی سلامتی کے اداروں پر کیچڑ اچھالتے دیک�� کر، اگر حامد میر یورپ میں بیٹھ کر وہاں کے اداروں پر بات کرتے تو آج جیل میں ہوتے،یا جنوبی کوریا میں بیٹھ کر وہاں کے اداروں پر بات کرتےتو آج اللہ کے پاس ہوتے۔ پاکستان کے ادارے کیوں بےبس ہیں ؟
افسوس ہے یہ خود کو صحافی کہتا ہے اسے کس نے حق دیا کہ یہ کسی شخص کو تھپٹر مار سکے او بھئی پہلے صحافت سیکھو تھرتھلی مچانا کہاں کی صحافت ہے آپ اپناموقف لو اور پروگرام کرو جو صحافی کا کام ہے اس طرح پبلک میں کھڑے ہو کر کسی شہری کو تھپڑ مارنا گھٹیا حرکت ہے؟
ہاے کاش تجھے موت کا خوف ہو تیری اوقات کیا ہے میری اوقات کیا ہے صرف ایک جھٹکا لگنے کی دیر ہے سارا تیرا اور میرا رنڈی خانہ نکل جاے گا۔بے شک میرا رب معاف کرنے والا ہے اور توبہ کے دروازے کھلے ہے ہمارے لیے
پاکستان کو میرا سلام، دل دل پاکستان جان جان پاکستان
ہانلی بازار میں ارطغرل سے ٹکرانے والا آفندی سائمن بھی پاکستان کی محبت میں گرفتار۔
پاکستانی سماجی شخصیت مصور عباسی کے ساتھ دل دل پاکستان پکار اٹھا۔
مصطفیٰ لبیپ گوکھان (آفندی سائمن) عنقریب پاکستان میں اپنے مداحوں کے درمیان ہوں گے