جیل تو جیل ہوتی ہے۔۔حسان سے جمعرات والے دن ملاقات ہوتی ہے۔۔ہماری 25 منٹ کی ملاقات ہوتی ہے۔۔ حسان کہتا ہے خان صاحب کو کہیں ہماری فکر نہ کریں ہم ان کے لیے دعا بھی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں
والدہ حسان نیازی
اوریا مقبول جان نے,
عمران خان پر بنائے گئے گھٹیا, بے بنیاد اور غیر قانونی کیسز اڑا کر رکھ دئیے!
عمران خان باقیوں سے ہزار گنا بہتر ہے,
عمران خان پر ایک کرپشن کا کیس نہیں بن سکا, اب تک سارے کیسز جھوٹ پر مبنی ہے, انتہائی گھٹیا اور غیر اسلامی کیسز عمران خان پر بنائے گئے,
ملک ریاض والا کیس بھی عمران خان پر نہیں بنتا!!
اب آپ لوگو سے کوئی سوال کرے تو یہ ساری تفصیل اپنے ساتھ نوٹ کرے!!
یہ صرف ایک شہر ہنگو کی عوام ہے
فیصلہ سازو درست فیصلہ کر لو ورنہ اب کی بار جب یہ عوام پہنچے گی تو تمھاری طاقت کو ریزہ ریزہ کرکے لیڈر کو رہا کروا کر ہی واپس جائے گی
عمران خان محمد مرسی نہیں بنے گا اور وہ عمران خان ہی رہے گا اور وہ واپس آئے گا اور تمھارے ظلم کے نظام کو ریزہ ریزہ کردے گا، وہ ضرور واپس آئے گا اور عوام کی طاقت سے واپس آئے گا
جہاں سٹی انجیو کی مشین ہی فعال نہیں پمز کے اس کارڈیک ہسپتال میں عمران خان کو لایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف آنکھ اور بی پی چیک ہوا۔ اور آنکھ کے لئیے بھی وہ بتا رہے کہ ڈاکٹر شفاء انٹرنیشنل سے آئے ہوئے تھے۔اس کا مطلب ہے کہ آنکھ کے ساتھ ساتھ باقی کوئی علاج بھی پمز میں ممکن نہیں۔
سب اس پر لازمی بات کریں۔
الجزیرہ ٹی وی بھی عمران خان کی صحت کے متعلق بول پڑا
کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کی بنائی چلی گئ ہے
جبکہ انہیں علاج کی سہولت نہیں دی گئی نا ذاتی معالج کو ملنے دیا
ہمیں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کے ساتھ عمران خان کا مکمل میڈیکل check-up چاہیئے اور وہ بھی ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں۔
خان کی بیماری کو نورمالائز نہیں ہونے دینا اس پر سوشل میڈیا زیادہ سے زیادہ شور مچائیں
عمران خان کو الشفاء ہسپتال شفٹ کیا جاۓ۔
ڈان اخبار نے آج اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ن لیگ حکومت سپریم کورٹ فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرتے ہوئے عمران خان کو اسپتال شفٹ کرکے اور تسلی بخش طبی معائنہ کروا کے نیک نامی کما سکتی تھی لیکن اس نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ۔
حکومت عمران خان کو عوام کی نظروں سے دور رکھنا چاہتی ہے لیکن حکومت کی insecurity بتا رہی عمران خان آج بھی اسی طرح relevant ہیں
ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ان تین سالوں میں کوئی ایسا ظلم نہیں ہے جو عمران خان پر نہ کیا ہو۔ اس کے باوجود ایک شخص نہیں ٹوٹ رہا، تین سال ہو گئے ہیں۔ تو اب تو اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا چاہیے کہ جس کے ساتھ پچیس کروڑ عوام کھڑی ہو، اور اس کے مقابلے میں پاکستان میں کوئی دوسری پارٹی بھی نہ ہو، پھر آپ اس کے ساتھ یہ سب کیسے کر سکتے ہیں؟