"چارسدہ، خیبر اور کرک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو م��ید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔
آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری م��احل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔
میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔
پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
“In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure.
Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. The nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how?” -
Message from illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan (October 9, 2025)
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول ��الا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں ���کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھ�� پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عا�� پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پ��جاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑ��ئی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علا��ہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں مع��شی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)
“I extend my heartfelt congratulations to all members of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on the successful and dignified completion of the transition process within the provincial government. The way our members stood firmly by the party’s ideology and voted, without hesitation or reservation, for my nominee for Chief Minister is truly commendable. I also pay tribute to Ali Amin Gandapur, who, without any reluctance, tendered his resignation, not just once but three times. This smooth transition is clear evidence that the ideology of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) continues to be strong in Khyber Pakhtunkhwa.
My message specifically for Sohail Afridi is that he is my opening batsman, and he should play expensively and with full confidence.
PTI is the largest political party in the country. To label those associated with it as ‘traitors’ merely because they disagree with a particular policy is extremely dangerous. Those who distribute certificates of treason and label others as ‘anti-state’ for political convenience must be stopped.
As a politician, it is my democratic right to critique any policy that goes against the public interest, national integrity, or democratic principles. I have always opposed, and will continue to oppose, any such policy that harms Pakistan’s interests. The people of Khyber Pakhtunkhwa have given us their mandate, and we are accountable not to the DG ISPR but to the people of Khyber Pakhtunkhwa. Therefore, we shall never act against the interests of Pakistan or its people.
I have no enmity with the Pakistan Army. The Army is mine just as the country and its people are mine. Many members of my own family have served in the armed forces. During the 1965 war, people from seven out of eight houses in our Zaman Park community were serving in the Army, defending the nation. It pains me deeply when soldiers lose their lives in the war against terrorism. Yet instability persists, and lives continue to be lost on both sides.
History bears witness that military operations alone cannot eradicate terrorism. Our principled stance is that military operations in Khyber Pakhtunkhwa are unacceptable, as lives of innocent civilians are lost under the label of ‘collateral damage’ and people are displaced from their homes. Large-scale operations have been carried out for decades in an attempt to eliminate terrorism, but the menace persists. Precious lives are lost every year, whether the martyrs are soldiers, police officers, or innocent civilians.
I have always maintained that to achieve the complete elimination of terrorism, decisions cannot be made behind closed doors. What is needed is a comprehensive strategy based on political wisdom and inclusivity. Any policy formulated without the consultation and participation of political representatives and the Khyber Pakhtunkhwa government is unacceptable. All key stakeholders, including local tribal leaders, the Khyber Pakhtunkhwa and federal governments, and the Afghan government must be consulted in determining counterterrorism policies. Without meaningful dialogue with Afghanistan, the issue of terrorism cannot be resolved.
I once again instruct the new Khyber Pakhtunkhwa government to engage all parties involved and formulate an effective and comprehensive strategy against terrorism. One that ensures sustainable peace in the province and ultimately leads to economic recovery.
In every democratic society, citizens have the fundamental right to peaceful protest. To use violence against unarmed people and open fire on them is completely unacceptable. The brutality inflicted upon Tehreek-e-Labbaik workers is the same injustice that PTI has been enduring for the past three years. A similar massacre occurred on November 26th (2024) at D-Chowk when our unarmed supporters were fired upon by snipers. I strongly condemn the inhumane violence and the shooting of unarmed citizens in the Muridke tragedy.”
Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
اسلام آباد ڈی چوک ہو، کوئٹہ ہو، فاٹا میں ڈرون اٹیک ہو، یا پھر مریدکے ہو۔۔۔
نہ بھولیں گے نہ بھولنے دیں گے
سوال ایک ہی ہے: #گولی_کیوں_چلائی؟
نہتے پاکستانیوں کو شہید کیوں کیا؟
معصوم بچوں کو شہید کیوں کیا؟
جواب تو دینا پڑے گا
#FascismUnderAsimLaw
“عمران خان کو قید ہوئے آج 800 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ جیل کی دیواریں اس حوصلے کو قید نہیں کر سکیں جو قوم کے دلوں میں زندہ ہے۔اُسی سچائی کی علامت ہیں جس نے کروڑوں دلوں کو جگایا۔وقت گزر جائے گا، مگر تاریخ یاد رکھے گی کہ ایک لیڈر نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ 🇵🇰”
#نہ_خان_جھکا_نہ_عوام
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لا��وں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت ��سی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈال�� کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے ��ر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
پانچ اگست کپتان عمران خان کی سالگرہ کا دن
پی ٹی آئی ایم پی اے سندھ اسمبلی ریحان بندوکڑا کا "عمران خان ڈے" کے موقع پر میلینیم مال کے مقام سے ویڈیو پیغام
#HappyBirthdayImranKhan
قومی کرکٹ ٹی�� کے کھلاڑیوں سے درخواست ہے کہ فائرنگ کرنے اور جہاز گرانے کی بجائے آج کرکٹ پر توجہ دیں تو بہتر رہے گا ۔
فائرنگ اور جہاز گرانا پاک فوج کا کام ہے وہ کام فوج نے انڈیا کے خلاف اچھے سے کیا ۔
آپ کو ان نخروں کے نہیں بہترین کرکٹ کھیلنے کے پیسے ملتے ہیں ۔
بہتر ہوگا اس پر توجہ دیں ۔🙏🏻
#AsiaCup2025
#IndiaVsPakistan
“Pakistan’s defense pact with the Kingdom of Saudi Arabia is a welcome development. Discussions for such an agreement were ongoing during our time in government as well. Every Muslim desires that the security of the Haramain Sharifain is guaranteed, and it is a matter of pride and honor for every Pakistani to have this privilege.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s message from prison (22 September 2025)
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھ��ے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال ��ے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025