#Blasphemy accusations are being weaponized again in #Pakistan. Burnt Quran pages + #Christian photos mailed to spark mob violence in #Karachi.
Accusation alone destroys lives—no proof required.
System doesn't protect faith—it weaponizes it.
https://t.co/v9MhU3JQ7i
جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے اپنے حالیہ مضمون میں شکوہ کیا ہے کہ آج پاکستان میں وکلا تحریک جیسی کوئی مزاحمتی لہر کیوں دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے وہ ایک ایسے بنیادی سوال سے گریز کرتے ہیں جس کے بغیر پوری بحث ادھوری رہ جاتی ہے: آخر 2007ء سے 2009ء کے درمیان چلنے والی وکلا تحریک کو وہ غیر معمولی میڈیا توجہ کیوں حاصل ہوئی جو پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور احتجاجی تحریک کے حصے میں آئی ہو؟
پاکستان میں کوئی تحریک محض اپنے اخلاقی جواز یا عوامی صداقت کے بل پر ہر ٹیلی ویژن اسکرین پر چھا نہیں جاتی۔ قومی بیانیے میں جگہ حاصل کرنا ایک سیاسی عمل ہے۔ کوئی دروازے کھولتا ہے، کوئی راستہ ہموار کرتا ہے، اور کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی آواز پورے ملک کو سنائی جائے گی اور کون سی خاموشی میں دفن کر دی جائے گی۔
وقت گزرنے کے ساتھ وکلا تحریک کے گرد ایک ایسی داستان تعمیر کر دی گئی ہے جس میں اس کے تمام پیچیدہ اور متنازع پہلو تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ اسے ایک خالص، خود رو اور عوامی جمہوری بیداری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے تنِ تنہا ایک فوجی حکمران کو للکارا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ لیکن واقعات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وکلا تحریک کو اس وقت غیر معمولی قوت ملی جب ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ یہ محض سڑکوں پر نکلنے والے وکلا کی جدوجہد نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے ایوانوں میں جاری ایک بڑی کشمکش کے ساتھ بھی جڑی ہوئی تھی۔ ریاستی ڈھانچے کے اندر موجود مختلف قوتیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھیں اور وکلا تحریک اس وسیع تر تصادم کا ایک مؤثر اظہار بن گئی۔ اگر مقتدر حلقوں کے اندر یہ تقسیم موجود نہ ہوتی تو شاید یہ تحریک نہ وہ رفتار حاصل کر پاتی، نہ وہ تحفظ میسر آتا اور نہ ہی اسے وہ مسلسل میڈیا کوریج نصیب ہوتی جس نے اسے ایک قومی تحریک کی شکل دی۔
اس بیانیے کا سب سے کمزور اور شاید
سب سے زیادہ مبالغہ آمیز پہلو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی شخصیت کے گرد پیدا کی گئی تقدیس ہے۔ آج انہیں جمہوری مزاحمت کے ایک استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا ادارہ جاتی سفر ایک بالکل مختلف کہانی سناتا ہے۔ ایک صوبائی جج سے چیف جسٹس پاکستان کے منصب تک ان کی ترقی انہی طاقت کے مراکز کی سرپرستی میں ہوئی جن کے ساتھ بعد میں ان کا تصادم پیدا ہوا۔ اس دور میں انہیں ریاستی نظام کا ناقد نہیں بلکہ اس کے نمایاں مستفیدین میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہیں بعد ازاں ایک ایسے جمہوری ہیرو کے طور پر پیش کرنا جو ہمیشہ سے طاقت کے خلاف برسرِ پیکار رہا ہو، تاریخ کو یاد کرنے سے زیادہ اسے ازسرِ نو تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا مضمون ایک اور وجہ سے بھی توجہ طلب ہے۔ وہ اس پورے عہد میں اپنے کردار کا ذکر تقریباً سرے سے نہیں کرتے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی تحریر یوں محسوس ہوتی ہے جیسے اُس زمانے کے سیاسی واقعات کو مقتدر حلقوں کی سرپرستی، اشرافیہ کی باہمی رقابتوں اور ریاستی اداروں کے پیچیدہ کردار کا حوالہ دیے بغیر سمجھا جا سکتا ہو۔ حالانکہ یہی عوامل اس پورے دور کی سیاست کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آج وکلا تحریک کیوں موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اب تک گزشتہ وکلا تحریک کے بارے میں ایک ایسے بیانیے سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں جو خود احتسابی کے بجائے خود ستائی پر مبنی ہے۔ حقیقی عوامی تحریکیں ریاستی سرپرستی، اشرافیائی پشت پناہی یا دن رات جاری رہنے والی میڈیا تشہیر کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کی قوت عوامی شرکت، اجتماعی یقین اور مسلسل جدوجہد سے پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے بہت سے سیاسی تنازعات اور اقتدار کی کشمکشیں بعد میں جمہوریت کی مقدس داستانوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ وکلا تحریک بھی بتدریج ایسی ہی ایک مقدس روایت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کے پس منظر، محرکات اور حقیقی سیاسی سیاق و سباق پر سوال اٹھانا بعض حلقوں میں گویا گستاخی کے مترادف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ دستیاب شواہد ایک کہیں زیادہ پیچیدہ اور کم رومانوی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاریخ کو اساطیر نہیں، دیانت داری درکار ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو افسانوں کے پردے میں دیکھتی ہیں، وہ اپنے حال کو بھی غلط سمجھتی ہیں۔ جب تک ہم آسان اور دلکش داستانوں کے بجائے غیر آرام دہ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، تب تک نہ ہم اپنے سیاسی ماضی کا درست ادراک حاصل کر سکیں گے اور نہ اپنے موجودہ بحرانوں کی حقیقی نوعیت کو سمجھ پائیں گے۔
https://t.co/339BNd3sF2
مان نوجوان ڊاڪٽر آڪاش ڪمار جي دردناڪ قتل جي سخت ترين لفظن ۾ مذمت ڪريان ٿو ۽ هن ڏکئي وقت ۾ سندس خاندان سان دلي تعزيت جو اظهار ڪريان ٿو. پيپلز پارٽيءَ جي قيادت ۾ هلندڙ سنڌ حڪومت پاران پنهنجي شهرين جي جان و مال جي تحفظ ۾ مسلسل ناڪامي، هاڻي هڪ انتهائي ڳڻتيءَ جوڳو معاملو بڻجي چڪي آهي. امن امان کي يقيني بڻائڻ ۽ معصوم زندگين کي تحفظ ڏيڻ بدران، حڪومت سنڌ ۽ سنڌو درياءَ جي نالي تي رڳو سياسي ڊراميبازيءَ ۾ مصروف آهي، جڏهن تہ ٻئي طرف هتي روز ماڻهو پنهنجيون جانيون وڃائي رهيا آهن.
ڪنهن بہ حڪومت جي پهرين ۽ بنيادي ذميواري پنهنجي شهرين کي سيڪيورٽي فراهم ڪرڻ ۽ سندن زندگيءَ جو تحفظ ڪرڻ هوندو آهي. مان هن واقعي جي فوري ۽ شفاف جاچ ڪرڻ سان گڏوگڏ ملوث جوابدارن کي جلد کان جلد گرفتار ڪرڻ جو مطالبو ڪريان ٿو…!
I strongly condemn the tragic killing of young Dr. Akash Kumar and extend my deepest condolences to his family during this painful time. The repeated failure of the PPP-led Sindh government to protect the lives of its citizens has become a matter of grave concern. Instead of ensuring law and order and safeguarding innocent lives, the government remains occupied with political theatrics in the name of Sindh and the Indus while people continue to lose their lives. The foremost responsibility of any government is to provide security and protect its citizens. I demand an immediate and transparent investigation and the arrest of those responsible.
#Karachi #SayedZainShah #SindhUnitedParty #ZainShah #Teentalwar #DrAkash
حیدرآباد ھائی وے پر سندھ وائیلڈ لائیف حیدرآباد ڈویڑن کی لا انفورسمنٹ کاروائی۔
کاچھو ضلع دادو کی ریاستی ملکیت والی زمینوں سے غیر قانونی طور کاٹے گئے پیلو کے طویل عمر درختوں کی لکڑی سے بھرا کنٹینرز برآمد۔ غیر قانونی کاٹی گئی لکڑی کو بند کنٹینر میں چھپایا گیا تھا۔ ریاستی زمینوں پر پیلو کے صدیوں پرانے درخت قوانین کے تحفظ یافتہ ہیں، یہ ماحول دوست اور ڈزرٹیفکیشن کنٹرول کرتے ہیں۔ مقامی جنگلی حیات کو مسکن اور خوراک فراھمی کا اھم ذريعہ ہیں۔
ویلیو ایڈیڈ ووڈ پراڈکٹس کی فیکٹریاں قائم ہونے کے بعد پیلو کی لکڑی کی مارکیٹ ڈمانڈ پیدا ہوگئی ہے جو ریاستی ملکیت والی زمینوں سے ان کی بے دریغ کٹائی کا سبب بن رہی ہے۔ اس ظلم کو روکنا ہوگا جو جنگلی حیات اور نسلوں کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
مزید برآں کہ پيلو کے پتے اونٹ کی پسندیدہ خوراک ہیں۔ انکی بے دریغ کٹائی صوبہ میں اونٹوں کی نسل کے لیے بھی سنگین خطرات کا سبب بنی ہوئی ہے۔
خلاف ورزی پر قوانین تحفظ جنگلی حیات صوبہ سندھ کے تحت چار ملزمان ترس محمد ساکن ضلع رحيم يار خان، عابد حسين ساکن خيرپور ميرس، وارث چانڊيو ساکن جوھی ضلع دادو اور اسلم کے خلاف سندھ وائیلڈ لائیف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت انسپیکٹر غفار جمالی کی مدعیت میں فوجداری مقدمہ درج۔ ٹرائل بعدالت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس کورٹ جامشورو پیش کیا جائیگا۔
#SindhWildLife🇵🇰 #DaduDistrict #Habitat #Salvadora #Protection #Ecology
Three girls; Sughra, 13, Rabia, 4, Kaneeza, 3; crushed under a collapsing govt school wall in Gamoori Kori, Umerkot. Not an accident. Murder by neglect.
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
مطالعہ پاکستان میں پڑھا تھا اور ایمان تھا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اسے اللہ پاک نے فارغ وقت میں 27 ویں کی رات بیٹھ کر اپنے مبارک ہاتھوں سے بنایا ہے ۔ والد تبلیغی جماعت میں تھے ۔ چھوٹے شہر میں رہنے کے باوجود غیر ملکی جماعتوں کی صورت میں بین الاقوامی ایکسپوزر باآسانی دستیاب تھا۔ انگریزی بولنے کی مشق بھی اچھی لگتی تھی ۔ ویسے بھی مدارس کے طلبہ میں شاید میں تنہا انگریزی تعلیم بھی نہ صرف حاصل کر رہا تھا بلکہ وہاں بھی بہترین کے درجہ میں تھا۔
پہلی بار آسٹریلیا سے آئی ہوئی ایک عرب اوریجن کی جماعت سے لوگوں سے فخریہ پوچھا کہ انہیں اسلام کے قلعہ میں آمد پر کس قدر فخر ہے ۔
توقع تھی کہ وہ اچھل کر بتائیں گے کہ ہمیں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ص کی زیارت سے زیادہ فخر ہے ۔
مگر جھٹکا لگا ۔ پہلی بار ۔ پہلے مخاطب نے
مجھ سے اسلام کا قلعہ کی ڈیفینیشن جاننا چاہی۔
میں نے بھرپور مغالطہ پاکستان انڈیلا ۔
مگر اس ڈھیٹ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا ۔
الٹا اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے مسلمان غریب ۔ یتیم ۔ مسکین اور جاھل ہیں ۔ ہم یہاں اس لئے آتے ہیں کہ انہیں اچھی باتیں بتائیں ۔
اسی طرح کے انٹرویو میٹرک سے پہلے پہلے
تین چار درجن کرنے کے بعد علم الیقین ہو گیا کہ مغالطہ پاکستان میں پڑھائی جانے والی باتیں عملی زندگی میں بس ایویں جعلی کشکہ یا مورال بوسٹنگ قسم کی لغویات ہوتی ہیں ۔
تحریر
شرافت رانا
میموری سے
ایک بہت پرانی تحریر
"The years from 2018 to 2022 were also the last phase of hybrid-politics in Pakistan: Mr. Khan’s government was the last that enjoyed a close to equal status with
the military in decision-making...The country’s parliamentary or constitutional democracy has now effectively turned into constitutional militarism in
which Parliament has turned willingly into a junior partner to the armed forces ready
to bring about legal changes that can only further strengthen the GHQ’s control of the
state without declaring a martial law." https://t.co/cbLrfX5M0Y
#EU lectures on values, rights & justice — yet funds #Pakistan’s blasphemy laws, minority persecution, forced conversions & disappearances via #GSP+.
How many violations are too many? When does trade stop trumping human dignity? Silence shouldn’t be rewarded. #SuspendGSP+
Two minor #Hindu girls, Naila & Sheetal, abducted in Tando Muhammad Khan, #Sindh. Raped, forcibly converted & married to older men.
Pakistan’s endless failure to protect its daughters & #minorities. This is not faith — it’s predation. When does it end?
کل یعنی چھ جون کو سندھ کے ضلع بدین کی تحصیل ٹنڈو باگو کے قصبے خداآباد میں سندھ پولیس نے ایک نوجوان کے جنازے اور تدفین کو اس لیے روکنے کی بزور طاقت کوشش کی کہ اس کا تعلق احمدیہ کمیونٹی سے تھا اور اس کا جنازہ مسلمانوں کی طرح نہیں پڑھا جا سکتا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی شدت پسندی ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ تاہم سندھ طویل عرصے تک اس رجحان سے نسبتاً محفوظ رہا۔ افسوس کہ اب مذہبی شدت پسند عناصر سندھ میں اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر چکے ہیں کہ لوگوں کو اپنے پیاروں کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
یہ ایک نہایت افسوسناک اور تشویش ناک صورتحال ہے۔ اس نوعیت کا واقعہ کہیں پر بھی پہلے دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے، اس میں ملوث مذہبی شدت پسند عناصر اور ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے اور انہیں ایسی عبرتناک سزا دے کہ آئندہ کسی کو اس قسم کی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو۔
سندھ ہمیشہ رواداری، برداشت اور امن کی دھرتی کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے۔ اس شناخت کا تحفظ حکومت اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
@MuradAliShahPPP@ZiaLanjar
The complete collapse of electricity supply across the SEPCO region is exposing the failure of those entrusted with providing basic services to the people. When hospitals are left without power, ventilators stop functioning, and human lives are put at risk, this is no longer a technical fault, it is criminal negligence. The rulers continue to make grand claims of development, yet citizens are struggling for the most basic necessities.
The violation of rights of Sindh and its coastal ecology is strongly condemned. The government should learn from the Flamingo 🦩 Revolution in Albania 🇦🇱
On World Oceans Day, we are reminded that Sindh’s coastline, marine resources, and coastal communities are invaluable assets that must be protected. Environmental degradation, unchecked exploitation of resources, and climate change are threatening the future of our seas and the livelihoods of thousands who depend on them.
Protecting our oceans is not only an environmental responsibility but also a matter of economic justice and the survival of future generations. The preservation of Sindh’s coast and marine ecosystem must be treated as a national priority.
Now that the investigation in Larkana has confirmed that the homeowner is a Muslim and not an Ahmadi, the cleric who falsely accused him, defamed him, and incited religious unrest should be arrested and held accountable.
1/2
@MuradAliShahPPP@BBhuttoZardari