آج ہشتنغر کی سرزمین آپ کے اس فقید المثال اجتماع کے ذریعے ہمارے محبوب، شہید، مخدوم حضرت مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ مولانا کی شہادت یہ ایک خاندان کا نقصان نہیں، ایک شہر اور ایک علاقے کا نقصان نہیں، یہ امت کا نقصان ہے اور آج صوبہ خیبر پختونخواہ نے ثابت کر دیا کہ کرہ عرض کے تمام مسلمانوں کے دل اپنے شہید کے ساتھ ہیں، تم ایک ادریس کو شہید کروگے ان کے خون کے ایک ایک قطرے سے شیخ ادریس پیدا ہوگا اور آج شیخ ادریس بزبان حال کہہ رہا ہے
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے دشمنوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
وہ زندہ ہیں، ان کی آواز زندہ ہے، اُس کی روح زندہ ہے، اُس کا نصب العین زندہ ہے، اُس کی جماعت زندہ ہے اور ان شاءاللہ اس زمین پر اسلام کا انقلاب برپا کر کے اپنے منزل کو حاصل کریں گے ان شاءاللہ العزیز۔
کسی نے سوچا ہوگا کہ اس بند مرد قلندر کی شہادت سے لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، کارکنوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، جمعیۃ کا کارکن مایوس ہو جائے گا، لیکن آج کے اجتماع نے دنیا کو بتا دیا، اپنے دشمنوں کو بتا دیا کہ تم ہمارا کتنا خون بہاؤ گے ہمارے قطرے قطرے سے ہزاروں نوجوان اٹھیں گے اور اس انقلاب کی کمان اپنے ہاتھ میں سنبھالیں گے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
جمعیۃ علماء اسلام کی پشت پر دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ موجود ہے اور جب تک برصغیر کی سیاست علماء کی قیادت میں تھی برصغیر میں آمن تھا، کوئی فسادات نہیں تھے، پورا برصغیر ایک آواز تھا، لیکن جب سے علماء سے قیادت چھینی گئی اور انگریز کے پروردہ لوگوں کے ہاتھ میں قیادت آئی تو پھر ان کا تو نظریہ ایک ہی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، پھر تمہاری سیاست نے یہاں خون بہایا اور آج تک وہ خون تھم نہیں رہا ہے، انسانیت کا قتل ہو رہا ہے، اس تین چار دہائیوں میں کتنے مسلمان اس خطے کے وہ تہہ تیغ ہوئے، قربان ہو گئے اور ابھی تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے حکمران جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان کی حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں، تم انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے، آج اس اجتماع میں مجھے ملکی معیشت پر بات کرنی تھی، آج مجھے اس قوم کے حقوق پر بات کرنی تھی، کیا وجہ ہے کہ آج بھی میرا کارکن، ہر پاکستانی شہری وہ امن و امان کی بات کر رہا ہے، لیکن سنو اور بار بار سنو ہماری آواز کو، یہاں پر فرقوں کو لڑایا گیا، فرقہ واریت کی نفرتیں پیدا کی گئی، جمعیۃ علماء اسلام میدان میں ڈٹ گئی اور اس لہر کو شکست دے دی، اس ملک میں لسانیت کی بنیاد پر، قومیتوں کے بنیاد پر، علاقائیتوں کے بنیاد پر نعرے لگائے گئے، نفرت اس ملک میں پھیلائی گئی لیکن ایک جماعت، جمعیۃ علماء کی صورت میں میدان میں کھڑی رہی، نفرتوں کو مسترد کیا، نفرتوں کے نعروں کو مسترد کیا، نفرتوں کے نظریات کو مسترد کیا اور الحمدللہ ہر محاذ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں اور اس ذہنیت کو ہم نے شکست دی۔
تو آپ ایسا نہ سمجھیں کہ آپ کو حکومت نہیں مل رہی، آپ ایک تاریخ ہیں، آپ ایک نظریہ ہیں، آپ ایک نصب العین ہیں، تم نے دینِ اسلام کے اور علومِ دینیہ کے بنیادی اور اساسی اداروں کو ختم کرنی کی کوشش کی اور اب بھی تمہاری کوشش جاری ہے لیکن میں نے بھی کھل کر اعلان کیا ہے کہ تمہارے ان منصوبوں کو، جس طرح انگریز کے منصوبوں کو ہم نے ناکام بنایا، ان کے پروردہ حکمران ذہنیت کو بھی ان شاءاللہ ہم شکست سے دوچار کریں گے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
آج پاکستان میں جمہوریت کدھر ہے؟ اور جب ہماری مقتدرہ کے ہاتھوں سے جمہوریت یرغمال ہوگئی ہے، جب ہماری مقتدرہ جمہوریت کی روح کو اپنے قبضے میں لیے ہوئی ہے اور اپنی مرضی سے جمہوریت کو سانس لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر کچھ لوگ ان کے ایجنٹ بن کر کہتے ہیں جمہوریت کفر ہے۔ تو جب جمہوریت مغرب میں ناکام ہے، کمیونزم مشرق میں ناکام ہے تو حل صرف ایک ہی ہے کہ اسلامی معشیت کو اپنائیں، اسلام کی شورائیت کو قبول کریں، اسلام کے تصورات کو قبول کریں، اسلام ایک متبادل نظام ہے جو انسان کے فلاح و بہبود اور حقوق کا محافظ نظام ہے۔
آج جب جمعیۃ علماء عوام میں مقبولیت رکھتی ہے تو کون ہے جو اسمبلی میں میرا راستہ روکتے ہیں، میں تو اسمبلی کا راستہ اپنا رہا ہوں، میں تو پارلیمان میں کردار ادا کر رہا ہوں، عوام میرے ساتھ ہیں۔ گلگت میں ہم نے دو سیٹیں جیتیں، پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ یہ جمعیۃ نے جیتی ہے ہم نے نہیں، اور پھر الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ پندرہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن ہوگا، ایک دن دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا اور دوسرے دن الیکشن کا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا کہ یہ جیت گئے ہیں اور یہ ہار گئے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن انصاف کی الیکشن کر رہے ہیں؟ آپ نے بلوچستان کے ضمنی الیکشن میں ہمارے ساتھ کیا کیا ہے، آپ نے اس صوبے کے الیکشن میں میرے سامنے دھاندلیاں قبول کی ہے، یہ جتنی عوام بیٹھی ہے ان سب کا نمائندہ میں ہوں۔ یہاں پر بیٹھے عوام کی میں نمائندگی کر رہا ہوں اور آپ کو اس پر باخبر کر رہا ہوں کہ میرے سامنے انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ہم نے آپ سے کتنی سیٹیں چھینی ہیں۔ دھاندلیوں کے اعتراف کیں ہیں، جمعیۃ کے سیٹوں پر ہاتھ ڈالنے کے اعترافات کیں ہیں، یہ الیکشن میں جمہوریت کے معیار مان لوں، اسی الیکشن پر شہباز شریف حکومت کرے گا اور میں کہوں گا کہ یہ جائز حکومت ہے؟مجھے انہوں نے دعوت دی ہے کہ آؤ حکومت میں شامل ہو جاؤ، میں نے کہا اصل نتیجہ میرے ہاتھ پہ رکھا پھر بات کریں گے اور اگر اصل نتیجہ مجھے نہیں دوگے تو میں اسمبلی میں چند سیٹوں پر آپ کو آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اس ملک میں کوئی نمائندہ حکومت نہیں ہے، جہاں حکومت بنتی ہے ہماری مقتدرہ انتخابات کو منیج کرتا ہے، ہارے ہوئے کو جتوانا، جیتے ہوئے کو ہروانا اب تو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے، اور پھر جب ٹرمپ ان کو پیٹھ پر تھپکی دیتے ہیں کہ بہت کام کے بندے ہو، ہم انصاف سے کام لے رہے ہیں، ہم جس بات کو جائز سمجھتے ہیں اس کو جائز کہا ہے اور جس کو غلط مانتے ہیں تو ان کو ببانگ دہل غلط کہتے ہیں۔ آپ نے انڈیا کے ساتھ جنگ کی تو سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، آپ نے ایران اور امریکہ کی ثالثی کی سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک کامیاب حکومت ہے، آپ اپنے ملک میں عوام کو زندگی نہیں دے سکتے، امن نہیں دے سکتے تو یہ حکومت کوئی حکومت نہیں ہے۔
ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، ہم نہیں بنا رہے، لیکن میں آئی ایم ایف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا بجٹ آپ بناتے ہیں تو ہماری حکومت کو آپ کہتے ہیں یہ ٹیکس لگاؤ یہ ٹیکس لگاؤ، یہاں ٹیکس لگاؤ یہاں ٹیکس لگاؤ، آئی ایم ایف والو کبھی تم نے میری حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو، کرپشن پروان چڑھ رہا ہے، ہر دفتر کرپشن کا مرکز بن گیا ہے، ہر افسر نے کرپشن کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں اور پھر کہتے ہو ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہو رہی۔
تو اس لحاظ سے ہم نے آگے بڑھنا ہے، ہمیں کامیابیاں ملی ہیں اور ابھی میرے سامنے ذکر ہوا چھبیسویں آئینی ترمیم کا، تو آئینی ترمیم میں یہ طے ہوا ہے کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے ملک کے اندر سود ختم ہو جائے گا، کہیں نظر نہیں آ رہا کسی محکمے میں اور کسی بینک میں کہ سود کے خاتمے کے انتظام ہو رہے ہوں، یہ ہے آئین کا وہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے، آئین پر عمل درآمد کرنا اور آئین سے وفاداری کا یہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے یہاں پر آپ جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں، آپ نے وفاقی شرعی عدالت کو مؤثر بنانے کے لئے آئینی ترمیم کی، وہاں علماء کے سیٹیں خالی ہیں ابھی تک خالی ہیں، آپ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اسمبلی میں بحث کرنے کو آئین کا حصہ بنایا آج تک ایک بھی سفارش بحث کرنے کیلئے اسمبلی میں پیش نہیں ہوئی، یہ ہے آئین کا حلف، اسے کہتے ہیں آئین پر عمل درآمد، ایک دباؤ میں آ کر جب تم فیصلہ کر لیتے ہو، بات مان جاتے ہو، پھر جب وہ دن نکل جاتے ہیں پھر تمہیں یاد ہی نہیں رہتا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اپنے لئے کیا کہ تاحیات اب میں مستثنیٰ ہوں گا کوئی مقدمہ میرے خلاف نہیں ہوگا، زرداری صاحب! ہم کب آپ پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ استثناء آپ نے حاصل کیا اور کل صدارت کے بعد تم نے کوئی جرم کر لیا، کسی کو قتل کر لیا تم سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا، کیا اس طرح کا استثناء خود رسول اللہ ﷺ نے لیا ہے؟ کیا اس طرح کا استثناء خلفاء راشدین نے لیا ہے؟ اگر اس طرح کا استثناء انبیاء نے نہیں لیا، رسول اللہ ﷺ نے نہیں لیا، آپ کون ہوتے ہیں کہ آپ جرم بھی کریں گے اور آپ کی خلاف کوئی مقدمہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ ہمارے بڑے بڑے عہدیدار اب تاحیات مراعات لیتے رہیں گے، یہ تو پاکستان کے غریب لوگوں کا استحصال ہے، غریب کو روٹی نہیں مل رہی، غریب کو زندگی نہیں مل رہی، غریب اپنے بچوں کی سکول کے فیس نہیں دے سکتا، غریب اپنے بچوں کے علاج کے لیے دوائی نہیں خرید سکتا، عام آدمی کی حالت یہ ہو گئی ہے اور آپ لوگ ہیں جو پاکستان کے خزانے کے مالک بنے ہوئے عیاشیاں کر رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام تمہاری ان عیاشیوں کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اگر اس ملک کو چلانا ہے شائستگی کے ساتھ چلانا ہے، آئین اور قانون کی روشنی میں چلانا ہے تو پھر جمعیۃ علماء اسلام کا راستہ کھولنا ہوگا، ہمیں مجبور مت کرو پھر، اگر تو گھی آرام سے ڈبے سے باہر آئے تو ٹھیک ورنہ پھر ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا۔ پاکستان میں جو سیاست ہو رہی ہے یہ سیاست آئین کی سیاست نہیں ہے، دلیل کی سیاست نہیں ہے، یہ قوت کی سیاست ہے، او معقول طریقے سے ہمارے ساتھ بات کرو، ہمیں مجبور مت کرو، آج اگر ہم نے آواز دی پورا پاکستان اول تا آخر اسلام آباد کی طرف چلنا شروع کر دے گا، ہمارے صوبے میں خون بہہ رہا ہے، بلوچستان میں خون بہہ رہا ہے اور ابھی کشمیر کے اندر خون بہانا شروع کر دیا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ ڈیمانڈ پیش کیا ہے، سادہ قسم کی باتیں ہیں کوئی ایسی مشکل بات نہیں کہ اس کے لیے گولی چلائی جائے بلکہ بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے اور مسئلہ کو شائستگی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
آپ کی تحریک ان شاءاللہ چلتی رہے گی، جاری رہے گی، بیٹھنا تو نہیں نا آپ لوگوں نے، سفر جاری رکھنا ہے۔ میں پشین گیا تھا وہاں تا حد نظر لوگوں نے بہت بڑا اجتماع کیا، اس کا اثر آپ کی صوبے پہ ہوا، آپ کے لوگ جاگ اٹھے، آج تا حد نظر یہاں انسانیت جمع ہے اور ان شاءاللہ گیارہ جولائی کو پنجاب کے شہر قصور میں اتنا ہی بڑا جلسہ ہوگا اور یہ سفر آگے بڑھتا جائے گا، یہ سلسلہ چلتا رہے گا، جب تک ہماری جان میں جان ہے ان شاءاللہ یہ جنگ جاری رہے گی اور آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکیں گے، میں تو واضح اعلان کرتا ہوں کہ فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈالا گیا میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اپنے کارکن کے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اس کے بعد پھر جو ہوگا اس کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی ہمارے اوپر نہیں ہوگی۔
ہم اپنے صفیں صاف رکھنا چاہتے ہیں، ہم ایک صاف اور شفاف تحریک لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں، ہم نے یہاں فتنوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے فتنوں کو شکست دی ہے۔ ہم لوگ ان حالات کے مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی جانوں پر کھیل کر مقابلہ کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ پر امن طریقے سے یہ تحریک آگے بڑھے گی، پر امن طریقے سے ہم ان شاءاللہ کامیابیاں حاصل کریں گے، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے وفادار ہیں اور اس سرزمین پر وہ نظام لائیں گے جس میں ہمارے ہر شہری کو اس کے حقوق مل سکے، جس میں ہمارے بچوں کو آسان تعلیم مل سکے، آسان علاج مل سکے، آسان زندگی مل سکے اور اسی کے لیے آگے بڑھنا ہے۔ ہم جلسوں میں لاوڈ سپیکر اڑانے والے لوگ نہیں ہیں، چھ مہینے میں ٹھیک کر دوں گا، بابا آج تک ٹھیک نہیں ہوا، آپ خود خراب ہو گئے، ٹھیک تم نے کیا کرنا ہے، ملک کو ٹھیک کرتے کرتے خود خراب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرم فرمائے اور یہ جذبہ، یہ ہمت، یہ اخلاق یہ للہیت، یہ اللہ اور اس میں اضافہ کرے اور ان شاءاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے، اگلا پڑاؤ پنجاب میں ہوگا اور پورے طاقت کے ساتھ پورا پنجاب وہاں اُمڈے گا اور بھرپور طریقے سے اس تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا، ہم پاکستان میں ناجائز حکمرانی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکتے ہیں۔ اگر مجھے ہاتھ ڈالا گیا ، میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کرونگا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہونگا، اور پھر جو ہوگا اسکے ذمہ دار بھی آپ ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کا چارسدہ میں خطاب